پورا چاند خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ کردیتا: تحقیق

ستمبر کے مہینے اور دن تین سے چار بجے کے وقت میں خودکشیوں کا امکان بڑھ جاتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں ہم نے ماہرین ارضیات سے چاند اور دیگر سیاروں کی حرکت کے دنیا میں زلزلوں کی سرگرمیوں پر اثرات کے بارے میں سنا ہے۔ ہم نے پوری تاریخ میں بہت کچھ سنا ہے کہ پورا چاند انسانوں اور شاید دیگر جانداروں میں پراسرار تبدیلیوں کا باعث بن سکتا ہے۔ اب ایک اور تحقیق میں یہ انکشاف سامنے لایا گیا ہے کہ پورا چاند خودکشیوں میں اضافے سے منسلک ہے۔

انڈیانا یونیورسٹی میں کالج آف میڈیسن کے ماہر نفسیات نے معلومات کی مانیٹرنگ اور تجزیہ کرنے کے بعد دریافت کیا کہ پورے چاند کے ہفتے کے دوران خودکشی سے ہونے والی اموات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران 55 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں میں خودکشیوں کے رجحان میں زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔ ماہر نفسیات نے اس حوالے سے خودکشیوں کے دن اور مہینوں کے اوقات کو بھی مدنظر رکھ کر نتائج مرتب کیے ہیں۔

ماہر نفسیات نے اپنی تحقیق میں پایا کہ خودکشی کا رجحان اکثر دوپہر 3 سے 4 بجے کے درمیان ہوتا ہے۔ اس طرح اس کا تعلق دن بھر کے دباؤ سے ہوسکتا ہے۔ اس وقت کم روشنی کا آغاز ہوتا ہے۔ سرکیڈین جینز اور کورٹیسول کا اظہار بھی کم ہو جاتا ہے۔ ستمبر میں خود کشیاں بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب بہت سے لوگ اپنی گرمیوں کی تعطیلات کے اختتام سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ یہ صورت حال بھی تناؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

یہ تحقیق "ڈسکور مینٹل ہیلتھ" میں شائع ہوئی ہے۔ ڈاکٹر الیگزینڈر نکولیسکو اور ان کی ٹیم کی جانب سے انڈیانا میں ماریون کاؤنٹی کورونر آفس سے 2012 اور 2016 کے عرصہ کے دوران ہونے والی خودکشیوں کا ڈیٹا حاصل کرکے اس کی جانچ کی گئی ہے۔

ڈاکٹر الیگزینڈر نے کہا "ہم اس مفروضے کا تجزیہ کرنا چاہتے تھے کہ پورے چاند کے ارد گرد خودکشیوں میں اضافہ ہوتا ہے یا نہیں۔ ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہیے کہ آیا ان اوقات میں زیادہ خطرے والے مریضوں کی زیادہ دیکھ بھال کی جانی چاہیے یا نہیں۔‘‘

ڈاکٹر الیگزینڈر نیکولیسکو نے کہا کہ خودکشی کے لیے خون کے بائیو مارکر کی فہرست کی جانچ کی گئی۔ خودکشی کے بائیو مارکر پورے چاند کے دوران خودکشی کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ دن کے عین نصف النھار کے گھنٹے اور سال کے ایسے سب سے زیادہ متحرک مہینوں کا پتہ لگایا گیا جب خود کشی کا رجحان پیدا کرنے والے جین زیادہ مقدار میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ وہ جین ہیں جو جسم کی اندرونی گھڑی کو منظم کرتے ہیں۔ اسے سرکیڈین کلاک بھی کہا جاتا ہے۔ جانچ کے دوران ہم نے یہ بھی پایا کہ الکحل کے استعمال کی خرابی میں مبتلا افراد یا افسردہ لوگوں کو اس وقت کے دوران زیادہ خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔

نکولیسکو نے کہا کہ پورے چاند سے خارج ہونے والی بڑھتی ہوئی روشنی اس عرصے کے دوران خودکشیوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔ محیطی روشنی جسم کی سرکیڈین تال میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں