سعودی عرب میں افطاری کے وقت کا بتانے والی ’’رمضان توپ‘‘ کی کہانی کیا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

سعودی عرب کنگ عبد العزیز ہاؤس نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو کلپ شائع کیا ہے جس میں افطاری کا وقت بتانے کے لیے استعمال کی جانے والی "رمضان توپ" کی تاریخ بتائی گئی ہے۔

اس "رمضان توپ" کے ذریعے افطاری کا اعلان 1282 ہجری میں ریاض میں شروع کیا گیا تھا اور پھر شاہ سلمان کے حکم سے اس توپ کو واپس مدینہ بھیج دیا گیا۔

ویڈیو میں بتایا گیا کہ رمضان توپ کی کہانی قاہرہ شہر میں سن 859 ہجری میں شروع ہوئی۔ قاھرہ پہلا اسلامی شہر تھا جس میں رمضان توپ چلائی گئی۔ اس کے بعد 1282 میں امام فیصل بن ترکی کے دور میں ریاض میں بھی رمضان توپ کا آغاز کیا گیا۔

کنگ عبد العزیز ہاؤس کی جاری ویڈیو میں مزید بتایا گیا کہ سنہ 1340 ہجری میں شاہ عبدالعزیز نے توپ چلانے کا کام ریاض میں شعیب بن عبدالرحمن الدوسری کو سونپ دیا۔ یہ معاملہ رمضان کے رواج سے متعلق رہا لیکن 1435 ہجری میں توپ کو مکہ مکرمہ میں روک لیا گیا اور اسے جبل المدافع کی چوٹی پر نصب کر کے استعمال کرنا شروع کر دیا گیا۔

1436 ہجری تک توپ جبل المدافع پر رہی۔ اس کے بعد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان کے حکم سے توپ کو واپس مدینہ بھیج دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں