مساجد بحالی پروگرام کے تحت دور بنو عباس کی یادگار مسجد ’’البیعہ‘‘ کی تزئین مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر تاریخی مساجد کی ترقی، توسیع، بحالی، تعمیر نو اور تزئین و آرائش کے حوالے سے جاری منصوبے کے دوسرے مرحلے میں مکہ مکرمہ کے علاقے کی تاریخی مسجد کی بحالی کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

’مسجد البیعہ’ عباسی خلافت کے ابتدائی دور کی ایک یادگار ہے، جسے تقریبا 13سو سال قبل اس وقت کے عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور کے حکم پر تعمیر کیا گیا تھا۔

مکہ معظمہ کی جن مساجد کی بحالی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، ان میں عباسی خلیفہ ابو جعفر المنصور کے دور میں تعمیر کی جانے والی مسجد ’بیعہ‘ بھی شامل ہے۔ یہ مسجد شعب منیٰ میں جمرہ العقبہ کے قریب 144ھ میں تعمیر کی گئی تھی۔

’بیعہ‘ وہ پہلی مسجد ہے جسے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے دوران مکہ مکرمہ میں بحالی کے لیے چنا گیا ہے۔ اس کی اہمیت اس کی عمر سے ظاہر ہوتی ہے۔

مسجد شعب الانصار میں واقع ہےجو بیعت کی جگہ ہے۔ اس مسجد میں بیعت کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی۔

بیع مسجد کو کوہ عقبہ کے پیچھے نظروں سے پوشیدہ رکھا گیا تھا۔ یہ مسجد 1428ھ میں جمرات کے توسیعی منصوبوں کے نتیجے میں مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کے نشانات اور یادگاروں کا ایک مرئی حصہ بن گئی۔

بحالی کے بعد مسجد کا رقبہ پہلے جیسا یعنی 457.56 مربع میٹر ہی رہے گا۔ اس میں ایک وقت میں 68 نمازیوں کی گنجائش ہے۔

مسجد البیعہ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مساجد بحالی کے دوسرے مرحلے میں سٹریٹیجک منصوبے کے تحت تاریخی مساجد کی مرمت، اصلاح اور تیاری کے منصوبے کا حصہ ہے، جس میں مملکت کے تمام 13 خطوں میں 30 مساجد، ریاض کے علاقے میں 6 مساجد، مکہ مکرمہ کے علاقے میں 5 مساجد شامل ہیں۔

مدینہ کے علاقے میں 4 مساجد، عسیر کے علاقے میں 3 مساجد، مشرقی علاقے میں دو مساجد، الجوف اور جازان میں ایک اور شمالی سرحدی علاقے، تبوک، الباحہ میں ایک میں ایک مسجد کی بحالی شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں