سعودی خاتون فیشن ڈیزائنر نے نجران کی تہذیب سکارف پر پیش کردی

تہذیب کی روایتی اشیا کے ڈیزائن والے سکارف دنیا کے مختلف ملکوں تک پہنچ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک "سکارف" جس میں نجران کے علاقے کے ورثہ کی نمایاں ’’ حمی‘‘ اور ’’ الاخدود‘‘ کی ڈرائینگ اور نوشتہ جات موجود ہیں غیر ملکیوں کی داد حاصل کرنے میں کامیاب رہا ۔ غیر ملکیوں نے اپنے دورے کے دوران اس سکارف کو بطور تحفہ وصول کیا۔ اس سکارف کی سرکاری اور نجی اداروں میں مانگ بہت بڑھ گئی ہے۔ اس سکارف کا مقصد خطے کے ورثہ اور اس کے نوادارات کو متعارف کرانا ہے ۔ سکارف کی صورت میں یہ ایسا تحفہ شمار ہوتا ہے جو اس خطے کی تاریخ اور ورثے کو بھی پیش کر رہا ہوتا ہے۔

سکارف پر اپنے ورثہ کو پیش کرنے کے آئیڈیا کی مالک اور اس آئیڈیا کو عملی شکل دینے والے خاتون فیشن ڈیزائنر البتول سلیمان نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے اس کام کی روداد سنائی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کرونا کی وبا کے وقت ایک تجارتی سرگرمی شروع کی تھی۔ اس میں ماسک بنانا شامل تھا۔ فیشن گریجویٹ ہونے کے ناطے ماسک کی بہت کمی تھی۔ اس لیے میں نے کپڑے سے اور متعدد رنگوں کے ماسک بنانے کا سوچا۔ لوگوں نے انہیں ایک سے زیادہ بار دھویا اور پہنا۔ پھر میں نے کارپوریٹ نعروں کے ساتھ اس پروجیکٹ کو ماسک بنا دیا۔ یہ ان کے لیے مارکیٹنگ کا طریقہ ثابت ہوا۔ دو ماہ کے بعد مجھے اس پروجیکٹ سے بڑی آمدنی ہوئی لیکن میں نے تھوڑا عرصہ کام کو روک دیا اور سوچا کہ ماسک طویل مدت تک نہیں چلیں گے لہذا اس حوالے سے کوئی اور پروجیکٹ پر کام کیا جائے۔

ریجن کے شہزادے فرانسیسی مصور کے ساتھ
ریجن کے شہزادے فرانسیسی مصور کے ساتھ

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے البتول سلیمان نے کہا مجھے عبایہ کو ڈیزائن کرنے کا خیال آیا، لیکن کچھ مختلف انداز میں ، اس طرح میں نجران کے علاقے میں عبایوں کی پہلی ڈیزائنر تھی اور یہ 2020 عیسوی میں تھا۔ لیکن میری کامیابی اب تک اس علاقے کی ایک حدود میں تھی۔ لہذا میں نے گرافک ڈیزائنگ میں داخل ہونے کا طریقہ تلاش کیا۔ پھر میں اس شعبہ میں آکر لطف اندوز ہوئی۔ پھر فیشن اتھارٹی میرے سامنے آئی ۔ فیشن اتھارٹی کے ایک پروگرام میں شرکت کی، اس پروگرام کا ایک مقصد ترقی تھا۔ میں نے بہت سے پروگراموں میں شرکت کی جن میں فیشن اور پائیداری کی سوچ بھی شامل تھی۔ فیشن اتھارٹی کا ایک پروگرام 4 گھنٹے طویل اور معلومات سے لبریز تھا۔ ان پروگراموں میں شرکت کے بعد میں نے سوچنا شروع کیا کہ نجران کے ورثے سے فائدہ اٹھانا اور اسے ڈیزائنوں میں شامل کرنا کیسے ممکن ہوگا۔ بہت سے ڈیزائنرز نے سلوی محل ، عسیری بلی کو ڈال کر کام کر رکھا تھا اس لیے میں نے حمی اور الاخدود کا انتخاب کیا۔ شہری ڈیزائن، چاندی، پتھر اور گرینائٹ کے نشانات کے ذریعے خطے کی شناخت کو اجاگر کرنے کا ذمہ لیا۔

یہ خیالات ڈیزائنر البتول سلیمان کے لیے تحریک کا ذریعہ تھے۔ اور پھرانہوں نے ان شکلوں کو ڈیزائن کرنا اور انہیں عبایوں میں سلائی کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے بٹنوں کی جگہ اس علاقے کے پتھروں کو استعمال کیا۔ اس طرح وہ زیورات کے ڈیزائن سیکھنے کے کورس میں داخل ہوئیں اور انہوں نے خطے کے پتھروں کو سوراخ کرنے کا طریقہ سیکھا ۔

تیار کردہ عبایہ
تیار کردہ عبایہ

البتول نے بتایا کہ کہ جہاں تک سکارف کا تعلق ہے اس نے ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو متوجہ کرلیا ہے۔ خیال یہ تھا کہ میں تہذیب کی گہری اور قدیم چیزوں کو سامنے لانا چاہتی تھی۔ اس لیے میں نے ایک فریم میں کئی نوشتہ ڈالے۔ یہاں سے مجھے سکارف کا خیال آیا۔ میں نے سکارف پر کڑھائی کی اور میں نے نجران کی تمام تہذیبوں کو ایک فریم میں جمع کردیا۔ اس لیے اب یہ سکارف نجران کا پیغام اور اس کی تہذیب کو دنیا کے دیگر ملکوں میں پیش کر رہا ہے۔ یہ سکارف نجران کی تہذیب امارات، فرانس، ناروے، امریکہ اور اٹلی کے سیاحوں تک پہنچانے کا ایک ذریعہ بن گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں