14 صدیوں پر محیط ورثہ کی بحالی: سعودی عرب کی’’ الحوزہ‘‘ مسجد کی دوبارہ تعمیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں 14 صدیوں پر محیط ورثہ کی بحالی کا پروگرام جاری ہے۔ اسی ضمن میں شہزادہ محمد بن سلمان کے ’’ تاریخی مساجد کی بحالی‘‘ منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں العسیر کی ’’ الحوزہ‘‘ مسجد کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کردی گئی ہے۔ یہ تاریخی مسجد آٹھویں صدی ہجری میں تعمیر کی گئی تھی۔

مسجد ’’ الحوزہ‘‘ عسیر کے جنوب میں گورنری ’’ ظہران‘‘ میں واقع ہے۔ اس مسجد کا رقبہ 293 مربع میٹر ہے اور اس میں نمازیوں کی گجائش 100 افراد ہے۔ نئی تزئین کے بعد اس میں نمازیوں کی گنجائش 148 ہو جائے گی۔ اس سے قبل علاقے کے افراد نے اسے 1213 ہجری میں بحال کیا تھا۔ اس کے بعد شاہ عبد العزیز کے دور میں 1353 میں اس مسجد میں توسیع کی گئی تھی۔

قدیم تاریخی مسجد ’’ الحوزہ‘‘ میں اس کی تعمیر سے لیکر اب تک نماز کی ادائیگی جاری ہے۔ اس مسجد کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسے ’’ السراۃ‘‘ طرز پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس تعمیر میں قدرتی مواد کو استعمال کیا جاتا ہے۔ مسجد کی تعمیر میں مٹی کی اینٹوں کے ساتھ مقامی درختوں کی لکڑی کو استعمال کیا جاتا ہے۔

’’الحوزہ‘‘ مسجد سادہ فن تعمیر کی خصوصت رکھتی ہے۔ اس کے ایک کونے میں ایک کنواں ہے کیونکہ یہ ماضی میں پانی کا بنیادی ذریعہ تھا۔ دیہاتوں میں عمارتوں اور راہداریوں پر مشتمل طرز تعمیر کے حوالے سے یہ عمارت منفرد ہے۔ یہ طرز تعمیر بلند پہاڑی علاقوں میں اپنایا جاتا ہے۔ اس طرز تعمیر کی متعدد شکلیں ہوتی ہیں۔ ان خصوصیات میں سب سے نمایاں مٹی اور چنائی سے کی جانے والی تعمیر ہے۔

یاد رہے مسجد ’’ الحوزہ‘‘ کو بھی شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی بحالی منصوبے کے دوسرے مرحلے کی مساجد میں شامل کیا گیا تھا۔ اس مرحلے میں سعودی عرب کے 13 خطوں کی 30 مساجد کو از سر نو تعمیر کرکے بحال کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں