مسجد ’’ الرمیلہ‘‘ بھی شہزادہ محمد بن سلمان کی مساجد بحالی منصوبے میں شامل

پروجیکٹ کے دوسرے مرحلہ میں 30 مساجد شامل، الریاض ریجن کی ’’ الظہیرہ‘‘ کالونی کی مسجد کو نیا بنایا جارہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read


سعودی عرب میں ’’شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی مساجد کی بحالی کا منصوبہ‘‘ اپنے دوسرے مرحلہ میں ہے۔ اس مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں سے 30 مساجد کو تزئین و آرائش کے مراحل سے گزار کر نیا بنایا جارہا ہے۔ اس منصوبے کی 30 مساجد میں ریاض کے الظہیرہ محلے کی تاریخی مسجد ’’ الرمیلہ‘‘ کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ اس مقام پر 100 سال سے بھی قبل تیرہویں صدی ہجری میں کھجور کے درخت لگائے گئے تھے تاہم یہاں مسجد ’’ الرمیلہ‘‘ کی تعمیر بھی کی گئی۔ یہ قدیم ترنی تاریخی مساجد میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کا درست وقت معلوم نہیں ہے۔

شہزادہ محمد بن سلمان کے اس پروجیکٹ میں مساجد کو ترقی دی جاتی، ان کی تجدید کی جاتی اور ان کے مذہبی اور ثقافتی کردار کو بحال کیا جارہا ہے۔ تاریخی مساجد کو دوبارہ تزئین اور تعمیر کے مراحل سے گزارتے ہوئے اس کے قدیم طرز تعمیر کو مدنظر رکھا جارہا ہے۔ ان مساجد کی تعمیر میں قدرتی عناصر کا استعمال کیا جارہا ہے۔

مسجد ’’ الرمیلہ‘‘ کا تجدید کے بعد رقبہ 1184.69 مربع میٹر سے بڑھ کر 1555.92 مربع میٹر کردیا جائے گا۔ اس کے نمازیوں کی تعداد بھی 327 سے بڑھ کر 657 ہو جائے گی۔ مسجد کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے جس طرح اسے اصل میں بنایا گیا تھا۔ اس کا ڈیزائن الریاض کی قدیم مساجد کے شہری طرز کا نمونہ ہے۔ اس کی ترقی پچھلی صدیوں کے تاریخی ورثے کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کے ساتھ ملا کر کی جارہی ہے ۔ نئی تزئین کے بعد مسجد کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

مسجد کی تعمیر کے منصوبے میں مٹی سے تعمیر کی تکنیک اور قدرتی مواد کا استعمال کیا جائے گا۔ اس مسجد کو نجدی طرز تعمیر کی بنیاد پر تیار کیا جارہا ہے ۔ یہ تعمیراتی انداز مقامی ماحول اور گرم صحرا سے نمٹنے کی صلاحیت کے لیے جانا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں