سعودی عرب میں فلاحی کاموں کی قومی مہم "احسان" کا آغاز

شاہ سلمان کی منظوری سے تیسری قومی مہم شروع کی گئی، 47 لاکھ افراد پہلے مستفید ہو چکے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی عرب میں خادم حرمین شریفین کی منظوری کے بعد فلاحی کاموں کے لیے تیسری قومی مہم کا آغاز پیر کی رات 11 بجے کر دیا گیا۔ اس مہم کے دوران زندگی کے تمام شعبوں میں خیراتی کام انجام دئیے جائیں گے۔ مہم کا آغاز خاص طور پر رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے قریب کیا گیا۔

نیشنل پلیٹ فارم فار چیریٹیبل ورک "احسان" کے سی ای او ابراہیم الحسینی نے بتایا کہ خیراتی کاموں کے لیے تیسری قومی مہم رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے اختتام پر شروع کی جارہی ہے۔ اس مہم میں لوگوں سے عطیات وصول کئے جائیں گے۔ مقدس مہینے کے بقیہ دنوں میں کمپنیاں، بینک، عطیہ دہندگان اور مخیر افراد ویب سائٹ "Ehsan.sa" کی ایپ کے ذریعے اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔ اس حوالے سے نمبر 8001247000 پر کال بھی کی جا سکتی ہے۔

ابراہیم الحسینی نے مزید کہا کہ خیراتی کاموں کے لیے تیسری قومی مہم کا مقصد سعودی عرب کے "ویژن 2030" کے اہداف کے مطابق عطیہ اور کمیونٹی یکجہتی کے کلچر کو فروغ دینا، کمیونٹی پروجیکٹس اور انسانی بنیادوں پر کاموں کی حمایت کرنا بھی ہے۔ اس ویژن کے مقاصد میں معاشرے کو قابل اعتماد سرکاری چینلز کے ذریعے عطیہ کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔

احسان پلیٹ فارم عطیہ کرنے والوں کو عطیہ کے مختلف مواقع فراہم کر رہا ہے۔ اس حوالے سے معلومات روزانہ کی بنیاد پر اپ ڈیٹ ہوتی ہیں۔ خاص طور پر نیکی کے موسموں میں عطیہ کے مواقع کی سماجی مانگ بھی عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فلاحی کاموں کی تیسری قومی مہم سعودی نیوز چینل پر براہ راست نشر کی جائے گی۔

واضح رہے فلاحی کاموں کے لیے قومی مہم کا آغاز اس کے مختلف ورژنوں میں کیا گیا ہے۔ عطیہ کی محفوظ اور قابل بھروسہ عمل کے مطابق مستحق افراد تک فراہمی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ 12 سرکاری ایجنسیوں سے ملکر ایک نگران کمیٹی قائم کی گئی ہے جس کی سپر وائزری میں کام کو ٹھوس بنیادوں پر انجام دیا جا رہاہے۔

اس مہم کے حوالے سے ایک شرعی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ پلیٹ فارم کا کاروبار اسلامی شریعت کی دفعات کی تعمیل بھی کرتا ہو۔ اس پلیٹ فارم کے تحت 3 بلین اور 300 ملین ریال سے زیادہ کے عطیات سے 4.7 ملین افراد کو فائدہ پہنچایا جا چکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں