صدام کے مجسمے اور تصاویر تو مٹا دی گئیں لیکن عراقی عوام کی امیدیں ادھوری رہ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

قیس الشرع عراق کے دارالحکومت بغداد میں ہیئرڈریسر ہیں۔ حجام کی حیثیت سے زندگی کے سفر میں انھیں ان گنت کہانیاں یاد ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ اہم انھیں 9 اپریل 2003ء کا دن یاد ہے جب انھوں نے عراقیوں اور امریکی میرینز کو بغداد کے فردوس اسکوائر میں اپنے سیلون کے عین سامنے صدام حسین کا مجسمہ گراتے ہوئے دیکھا تھا۔

عراق کے مطلق العنان سابق صدر کا 12 میٹر (39 فٹ) اونچا مجسمہ ان کی 65 ویں سالگرہ منانے کے لیے اس سے ایک سال قبل 2002ء میں تعمیر کیا گیا تھا۔ الشرع نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کو بتایا کہ "ملک بھر سے بہت سے نوجوان عراقی موجود تھے جو اپنی آزادی چاہتے تھے۔ ان کے ساتھ امریکی فوجی موجود تھے۔"

دنیا کے لیے یہ امریکی قیادت میں ہونے والے حملے کا ایک یادگار لمحہ بن گیا۔اس کی براہ راست ٹی وی کوریج کی گئی اورامریکی میرینز نے صدام حسین کے مجسمے کو ایک گاڑی سے باندھ کر نیچے کھینچ لیا تھا تو یہ ایک طرح سے صدام کی چوتھائی صدی پر محیط حکمرانی کے خاتمے کی علامت بن گیا تھا۔ درحقیقت فردوس اسکوائر کا مجسمہ ان یادگاروں اور محلات کا ایک چھوٹا سا حصہ تھا جو صدام نے اپنی طاقت کے مظاہر کی علامت کے طور پر تعمیر کیے تھے۔

صدام حسین مجسمہ [اے پی]
صدام حسین مجسمہ [اے پی]

اس دن کے 20 سال بعد، اب ان کے تمام مجسمے اور تصویریں ختم ہو چکی ہیں۔ان کے بہت سے محلات اور عمارتوں کو ایک نئے عراق کے لیے دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے۔ لیکن صدام کی جابرانہ بصری موجودگی کو مٹانے کے لیے جو امیدیں وابستہ تھیں، وہ بھی دم توڑ چکی ہیں، پہلے برسوں کے وحشیانہ تشدد اور اب تباہ حال معیشت اور فرقہ واربنیادوں پر قائم دھڑوں کی نئی سیاسی اشرافیہ کی بے تحاشا کرپشن کی وجہ سے تمام امیدیں ہی خاک آلود اور موہوم ہوچکی ہیں۔

فردوس اسکوائر کی ایک چھوٹے سے پارک کے طور پر تزئین وآرائش کی گئی ہے۔نجی بینکوں نے اس کام کی مالی اعانت ف کی ہے۔ چوک کے اوپر ایک عمارت پر 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا ایک بڑا مجسمہ ہے۔ حکومت میں ایران کی حمایت یافتہ شیعہ جماعتوں کے غلبے کی وجہ سے بغداد کے ارد گرد اس قسم کی شیعہ تصویریں پھیل رہی ہیں۔

الشرع نے کہا:’’صدام حسین کے مجسمے کی جگہ لینے والا یہ نیا باغ آج عراق میں وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی بدعنوانی کی عکاسی کرتا ہے، اچھی ہریالی اور چشموں کے نیچے۔ اگرچہ وہ صدام کی حکمرانی کو یاد نہیں کرتے لیکن وہ "قانون کی حکمرانی" کو یاد کرتے ہیں‘‘۔

انھوں نے چوک کے بارے میں کہا:’’خاندان اپنے بچوں کو وہاں لے جانے سے بہت ڈرتے ہیں، کیوں کہ منشیات فروش رات کو وہاں گھومتے پھرتے نظرآتے ہیں۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ صدام کے تباہ شدہ مجسمے کا کیا ہوا، لیکن یادگار شکاری اس کے ٹکڑے لے گئے تھے۔

سنہ 2003 میں یوٹاہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان امریکی میرینز کے ایک گروپ نے کہا تھا کہ انھوں نے اس مجسمے کا دایاں ہاتھ دیکھا تھا اور وہ اسے ای بے پر فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن جب انھوں نے اسے واپس اپنی فوجی پرواز سے گھر اسمگل کرنے کی کوشش کی تویہ یہ ان کے سامان سے غائب ہوچکا تھا۔ ان کے پاس صرف وہ تصویر ہے جس میں انھوں نے ایک قیمتی مچھلی پکڑی ہوئی ہے۔ سنہ 2016ء میں نوادرات کے جرمن ڈیلر نے بتایا تھا کہ انھوں نے صدام حسین کی بائیں ٹانگ خرید کی اور پھر اسے ایک لاکھ ڈالر میں ای بے پر دوبارہ فروخت کردیا تھا۔

چیتھم ہاؤس کے سینیر ریسرچ فیلو ریناد منصورنے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا کہ صدام کی بغداد اور دیگر شہروں کو محلات، مجسموں اور اپنی تصویروں سے بھرنے کی پالیسی نے 'انھیں ایک تقدس مآب شخصیت کا روپ دھارنے میں مدد دی تھی۔

صدام حسین مجمعہ [اے پی]
صدام حسین مجمعہ [اے پی]

صدام کی کچھ یادگاریں اب بھی موجود ہیں، جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ان کا ایک قوم پرست معنی تھا جو ان سے آگے تھا۔ مثال کے طورپر دریائے دجلہ کے اوپر اب بھی فتح کی محراب ہے۔ یہ دو بڑے ہاتھوں سے بنائی گئی ایک محراب ہے،جس کے پاس تلواریں ہیں، اور دو بڑے فیروزی آدھے گنبد ہیں جنہیں الشہید یادگار یا یادگار شہدا کہا جاتا ہے۔ یہ 1983 اور 1989 میں 1980 کی دہائی میں ایران کے ساتھ عراق کی جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں تعمیرکی گئی تھی۔

الفاؤ محل 1990 کی دہائی میں صدام حسین نے ایک مصنوعی جھیل کے وسط میں ایک جزیرے پر تعمیرکیا تھا تاکہ جنگ کے دوران میں اسی نام کے جزیرہ نما پر دوبارہ قبضہ کیا جا سکے۔ یہ پہلی بار 2003 کے بعد امریکی اتحاد کے فوجی ہیڈکوارٹر کے طور پر استعمال کیا گیا تھا اوراسے کیمپ وکٹری کا نام دیا گیا تھا۔

بعد میں بااثر عراقی تاجر سعدی سیہود کی مالی اعانت سے اسے بغداد میں امریکی یونیورسٹی میں تبدیل کردیا گیا۔صدام کی موجودگی اب بھی اس کیمپس میں دیکھی جا سکتی ہے۔ دیواروں اور چھتوں پر اس کے ابتدائی حروف نقش ہیں۔ اس مصنوعی جھیل میں اب بھی دیوہیکل کارپ کی ایک نسل موجود ہے جسے امریکی فوجیوں نے "صدام باس" کا نام دیا تھا۔

امریکی یونیورسٹی بغداد کی نائب صدرڈاکٹر ڈان ڈیکل نے کہا کہ اس جامعہ کی تاریخ کا تحفظ ضروری ہے۔انھوں نے اے پی کو بتایا:’’یہ محل عراق کے مستقبل سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ اب امید کرتی ہیں کہ یہ یونیورسٹی عراق کے نوجوانوں کو ملک ہی میں قیام پذیر رہنے کا ایک ذریعہ بن سکتی ہے کیونکہ وہ برسوں سے نقل مکانی کرکے بیرون ملک جارہے ہیں جبکہ بیرون ملک جانے والی نسل اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو عراق واپس بھیجنا چاہتی ہے تاکہ وہ اس کا تجربہ کرسکیں۔

امریکا کی قیادت میں بین الاقوامی فوج کے بغداد پرکنٹرول کے بعد صدام حسین کی براہ راست عکاسی کرنے والی ہر چیز کا صفایا کردیا گیا تھا۔فردوس اسکوائر کا مجسمہ گرائے جانے کے ایک دن بعد کردوں نے شمالی شہر کرکوک میں بھی صدام کا مجسمہ گرا دیا۔ انھوں نے اس کے چہرے پر جوتوں سے وار کیے تھے اور ایک ایسے شخص کے زوال کا جشن منایا جس نے ان کی آبادی کو بے رحمی سے دبادیا تھا۔اس میں 1980 کی دہائی میں ایک وحشیانہ مہم بھی شامل تھی جسے ہیومن رائٹس واچ نے نسل کشی قرار دیا تھا۔صدام کے ان مجسموں کی جگہ کرد رہنماؤں، خاص طور پر مسعود بارزانی کی تصاویر لگائی گئی تھیں، جنہوں نے 2005 سے 2017 تک شمال میں کرد خود مختار علاقے میں حکومت کی تھی۔

بغداد کے سب سے بڑے شیعہ علاقہ کو طویل عرصے سے صدام شہر کا نام دیا گیا تھا۔ صدام حسین نے عراق کے شیعوں کے درمیان کسی بھی اختلاف رائے کو بے دردی سے کچل دیا تھا۔انھوں نے جان بوجھ کراس علاقے کے ایک اہم حصے میں اپنا ایک بڑا، رنگین میورل لگا دیا۔

جون 2003ء میں اہل تشیع کی سرکردہ شخصیات نے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں صدام سٹی کا نام تبدیل کرکے باضابطہ طور پر ممتاز شیعہ علماء کے خاندان کے نام پر صدر سٹی رکھ دیاگیا تھا۔صدام کے دور حکومت میں مارے گئے دو مذہبی رہنماؤں محمد باقر الصدر اور محمد صادق الصدر کے صدام کی جگہ مجسمے نصب کتدیے گئے تھے۔

وہ شعلہ بیان شیعہ رہ نما مقتدیٰ الصدر کے بالترتیب سسر اور والد بھی تھے۔ان کی مہدی ملیشیا نے صدام کے خاتمے کے بعد امریکی قبضے کے خلاف جنگ لڑی تھی۔ آج، وہ عراق کے سب سے طاقتور رہنماؤں میں سے ایک ہیں، جو خود کو ایک بیرونی شخص کے طور پر پیش کرتے ہیں۔وہ حریف، ایران کی حمایت یافتہ شیعہ جماعتوں کے مخالف ہیں جو حکومتی عہدوں پر غلبہ رکھتے ہیں۔ صدر شہر لاکھوں غریب شیعوں کا گھر ہے اور یہ مقتدیٰ الصدر کی تحریک کا بنیادی گڑھ ہے۔

ثلال موسیٰ نے شہر کے اس حصے کانام تبدیل کرنے کی تقریب کے بارے میں کہا:’’الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا کہ میں نے اس لمحے کے دوران میں کیسا محسوس کیا تھا۔یہ اندھیرے سے روشنی کی طرف سفرجیساتھا‘‘۔ انھوں اوائل نوجوانی میں اس تقریب میں شرکت کی تھی۔اب وہ 37 سال کے ہو چکے ہیں اور سرکاری بجلی ایجنسی میں ٹھیکے دار ہیں۔انھوں نے بہترمستقبل کی ان امیدوں کو مایوس ہوتے دیکھا ہے۔ وہ کہتے ہیں:’’اب بدقسمتی سے ہمارے پاس یہ کرپٹ جنتا ہے جس نے گذشتہ 20 سال سے ملک کا کنٹرول سنبھال رکھاہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں