سوڈان میں تنازع کیسے شروع ہوا، معاملہ کس طرف جائے گا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں سوڈانی فوج اور محمد حمدان دقلو کی زیر قیادت سریع الحرکت فورس [RSF] کے درمیان سوڈان میں جاری خونریز لڑائیوں کے نتیجے میں تادم تحریر تقریباً 100 شہری ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ جھڑپیں ہفتے کے روز سے ملک میں تباہی لا رہی ہیں۔

گذشتہ مہینوں کے دوران 45 ملین سوڈانی فوج کی خودمختاری کونسل کے سربراہ البرہان اور ان کے نائب حمدان دقلو المعروف ’’حمیدتی‘‘ کے درمیان سیاسی تصادم پر تشویش میں مبتلا رہے ہیں۔

ہفتے کے روز یہ تنازع خرطوم اور دیگر شہروں میں پرتشدد مسلح تصادم کی شکل اختیار کر گیا حتی کہ گولا باری کے علاوہ لڑاکا طیارے بھی مختلف مقامات پر بمباری کرتے دیکھے گئے۔

مرنے والوں میں مغربی سوڈان کے علاقے دارفور میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے تین کارکن بھی شامل ہیں۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے موجودہ صورتحال کی وجہ سے سوڈان میں اپنا کام معطل کر دیا۔

البرہان اور حمیدتی ایک دوسرے پر لڑائی شروع کرنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔ اسی طرح دونوں فورسز خرطوم اور دیگر شہروں کے اہم مقامات کو کنٹرول کرنے کا دعویٰ بھی کر رہی ہیں تاہم ان کے دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

جھگڑا کیسے ہوا؟

اکتوبر2021 میں البرہان نے ایک فوجی بغاوت کی اور ان شہریوں کا تختہ الٹ دیا جو فوج کے ساتھ اقتدار میں شریک تھے۔

2019 میں سابق صدر عمر البشیر کی معزولی کے بعد ایک عبوری دور کا انتظام کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔ البرہان نے حکمران خود مختاری کونسل کی صدارت سنبھالی اور حمیدتی ان کے نائب تھے۔ آزاد محقق حامد خلف اللہ نے اس تال میل کو ’’سہولت کی شادی‘‘ قرار دیا تھا۔

حامد خلف اللہ نے کہا تھا کہ یہ کوئی حقیقی اتحاد یا شراکت داری نہیں تھی۔ انہیں اپنے مفادات کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنا تھا تاکہ شہریوں کا ایک متحدہ فوجی محاذ کے طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔ اس کے باوجود یہ مفاہمت زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکی۔ حمیدتی نے فروری میں البرہان کی بغاوت کو غلطی کہا اور پرانی حکومت کی واپسی کا دروازہ کھولنے کے طور پر بیان کیا۔

یہ بیانات البرہان اور حمدتی کی جانب سے ایک فریم ورک معاہدے پر دستخط کرنے کے دو ماہ بعد سامنے آئے ہیں جس میں سول پارٹیاں شامل تھیں۔ ان پارٹیوں میں فورسز فار فریڈم اینڈ چینج بھی شامل تھی جس نے البشیر کے خلاف مظاہروں کی قیادت کی۔ معاہدے نے بغیر کسی ٹائم لائن کے عبوری عمل کے لیے رہنما اصول وضع کیے تھے اسی لیے ناقدین نے اس معاہدے کو "مبہم" قرار دیا تھا۔ معاہدے میں دونوں فوجی حکام نے سویلین حکومت کے قیام کے بعد سیاست سے نکلنے کا عہد کیا۔

تاہم سیاسی معاہدے میں ایک رکاوٹ پیش آئی جس نے البرہان اور حمیدتی کے درمیان خلیج کو وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا یہ آر ایس ایف کو باقاعدہ فوج میں ضم کرنے کا معاملہ تھا۔

خاتون تجزیہ کار خولود خیر کا خیال ہے کہ اس فریم ورک معاہدے نے البرہان اور حمیدتی کے درمیان کشیدگی میں اضافہ کیا۔ اس نے حمیدتی کو اس وقت البرھان کے برابر مقام پر دھکیل دیا جب وہ اس کا نائب تھا۔

انٹرنیشنل کرائسز گروپ میں ہارن آف افریقہ ریجن کے سربراہ ایلن بوسویل کا کہنا ہے کہ دقلو نے فریم ورک معاہدے میں فوج سے زیادہ آزاد ہونے اور اپنے وسیع سیاسی عزائم کو حاصل کرنے کا ایک موقع دیکھا تھا۔ خرطوم میں کنفلوئنس ایڈوائزری سینٹر کی بانی خولود خیر کہتی ہیں کہ آر ایس ایف کو فوج میں ضم کرنے کی بات چیت میز پر گرما گرم بحث کے بجائے مسلح تصادم میں جا کر ختم ہوئی ہے۔

ریپڈ سپورٹ فورسز کیا ہیں؟

ریپڈ سپورٹ فورسز کا قیام 2013 میں دارفور کے علاقے میں الجنجوید ملیشیا کے بطن سے کیا گیا تھا۔ یہ غیر عرب قبائل کی بغاوت کو دبانے کے لیے جانی جاتی تھی۔ الجنجوید پر غیر عرب اقلیتوں کے خلاف جنگی جرائم کرنے کا الزام تھا۔

بین الاقوامی فوجداری عدالت نے البشیر پر دارفور میں انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

2015 میں حوثیوں کے خلاف یمنی حکومت کی حمایت میں سعودی زیر قیادت اتحاد کے ایک حصے کے طور پر یمن میں ریپڈ سپورٹ فورسز کے ارکان کو تعینات کیا گیا جس سے خطے میں دقلو کا تاثر بہتر ہوا۔

البشیر کی معزولی کے بعد ریپڈ سپورٹ فورسز پر مزید جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا گیا کیونکہ وہ اس سکیورٹی مہم کا حصہ تھے جس نے جون 2019 میں خرطوم میں آرمی ہیڈ کوارٹر کے قریب سویلین حکومت کا مطالبہ کرنے والے دھرنے کو منتشرکیا تھا جس میں کم از کم 128افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بوسویل نے اے ایف پی کو بتایا کہ ریپڈ سپورٹ فورسز 2019 سے مسلسل بڑھ رہی ہیں جس سے حمیدتی کے اقتدار سے دستبردار ہونے کا امکان بہت کم ہوگیا ہے۔

آگے کیا ہو گا؟

اب کیا ہو رہا ہے کہ دونوں طرف سے طاقت کے بل اپنی موجودگی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہروں کی گلیوں میں جنگ جتنی دیر تک جاری رہے گی شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا۔ مادی نقصانات جمع ہوں گے۔ دونوں فورسز اپنی مقبولیت بھی کھو دیں گی۔ سوڈانی سڑکوں پر ہونے والی جنگ اور اپنے شہریوں کی ہلاکتوں کو نہیں بھولیں گے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ دونوں کیمپ مضبوط ہیں اور ان کے درمیان جنگ بہت مہنگی، خونی اور طویل ہو گی۔ اگر دونوں فریق خرطوم میں جزوی فتح حاصل کر لیتے ہیں تب بھی ملک بھر میں جنگ جاری رہے گی۔ سوڈان میں پہلے سے موجود بدترین حالات میں صورت حال مزید المناک واقعات کی طرف بڑھ رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں