سوڈان: قدرتی رنگوں میں مذہبی دیواروں کے حیرت انگیز آثار قدیمہ کی دریافت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوڈان کے عوامی اور ابلاغی حلقوں میں حیرت انگیز مذہبی آثار قدیمہ کی دریافت کے چرچے ہیں۔ ان دریافت کو شمالی سوڈان کے اولڈ ڈونگولا علاقے میں منفرد اور غیر متوقع قرار دیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کی حیرت انگیز دریافت نے قدیم حجروں جو ممکنہ طور پرقرون وسطی کےاندر موجود دیواروں پر نقوش موجود ہیں۔ ان نقوش اور عبارتوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام، ان کی والدہ مریم اور فرشتہ مائیکل اپنے پروں کے ساتھ خاکوں کی شکل میں پیش کیے گئے۔

ایک انوکھا اور غیر متوقع انکشاف

دارالحکومت خرطوم سے تقریباً 530 کلومیٹر شمال میں واقع اولڈ ڈونگولا علاقے میں آثار قدیمہ کی کھدائی میں کام کرنے والے پولش مشن نے آثار قدیمہ کی دریافت کو منفرد اور غیر متوقع قرار دیا۔ پریس رپورٹس کے مطابق آثار قدیمہ کی منفرد دریافت اس خطے کے لیے بہت فنی اور تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔

ماہرین نے شمالی سوڈان کے آثار قدیمہ کے علاقوں میں عیسائی دور کے فنون سے متعلق دریافتوں کے میدان میں اس غیر مانوس دریافت کی پراسرار ہیروگلیفس اور علامتوں کو سمجھنے کی اپنی بھرپور کوشش کی ہے۔

قدرتی رنگوں میں قدیم دیوار

سوڈان میں نوادرات اور عجائب گھروں کی قومی اتھارٹی میں آثار قدیمہ کے اکے سیکرٹریٹ کے سیکرٹری عبد الحی عبد الساوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ آثار قدیمہ کے دیواریں پرانے ڈونگولا علاقے میں کھدائی کے دوران پوشیدہ کمروں کے اندر سے ملی ہیں۔ ان خاکوں میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ، مریم اور فرشتہ مائیکل کے مقدس خاکےاور تصویری نقشوں کو مجسم کیا گیا ہے۔ اس کےساتھ ان نقوش میں اس دور کے باداش نوبہ کے پروں کو پھڑپھڑاتے دکھایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آثار قدیمہ کی ٹیم ان تاریخی دیواروں کے سامنے حیرت زدہ رہ گئی جو آج بھی اپنے قدرتی رنگ کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، گویا وہ آج کے دور کی ہیں اور سیکڑوں سال گذرنے کے بعد بھی پرانی معلوم نہیں ہوتیں۔

الساوی نے کہا کہ حالیہ آثار قدیمہ کی دریافت غیر معمولی ہےکیونکہ پچھلے دیواروں میں فرشتہ یا بادشاہ کے محافظ کی تصویر کو ایک مقررہ انداز میں مجسم کرنا غیرمعمولی صلاحیت کا ثبوت ہے لیکن نئے دیواروں میں فرشتہ مائیکل کو اپنے بازو کو حرکت دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

سوڈان کے نوادرات کے ماہر عبدالحئی نے مزید کہا کہ آثار قدیمہ کی انوکھی دریافت سے بہت سے اشارے ملتے ہیں اور اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ نیوبین فنکاروں نے ناقابل یقین انداز میں ڈرائنگ میں مہارت حاصل کی اور اس کا ثبوت عیسائی دیواروں سے ملتا ہے۔ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ قدیم نیوبیائی تہذیب کی اپنی ثقافت ، فنون اور زبان تھی۔

حیرت انگیز حقائق

انوکھی آثار قدیمہ کی دریافت سے شمالی سوڈان میں آثار قدیمہ کے علاقوں میں عیسائی دور کے بارے میں حیرت انگیز حقائق سامنے آئے۔ان آثار قدیمہ کے کمروں کی جڑیں اب بھی وسیع ہیں اور ان کی تاریخی خصوصیات سے پردہ اٹھانے کے لیے بہت بڑا کام کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ آثار قدیمہ کی ٹیم کو پتھر کے "بلاک" ملے جن پر ہیروگلیفک زبان میں الکوا لکھا ہوا تھا۔ الکوا ایک قدیم شہر ہے جو ڈونگولا کے پرانے شہر کے مشرق میں واقع ہے۔ اس میں بادشاہ طہرقہ کا مندر اور کش تہذیب کے قدیم مقبرے شامل ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ الکوا اور ڈونگولا کے پرانے شہروں کے درمیان گہرا تاریخی تعلق ہے۔

مذکورہ بالا دریافت محققین اور آثار قدیمہ کے ماہرین کے لیے بھی وسیع دروازے کھولتی ہے اور بڑے سوالات بھی پیدا کرتی ہے - جیسا کہ عبدالحئی کہتے ہیں - دو قدیم شہروں کے درمیان تعلقات کے راز کے بارے میں یہ پیش رفت پرانے ڈونگولا کی تاریخ پر بھی نئی روشنی ڈالتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔

پرانا ڈونگولا کہاں واقع ہے؟!

اولڈ ڈونگولا ایک قدیم شہر ہے جو شمالی سوڈان میں واقع ہے۔ یہ شہر دریائے نیل کے مغربی کنارے پر سطح سمندر سے 227 میٹر (745 فٹ) کی بلندی پر دارالحکومت خرطوم کے شمال میں 530 کلومیٹر (329 میل) پر واقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں