سوئس کمپنی نے گھڑی چوری ہونے پر متبادل دینے کا اعلان کردیا

واچ کرائم میں اضافہ کی روشنی میں برانڈ ’’ رائل اوک‘‘ کی ضمانت دی گئی، ہر گھڑی کی اوسط قیمت 55 ہزار ڈالر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

کمپنی ’’ اوڈیمار پیگے‘‘ جو سوئس لگژی واچ برانڈ ’’رائل اوک‘‘ کے نام سے معروف ہے ملک میں گھڑیوں سے متعلق جرائم میں اضافہ کے پیش نظر ایک نئی حیران کن پیشکش شروع کر دی ہے۔ اس سروس کے تحت کسٹمرز اپنے چوری شدہ گھڑیوں کا تبادلہ نئی گھڑیوں سے کر سکیں گے۔

کمپنی کے سی ای او ’’فرانسوا ہنری بنھاماس‘‘ نے ’’بلوم برگ‘‘ کو ایک انٹریو میں بتایا کہ ’’Le Brassus‘‘ برانڈ جس کی اوسط قیمت تقریباً 50 ہزار سوئس فرانک یا 55 ہزار ڈالر ہے کو 22022 یا 2023 میں خریدے جانے کی صورت میں چوری یا خراب ہونے کی بنا پر واپس کرنے یا مرمت کرنے کی ضمانت دی گئی ہے۔

’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق بینہامیاس نے مزید بتایا کہ ہم اپنے صارفین کی بات سنتے ہیں اور ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ اس وقت دنیا میں کیا ہو رہا ہے۔ ہمارے پاس یورپ اور امریکہ کے اہم شہر ہیں جو اب محفوظ نہیں رہے ہیں ۔

جرائم میں اضافہ

گھڑیوں کی چوری صنعت کے لیے ایک بڑھتا ہوا پریشان کن مسئلہ ہیں۔ اگر صارفین لگژری گھڑیاں پہننے سے ڈرنے لگ جائیں گے تو فروخت کے لیے خطرہ ہے۔ لگژری گھڑی کے برانڈ ’’Audemars Piguet‘‘ نے پہلی مرتبہ یہ قدم اٹھایا ہے کہ کسی گھڑی کی چوری ہونے کی صورت میں اس کی قیمت کی گھڑی واپس کرنے کی وارنٹی اور گارنٹی بھی فراہم کر دی ہے۔

’’بنھاماس‘‘ نے کہا کہ کوئی بھی ’’Audemars Piguet‘‘ گاہک جس نے 2022 میں یا رواں برس گھڑی خریدی ہے وہ پروگرام میں اندراج کرنے کا اہل ہوگا۔ انہیں صرف یہ ثابت کرنا ہوگا کہ انہوں نے گھڑی خریدی ہے اور وہ اب بھی اس کے مالک ہیں۔ انہیں گھڑی کی تصویر اور سیریل نمبر بھی فراہم کرنا ہوگا۔ دوسری مرتبہ فروخت کی گئی گھڑیاں اس پروگرام میں شامل نہیں ہوں گی۔

اگر کسی رجسٹرڈ گاہک کی گھڑی چوری ہو جاتی ہے اور اس کی ایک درست پولیس رپورٹ ہوتی ہے تو انہیں گھڑی کی واپسی یا تبادلہ کرنے کا اختیار دیا جائے گا۔ اگر گھڑی مزید تیار نہیں کی جاتی ہے تو کمپنی موجودہ رینج میں سے اسی طرح کا ماڈل پیش کردے گی۔

یہ سروس 2024 کے آخر تک ہر اس شخص کے لیے جاری رہے گی جس نے 2022 میں گھڑی خریدی ہے۔ اس میں 2023 مبں ’’ رائل اوک‘‘ ماڈل کی 50 ویں سالگرہ میں خریدی گئی گھڑیاں بھی خریداری کی تاریخ سے دو سال تک پروگرام کے لیے اہل ہوں گی۔

رائل اوک گھڑیوں کی مانگ

’’ Audemars Piguet ‘‘ گھڑیاں خاص طور پر "Royal Oak" گھڑیوں کا عام طور پر ثانوی مارکیٹ میں اپنی خوردہ قیمت سے زیادہ میں لین دین کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر سٹیل والی’’رائل اوک 15500 ‘‘ نیل ڈائل کے ساتھ ریٹیل میں 24800 فرینک میں فروخت ہوتی ہے۔ لیکن واچ واچ چارٹس کے مطابق یہی گھڑی سیکنڈری مارکیٹ میں تقریبا 50770 فرینک تک میں فروخت ہو رہی ہے۔

بینھاماس کے مطابق ’’ اوڈیمار پیگے‘‘ ایک سال میں لگ بھگ 50 ہزار گھڑیاں بناتی ہے۔ زیادہ تر رائل اوک اور رائل اوک آف شور ماڈل کی 2022 میں فروخت تقریبا 2 ارب سوئس فرینک تھی۔ 2021 کے مقابلہ میں یہ 26 فیصد اور 2020 کے مقابلہ میں 78 فیصد اضافہ تھا۔ کرونا وبا کے باعث مختصر مدت کے لیے ان گھڑیوں کی پیداوار اور فروخت کو روک بھی دیا گیا تھا۔

بینھاماس نے پیش گوئی کی ہے کہ تقریباً 75 فیصد اہل صارفین پروگرام میں حصہ لیں گے۔ اس نے تخمینہ لگایا کہ دو سالوں میں 100 سے زیادہ صارفین چوری کا دعویٰ کرسکتے ہیں۔ اس میں سے صرف چند ہی گھڑی کی چوری کے متعلق کمپنی کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں گے۔ اس حوالے سے جعلی پولیس رپورٹ درج کرا کر دھوکہ دیا جا سکتا ہے۔

چوری کا سدباب

یاد رہے دیگر بڑے سوئس برانڈز بھی گھڑی کے جرائم میں اضافے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے بھی چوری شدہ گھڑیوں کو تبدیل کرنے کی پیشکش نہیں کی ہے۔

واچ فائنڈر اینڈ کمپنی کے سی ای او ارجن وین ڈی وال نے بتایا ہے کہ گھڑیوں سے متعلق جرائم میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 2018 سے گھڑیوں سے متعلق 81 ہزار وارداتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں