"منسف" تاریخی پکوان جو ہزاروں برس سے اردن میں کھانوں کا بادشاہ ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

منسف، اردن کا قومی پکوان ہے جس کی ابتدا ایک قدیم جنگ اور تاریخی حوالوں سے جڑی ہے۔

ہزاروں سال پرانا یہ پکوان، روایت اور مہمان نوازی کی علامت ہے۔ یہی نہیں یہ ہر تقریب پر خصوصا رمضان کے ماہ مقدس کے دوران سحر اور افطار میں اردن کے لوگوں کی موغوب خوراک بھی ہے۔

"منسف" جسے "اردنی دسترخوان کا سردار" کہا جاتا ہے، مقامی بھیڑوں کے گوشت اور جمید سے تیار کیا جاتا ہے جو دودھ سے بنا ایک خاص قسم کا پنیر ہے اور پھر اسے سجانے کے لیے اصلی گھی، چاول، بادام اور پائن نٹس استعمال ہوتے ہیں۔

"اشرف مبیضین" اپنے دوست "تامر المجالی "کے ساتھ دارالحکومت عمان میں "مناسف مؤاب" نامی ایک معروف ریستوران چلاتے ہیں، وہ مختلف حوالوں کے ساتھ کہتے ہیں کہ "منسف بہت سے ممالک کی مشہور ڈش ہے، لیکن اس کی ابتدا اصل میں اردن سے ہوئی ہے۔

اردنی دستر خوان کا سردار

ان کے ساتھی تامر مجالی نے بتایا کہ روایتی طور پر اگر آپ اپنے مہمان کی تکریم کرنا چاہتے ہیں تو منسف سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔"

تاریخی لحاظ سے اسے مختلف طریقوں سے بنانے کے حوالے ملتے ہیں۔

اردنی منسف[اے ایف پی]
اردنی منسف[اے ایف پی]

معروف مؤرخ اور مصنف جارج طریف نے لکھا ہے کہ "منسف بنیادی طور پر گوشت کے قیمے، دودھ، اور شراک روٹی (پتلی روٹی) سے بنایا جاتا تھا"

بعد میں، "منسف کے لیے اہم جزو برغل (دلیہ) بن گیا، اور پھر انیسویں صدی کے آخر میں چاول کی دریافت کے بعد منسف کی تیاری میں چاول کا استعمال ہونے لگا"

آغاز منسف کی کہانی

تاریخی لحاظ سے ایک واقعہ جو بادشاہ "میشع" سے منسوب ہے "منسف" کا اردن سے تعلق ثابت کرتا ہے۔

وہ سلطنت مؤاب کے بادشاہوں میں سے ایک تھا، جو تیرہویں صدی قبل مسیح میں قائم ہوئی اور چوتھی صدی قبل مسیح تک رہی۔

اس کی سرحدیں بحیرہ مردار کے مشرقی ساحل پر کرک شہر (عمان سے 118 کلومیٹر جنوب) کے شمال سے شوبک (عمان سے تقریباً 205 کلومیٹر جنوب) تک پھیلی ہوئی تھیں۔

منسف اردن [اے ایف پی]
منسف اردن [اے ایف پی]

مورخ طریف کے مطابق "کرک کا علاقہ شاہ میشع کا دارالحکومت تھا، بادشاہ اچھی طرح جانتا تھا کہ یہودی تورات کے قانون کے مطابق دودھ کے ساتھ پکا ہوا گوشت نہیں کھاتے ۔"

بادشاہ نویں صدی قبل مسیح میں ہونے والی عبرانیوں کے خلاف جنگ میں اپنی مؤابی قوم کی وفاداری کا امتحان لینا چاہتا تھا، اس لیے اس نے اپنے لوگوں سے گوشت کو دودھ کے ساتھ پکانے کو کہا۔

قوم نے اپنے بادشاہ کی درخواست پر لبیک کہا اور کہا کہ "ہم نے عبرانیوں کے عقیدے کو "نسف" (تہس نہس) کر دیا اور اس کے بعد سے یہ کھانا منسف کہلایا۔"

مؤاب کے اس تاریخی حوالے کی نسبت سے ہی مبیضین اور المجالی نے اپنے ریستوراں کا نام "مناسف مؤاب" رکھنے کا انتخاب کیا۔

روایت اور مہمان نوازی کا معیار

محقق اور ماہر تعلیم حسن مبیضین کا کہنا ہے کہ "منسف مہمان نوازی کے لیے خاص معیار اور روایات سے جڑا کھانا ہے۔ یہ مہمان کو خصوصی برتاؤ کا احساس دلانے کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مہمان نوازی کے دوران حفظ مراتب کے لحاظ سے اس کی پیشکش اور ترتیب کا خیال رکھا جاتا ہے۔"

مثال کے طور پر پکائے کیے گئے جانور کا سر اور بہترین حصہ، اور کبھی پورا جانور سب سے بڑے تھال میں خاندان کے سربراہ یا مہمان خصوصی کے لیے رکھا جاتا ہے، تاکہ مہمان کو عزت وتکریم کا احساس ہو۔"

المنسف الأردني [اے ایف پی]
المنسف الأردني [اے ایف پی]

روایتی طور پر، 12 سے 14 لوگ ایک بڑے تھال سے کھاتے ہیں، کھانے کے لیے صرف دائیں ہاتھ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم بعض تقریبات میں اسے انفرادی طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔

عالمی ثقافتی ورثے میں شمولیت

منسف کو گزشتہ دسمبر میں اقوام متحدہ کی تنظیم یونیسکو کے ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

اس کے تمام اجزاء مقامی طور پر تیار کیے جاتے ہیں، اور یہ مشہور ہے، مثال کے طور پر، الکرکی جمید (عمان سے 118 کلومیٹر جنوب میں واقع کرک گورنری سے تعلق رکھتا ہے) اور بلقوی گھی (عمان کے شمال مغرب میں تقریباً 30 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع البلقاء گورنری کے نسبت سے ہے )۔

مقبول خبریں اہم خبریں