اجتماعی دعوت افطار: سعودیوں نے اپنے قدیم محلے میں پھر زندگی بحال کردی

’’قمبر‘‘ اور ’’الھمیلہ‘‘ محلوں کی آرائش کی گئی، تقریب میں مختف تجربات کیے گئے، خوشیاں لوٹ آئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنوبی سعودی عرب میں خمیس مشیط کے قدیم ترین محلوں میں "قمبر اور الھمیلہ" بھی شامل ہیں۔ ان محلوں کے افراد نے ان محلوں کے مقبول ورثہ کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کی تزئین کی اور انہیں پھر سے نیا بنا دیا۔ محلے کے مکینوں کے لیے تقریب کا اہتمام کرکے پرانی یادیں تازہ کی گئیں۔ اس موقع پر محلے کے گھروں کو نیا بنا دیا گیا، گھروں پر دوبارہ رنگ و روغن کیا گیا اور ان پر فنی تصاویر بھی بنا دی گئیں ۔ اس اقدام نے عسیر کے لوگوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نمایاں کردیا ہے۔

یہ جمالیاتی تصاویر "قمبر محلہ" کے لوگوں کے رمضان کے اجتماع کے ساتھ نمودار ہوئیں۔ ان تصاویر میں نیکی کے مہینے میں ہم آہنگی اور تعاون کے جذبے کو مجسم کیا گیا۔ تصاویر کو سوشل میڈیا پر لایا گیا تو صارفین نے ان پر بڑے پیمانے پر رد عمل دیا اور اس اقدام کی خوب تعریف کی۔ محلے میں ہونے والی اس تقریب کو سراہا گیا۔ لوگوں نے امید ظاہر کی کہ ایسے اجتماع جاری رہیں گے اور پڑوسیوں اور خاندانوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

قمبر اور الھمیلہ کے نواحی علاقوں کے نوجوانوں کے ایک گروپ نے رمضان المبارک میں لوگوں کے لیے ایک رمضان کی ایک افطاری کا اہتمام کیا اور مقبول ورثے اور آبادی کے اجتماع کو بحال کیا۔ اس موقع پر عسیر ریجن کے گورنر شہزادہ ترکی بن طلال بن عبدالعزیز کی سرپرستی بھی انہیں حاصل تھی۔

’’جفست اسیر‘‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی مرزوق نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر قمبر رمضان فورم کے ذریعے اس تقریب کو ایک فنی مظاہرے کے طور پر بیان کیا۔ اس تقریب میں رمضان کا سفر، رمضان کچن، ورثہ، عربی خطاطی اور مخصوص گوشے شامل تھے۔ افطار دسترخوان پر مختلف عمر کے خمیس مشیط کے 500 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی خمیس مشیط کے قدیم ترین محلوں "قمبر اور الھمیلہ" میں رونما ہونے والی اس عظیم تبدیلی کا تذکرہ کیا گیا۔ ان محلوں کے مکینوں نے رمضان المبارک کے ساتھ اپنے محلوں بحالی کا اعلان کیا۔ گھروں پر سجاوٹ کی گئی ۔ لالٹین جلائے گئے۔ فن پر مشتمل ڈرائنگ بنائی گئیں۔ دل کو چھو لینے والے جملے لکھے گئے اور لوگوں کی خوشی میں اضافے کا سامان کیا گیا۔ نوجوانوں نے ان محلوں کے مکینوں کے لیے یادیں تازہ کردیں اور اہالیان محلہ کی خوشیوں کو دو چند کردیا۔

یاد رہے "قمبر" محلے میں کچھ تاریخی مقامات جیسےسعد بن عبدالوہاب مسجد شامل ہیں۔ یہ قمبر میں بنائی گئی پہلی مسجد ہے۔ اسے خمیس مشیط گورنریٹ کی قدیم تاریخی مساجد میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ قمبر کے لوگ سماجی یکجہتی، نوادرات، محبت اور پیار سے بھری ایک خوبصورت زندگی گزار رہے ہیں۔ زندگی کی خوبصورت روایات والدین سے ان کے بچوں میں منتقل ہوتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں