بھارت کی آبادی سال کے وسط میں چین سے بڑھ جائے گی:اقوام متحدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق بھارت رواں سال کے وسط تک چین کوپیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ کی اسٹیٹ آف ورلڈ پاپولیشن رپورٹ کے مطابق بھارت کی آبادی 1.4286 ارب (ایک ارب بیالیس کروڑ چھیاسی لاکھ )ہوجائے گی جبکہ وسط سال میں چین کی آبادی 1.4257ارب ہوگی۔

رواں سال کے اوائل میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق چین کی آبادی چھے دہائیوں میں پہلی بارکم ہوئی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ اسی تاریخ تک عالمی آبادی 8.045 ارب تک پہنچ جائے گی۔

بھارت کے پاس آبادی کے تازہ سرکاری اعدادوشمار نہیں کہ اس کے ہاں کتنےنفوس رہتے ہیں کیونکہ اس نے 2011ء کے بعد سے مردم شماری نہیں کی ہے۔

بھارت میں ایک دہائی میں ایک مرتبہ ہونے والی مردم شماری 2021 میں ہونا تھی لیکن کرونا وائرس کی وَباکی وجہ سےاس میں تاخیر ہوئی ہے۔

اب لاجسٹک رکاوٹوں اورسیاسی مسائل کی وجہ سے مردم شماری التواکا شکار ہے اوراس بات کا امکان نہیں کہ بڑے پیمانے پریہ مشق جلد ہی شروع ہوگی۔

ناقدین کاکہنا ہے کہ حکومت آیندہ سال ہونے والےعام انتخابات سے قبل بے روزگاری جیسے متنازع معاملات کے اعدادوشمارچھپانے کے لیے جان بوجھ کرمردم شماری میں تاخیرکررہی ہے۔

پیوریسرچ سینٹر کے مطابق،1950 کے بعد سے بھارت کی آبادی میں ایک ارب سے زیادہ افراد کا اضافہ ہوا ہے۔یادرہے کہ اقوام متحدہ نے آبادی کے اعدادوشمارجمع کرنا شروع کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں