مصر میں افطاری کا دلوں کو موہ لینے والا منظر، کیا پہلے اسے منسوخ کردیا گیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں ایک یادگار افطاری کے منظر نے دلوں کو موہ لیا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ افطار ڈنر 15 رمضان المبارک کو دیا گیا تھا جس کو خوب سراہا گیا تاہم اس کے بعد مصریوں میں اس وقت غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی جب یہ خبریں گردش ہونا شروع ہوئی کہ اس بہترین سرکاری افطاری کے اگلے حصے کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ تاہم بعد ازاں افطاری کا دوسرا مرحلہ بھی مصری ضلع ’’المطریہ‘‘میں منعقد ہوگیا۔
پہلے ورژن کی مقبولیت اور کامیابی کے بعد یہ افطار پارٹی 21 رمضان کو متوقع تھی لیکن سوشل میڈیا پر اسے منسوخ کرنے کا دعویٰ پرمشتمل خبریں پھیل گئیں جس نے بڑے پیمانے پر غصے کو جنم دیا۔ خاص طور پر جب اس معاملے کو "سیکیورٹی وجوہات" سے منسوب کیا گیا تو لوگوں نے خبر کو سنجیدہ لیا۔


معروف شخصیات

اس معاملہ نے تنازعہ کو مزید بڑھا دیا کہ معروف سیاسی شخصیات بھی اس بحران میں داخل ہوگئے۔ مصر کے مرحوم صدر حسنی مبارک کے بڑے بیٹے علاء مبارک نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ المطریہ میں 15 رمضان المبارک کو افطاری کا ایک خوبصورت اجتماع ہوا، سب نے خوب باتیں کیں اور خوب تعریفیں کیں۔ ایک ایسا ماحول جس میں سب خوشی اور مسرت میں ہیں۔ لوگ خوش ہیں۔ ایسی اگلی افطاری کا اعلان 21 رمضان کو ہوا تھا۔ اس کی منسوخی سے سب حیران رہ گئے ہیں۔ پھر اس الجھن کا سامنا کرتے ہوئے مصری حکام نے معاملہ کی حقیقت واضح کردی اور ایک سیکیورٹی عہدیدار نے اس افطاری کی منسوخی کی مکمل تردید کردی۔


’’ المطریہ دسترخوان‘‘ ٹرینڈ بن گیا

’’ المطریہ دسترخوان‘‘ کا ٹرینڈ گزشتہ ہفتوں کے دوران سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر گردش کرتا رہا۔ مصری حلقوں میں بھی اس افطار ڈنر کا چرچا رہا۔ مصر میں اس افطاری کا ٹرینڈ سرفہرست رہا ۔ کارکنوں نے اس افطاری کو "ملک میں سب سے لمبا افطار دسترخوان" قرار دیا۔ بہت سے لوگوں نے کہا کہ اس افطاری میں شرکت کی خوشی ناقابل بیان تھی۔


واضح رہے قاہرہ کے مشہور محلے ’’المطریہ‘‘ میں اجتماعی افطاری کی میز مسلسل نویں سال لگائی گئی ہے۔ علاقے کے لوگوں نے اجتماعی طور پر یہ اقدام کیا تھا۔ اس کے بعد یہ افطاری مقبول ہوگئی ۔ اس میں تقریباً 3000 روزہ داروں نے شرکت کی ہے
2023 کے ایڈیشن کے شرکاء میں قاہرہ میں جنوبی کوریا کے سفیر ہانگ جن ووک بھی شامل تھے جنہوں نے افطار میز کہا تھا کہ مصر میں رمضان ایک اور ضرورت ہے۔ گلوکار ریمی جمال نے ٹوئٹ کرتے ہوئے تقریب کی شان و شوکت میں دل چسپی ظاہر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس افطار میز کے گرد ایک گانا تیار کیا جا رہا ہے جسے وہ چند دنوں میں عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں