سعودی عرب میں ’’الحرید‘‘ میلے میں سب سے بڑی مچھلی پکڑی گئی

جازان میں ہر سال ’’الحصیص‘‘ بندرگاہ پر اپریل کے شروع میں ’’ الحرید‘‘ مچھلی کے شکار کا سیزن شروع ہوتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کئی دہائیوں سے منعقد ہونے والے الحرید ٹورازم فیسٹیول نے جنوب مغربی سعودی عرب میں جازان کے علاقے میں واقع جزائر فرسان کو ایک منفرد کردار میں ڈھال دیا ہے۔ یہاں اب یہ فیسٹول سالانہ رواج اور عادت بن گیا ہے لوگ خوش گوار رسومات ادا کرتے، گھروں اور محلوں کو سجاتے ہیں۔ لوگ اس فیسٹول کی خوشیاں مناتے ہیں۔

فیسٹول میں مرد لوک کھیلوں میں مصروف ہوتے تو خواتین ہاتھوں کو مہندی سے سجاتی دکھائی دیتی ہیں۔ اسی دوران شادیوں کی تقریبات کا انعقاد کارنیوال کے ماحول میں کیا جاتا ہے۔ علاقے کا سکوت ٹوٹ جاتا اور ہر طرف خوشیوں کا شور سنائی دینے لگتا ہے۔

الحصیص بندرگاہ پر ہر سال ’’الحرید‘‘ ماہی گیری کا سیزن اپریل کے آغاز میں شروع ہوجاتا ہے۔ الحصیص بندرگاہ فر سان کے لوگوں کی رہائش گاہ سے 15 کلومیٹر دور ہے۔ یہ سیزن ایک ہفتے تک جاری رہتا ہے۔ سیزن اس ہفتے شروع ہوتا ہے جب سمندر سے خاص بُو جسے ’’ البوسی‘‘ کہا جاتا ہے خارج ہونے لگتی ہے۔ یہ بُو جزیرہ فرسان کے گھروں اور گلیوں کی فضا میں بھی پھیل جاتی ہے۔

سب سے بڑی مچھلی پکڑی گئی

اس سال دو مدمقابل عبدالرحمٰن مساوی اور محمد عقیلی سیکڑوں مقابلوں میں سے ایک کے دوران ایک نئی قسم کی مچھلی پکڑنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ یہ’’ الحرید‘‘ مچھلی کے درمیان اپنی نوعیت کی پہلی ظاہری شکل ہے ۔ باقاعدہ جال لگانے کا طریقہ استعمال کرتے ہوئے اس مچھلی کو قدیم روایتی طریقے سے پکڑا گیا ہے۔

عبدالرحمٰن مساوی نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والا کلپ ایک خوبصورت لمحہ تھا جب میں بڑی (سفید) مچھلی کو لے کر جا رہا تھا۔ مقابلہ کرنے والوں نے اس کی ویڈیو بنا لی کیونکہ انہوں نے پہلی مرتبہ اس قسم کی مچھلی دیکھی تھی اور اس کی شکل کی تعریف کی گئی تھی۔

عبد الرحمن نے بتایا جس نے مچھلی کو پکڑا وہ میرا دوست محمد عقیلی تھا۔ مقابلہ کرنے والے اسے دیکھ کر بھاگ گئے تھے وہ یہ سمجھے تھے کہ یہ کوئی شارک ہے۔ تاہم عقیلی نے اسے اٹھا لیا۔ اس کا وزن بہت زیادہ تھا۔ پھر ہم اسے جازان کے علاقے میں شہزادہ محمد بن ناصر پلیٹ فارم پر لے آئے۔

ماہی گیری کا میلہ کیسے شروع ہوا؟

ٹور گائیڈ عثمان حمق نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ بن مجاور ۔ متوفی 620 ہجری ۔ نے اپنی کتاب تاریخ مستبصر میں میں ذکر کیا ہے کہ فرسان میں دو جزیرے ہیں۔ ایک صور اور دوسرا جدہ ہے۔ اگر سورج طلوع ہونے کے بعد بلند ہوجائے تو لوگ سمندر میں اتر جاتے ہیں اور جو مچھلیاں سال میں ایک بار آتی ہیں وہ پکڑی جاتی ہیں۔ ماضی میں ’’ الحرید‘‘ مچھلی بازاروں میں فروخت نہیں ہوتی تھی اور رواج کے مطابق اسے بیچنا عیب سمجھا جاتا تھا۔ اسے رشتہ داروں اور عزیزوں کو بطور تحفہ پیش کیا جاتا تھا۔

عثمان حمق نے بات جاری رکھی اور بتایا کہ ماضی میں لوگ اونٹوں اور گدھوں کی پیٹھ پر جال لے کر جاتے تھے۔ ان کے لیے ایک پیشوا مقرر کیا جاتا تھا جو انہیں کاموں کی ہدایت کرتا تھا اور کام تقسیم کرتا تھا۔ قافلے میں سے بعض افراد کمائی کے لیے درخت جمع کرتے اور کچھ مچھلیاں پکڑنے کے لیے ساحلوں کا رخ کرتے تھے ۔

عثمان نے بتایا کہ جب شہزادہ محمد بن ناصر کو جازان کے علاقے کا امیر مقرر کیا گیا اور انہوں نے جزائر فرسان کے صوبے کا دورہ کیا اور فراسان جزائر میں ہونے والے اس سالانہ رواج کا مشاہدہ کیا تو عزت مآب نے ہدایت کی کہ اس حوالے سے مچھلیاں پکڑنے کا سالانہ تہوار منایا جائے۔ اس کے بعد سے الحرید مچھلیاں پکڑنے کا سالانہ فیسٹول جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں