سعودی ’’تاریخی مساجد بحالی منصوبہ‘‘ کے تحت مسجد ’’ الدوید‘‘ کی بھی تجدید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں تاریخی مساجد کی ترقی کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے دوسرے مرحلے میں ایک شمالی سرحدی علاقے میں مسجد ’’ الدوید‘‘ کی بھی تجدید کردی گئی۔ منصوبہ کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کی 30 تاریخی مساجد کو تعمیر و ترقی اور تزئین و آرائش کے بعد بحال کیا جا رہا ہے۔

شمالی سرحدی علاقے میں واقع ’’ الدوید‘‘ مسجد بھی تاریخی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ الدوید گاؤں میں واقع ہے۔ یہ وہ گاؤں ہے جو لگ بھگ 60 برس قبل نجد اور عراق کے تاجروں کی ملاقات کا مقام بنا تھا۔ اس میں "گھڑیوں کا بازار" تھا جس کے آثار اب بھی اس گاؤں میں موجود ہیں۔ یہ گاؤں جو رفحاء گورنری سے تقریباً 20 کلومیٹر دور ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی ترقی کے منصوبے کے تحت ’’الدوید‘‘ مسجد کی نجدی طرز کے مطابق تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔ تزئین کے بعد اس مسجد میں نمازیوں کی تعداد 54 ہو گی۔ گزشتہ برسوں کے دوران اس مسجد میں نمازیں معطل رہی ہیں۔

60 برس قبل تعمیر ہونے والی ’’ الدوید‘‘ مسجد کا فن تعمیر نجدی طرز کی خصوصیت رکھتا ہے۔ اس طرز تعمیر میں مٹی کی تعمیر کی تکنیک اور قدرتی مواد کا استعمال کیا گیا ہے۔ یہ طرز مقامی ماحول، ریگستانی آب و ہوا اور گرمی سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہے۔ مسجد کی تجدید میں بھی گرمی سے نمٹنے اور مقامی ماحول سے مطابقت پیدا کرنے والی تکینکس کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر چھوٹے مربع شکل کے سوراخ کھولے گئے ہیں جو مسجد کی دیوار میں ایک پٹی بناتے ہیں۔ ان سوراخوں سے سورج کی گرمی کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور ٹھنڈی ہوا کے داخلہ کم ہوجاتا ہے۔ مسجد کا فن تعمیر سورج کی شعاعوں کی طرف جنوبی جانب کھلنے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ مسجد کو سردیوں میں گرمی کی سب سے زیادہ مقدار کو محفوظ رکھنے کے لیے اس کی قریبی چھت کی وجہ سے بھی منفرد مقام حاصل ہے۔

اس منصوبے کے دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں سے 30 مساجد کو بحال کیا جارہا ہے۔ اس سے قبل منصوبے کا پہلا مرحلہ پایہ تکمیل تو پہنچ چکا ہے۔ اس پہلے مرحلہ میں 10 خطوں کی 30 مساجد کو تعمیر نو کرکے بحال کیا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں