سعودی قدیم ترین وقف ’’سبالہ موضی‘‘ کی مسجد سے پھر مغرب کی اذان بلند

امام عبدالعزیز نے والدہ کے نام پر 300 سال قبل مسجد کو قائم کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں تاریخی محلے ’’الطریف‘‘ کے عین درمیان میں طالب علم عبدالملک یوسف الزریق نے الدرعیہ کے مقامی وقت کے مطابق ’’سبالہ موضی‘‘ مسجد سے مغرب کی اذان کی آواز بلند کی۔ یہ کمیونٹی اقدام کے تیسرے سیزن میں دی جانے والی اذان تھی۔ اس اقدام کا مقصد مقامی اذان کو فروغ دینا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔

الدرعیہ گیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی سعودی ریاست کے گہوارے ’’الدرعیہ‘‘ کو ترقی دینے کے لیے تیزی سے کام کر رہی ہے۔ الدرعیہ کا آغاز 300 سال قبل بانی امام محمد بن سعود نے کیا تھا۔

یہ اسے ایک بین الاقوامی سعودی ثقافتی ورثہ اور سیاحتی مقام بنانے کے لیے ہے۔ اس میں مسجد "سبالہ موضی" بھی شامل ہے۔ یہ مسجد سعودی ریاست میں عین زبیدہ یا زبیدہ اوقاف کی طرح کی اولین اوقاف میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد الدرعیہ میں نجد فن تعمیر کے انداز کے مطابق پہلی سعودی ریاست کے بانی امام عبدالعزیز بن محمد بن سعود نے تعمیر کی تھی۔

مسجد ’’ موضی بنت ابی وھطان‘‘ ریاض ریجن میں ’’الدرعیہ‘‘ کے علاقے ’’الطریف‘‘ کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے۔ موضی بانی امام محمد بن سعود کی اہلیہ اور امام عبدالعزیز بن محمد بن سعود کی والدہ ہیں۔ امام عبد العزیز سعودی مملکت کے دوسرے حکمران تھے۔ امام عبدالعزیز بن محمد نے مسجد کا نام اپنی والدہ ’’ موضی‘‘ سے منسوب کیا تھا۔ مسجد الطریف کالونی کے پڑوس میں واقع ہے۔ اس کی سرحد جنوب میں بیت المال اور مشرق میں ’’ قصر سلویٰ‘‘ سے ملتی ہے۔

یہ سعودی مملکت کی تاریخ کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے کیونکہ یہ پہلی سعودی ریاست کے دور میں تعمیر کی گئی تھی۔

یہ مسجد مٹی کی اینٹوں، لکڑیوں اور پتھروں سے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ وہ اجزاء ہیں جن سے الدرعیہ کے گھر بنائے جاتے ہیں۔ اس کا استعمال بارہویں صدی ہجری کے شروع میں شروع ہوا جب مسجد کا کچھ حصہ دوبارہ تعمیر کیا گیا اور یہ مسجد اپنی موجودہ شکل میں سامنے آئی۔

سبالہ کا ڈیزائن کیا ہے؟

سبالہ ایک کمروں کی طرح ڈیزائن کا تھا لیکن اس سے چھوٹے سائز کا تھا جو دو منزلوں پر مشتمل تھا۔ عمارت اس کے چاروں طرف ایک کھلے صحن سے گھری ہوئی تھی۔ اسے رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ کیونکہ شہر میں آنے والے تاجر اس میں رہتے تھے۔ اس میں تنگ سڑک کے ساتھ مشرقی دیوار میں کئی دروازے تھے۔

آنے والے تاجروں کی خدمت کے لیے عارضی دکانیں بھی تھیں۔ کونسل اور خدمت گاہیں جیسے باورچی خانے اور سٹور رومز صحن کی گراؤنڈ فلور کے ارد گرد واقع تھے۔ سوداگروں کے ساتھ آنے والے جانوروں اور جانوروں کو کھانا کھلانے کے لیے سبالہ کے ساتھ اصطبل بھی موجود تھا۔

جہاں تک السبالہ کے صحن کا تعلق ہے اسے ایک بیرونی جگہ کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جس میں رہائشی اپنے آپ کو تفریح کرنے اور اپنے تجارتی معاملات پر بات کرنے کے لیے جمع ہوتے تھے۔

یہ کھانا تیار کرنے، روٹی بنانے اور لکڑیاں ذخیرہ کرنے کی جگہ تھی اور پہلی منزل پر صحن کے چاروں طرف خواب گاہیں تھیں جن میں خانہ بدوش تاجر رہائش پذیر تھے۔ وقف کا یہ حصہ ایک جگہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا ا ور یہاں الطریف محلے کی نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔

واضح رہے مسجد موضی بنت ابی وھطان کو بحال کیا گیا تو اس میں نماز ادا کرنے کی جگہ بن گئی۔ اس کے علاوہ ایک نئی عمارت جو بحالی کے وقت بنائی گئی تھی دو منزلوں پر مشتمل تھی۔ یہ نئی عمارت مسجد کے کھنڈرات کے ایک حصے پر بنائی گئی۔

مسجد کے سبالہ میں کیا ہوتا ہے؟

مسجد کے سبالہ میں ایک مجلس ہوتی ہے جس میں عربی کافی پی جاتی ہے۔ یہ ایک فرش تھا جس میں قالین یا کھجور کے جھنڈوں سے بنائی گئی چٹائیاں موجود تھیں۔ ان خواب گاہوں کو روایتی سامان سے سجایا گیا تھا۔ ان اشیا میں دووش بھی شامل تھا ۔ یہ ایک بڑا گدا ہوتا ہے جس کے ساتھ ایک لحاف اور ایک چادر بھی ہوتی ہے۔

اذان مسجد کی چھت سے دینے کا منفرد انداز

موضی بنت ابی وھطان مسجد دیگر مساجد سے مختلف ہے۔ اس مسجد کی اذان اس کی چھت کے اوپر سے بلند ہوتی ہے نہ کہ اس کے اندر کے سب سے بلند منبر سے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں