سعودی علاقے المجمعہ میں مسجد ’’ الروساء‘‘ کی تزئین و آرائش، رقبہ بھی بڑھایا جارہا

نیا رقبہ 705.76 مربع میٹر ہو جائے گا، شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبہ کے تحت تاریخی مساجد کو بحال کیا جارہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں ’’شہزادہ محمد بن سلمان کا تاریخی مساجد کی ترقی کا منصوبہ‘‘ جاری ہے۔ زمانہ قدیم کی وہ مساجد جو غیر آباد ہو رہی تھیں یا انہیں مرمت کی ضرورت تھی کو اس منصوبہ کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ منصوبے کا مقصد مساجد کے مذہبی، ثقافتی اور سماجی کردار کو بحال کرنا اور مساجد کی شکل میں اسلامی ورثے کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ولی عہد شہزادہ کے اس منصوبے کے دوسرے مرحلے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ اس دوسرے مرحلہ میں سعودی عرب کے 13 خطوں سے منتخب کی گئیں 30 مساجد کی تزئین و آرائش اور تجدید کی جارہی ہے۔

انہیں 30 مساجد میں ایک مسجد سعودی گورنریٹ ’’ المجمعہ‘‘ کی مسجد ’’ الروساء‘‘ بھی شامل ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کے تقریبا 70 برس بعد اب اس کی نئی تزئین و آرائش کی جارہی ہے۔ یہ مسجد جبل منیخ کے دامن کے مغرب می واقع ہے اور اسے نجدی طرز تعمیر کے انداز میں 1365 سے 1370 ہجری کے درمیان تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی تعمیر میں مٹی کی تکنیکوں اور قدرتی مواد کو استعمال کیا گیا ہے۔ مسجد ’’ الروساء‘‘ کا رقبہ دوبارہ بحال ہونے کے بعد بڑھ کر 705.76 مربع میٹر ہو جائے گا۔

واضح رہے شہزادہ محمد بن سلمان کے تاریخی مساجد کی بحالی کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کے دس خطوں کی 30 مساجد کی تزئین پہلے ہی کی جا چکی ہے۔

دوسرے مرحلے میں ریاض سے 6، مکہ مکرمہ سے 5، مدینہ منورہ سے 4، عسیر سے 3، الشرقیہ سے 2، الجوف سے 2، جازان سے 2، شمالی سرحدی علاقے، تبوک، الباحہ، نجران، حائل اور القصیم سے ایک ایک مسجد کی تزئین و آرائش کی جائے گی۔

یہ منصوبہ 4 سٹریٹجک مقاصد پر مشتمل ہے۔ ان چار مقاصد میں تاریخی مساجد کو عبادت کے لیے بحال کرنا، تاریخی مساجد کی اصل تعمیر کو بحال کرنا، سعودی عرب کی تہذیبی جہت کو اجاگر کرنا اور تاریخی مساجد کی مذہبی و ثقافتی حیثیت کو مضبوط کرنا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں