مسجد نبوی ﷺ کے مینار بھی تعمیراتی فن کے شاہکار

سعودی ریاست کے دور میں مسجد نبوی میں سب سے زیادہ مرتبہ توسیع کی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسلامی فن تعمیر کے نمایاں نشانوں میں مینار بھی شامل ہے۔ یہ مسجد کا ایک حصہ ہے جو مسجد کی تعمیراتی تقسیم کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ تاریخی طور پر مینار کو مسجد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح مینار اسلامی فن تعمیر کا عکاس ہے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میناروں کی بات کریں تو یہ فن تعمیر کے شاہکار مینار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد کے دس مینار ہیں جنہیں اسلامی تہذیب کا تعمیراتی نشان سمجھا جاتا ہے۔ یہ مینار زبردست جمالیات لیے ہوئے ہیں۔

مسجد نبوی میں میناروں کا آغاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہی ہوگیا تھا۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ مسجد کے قریب ترین گھر کی چھت سے اذان دیتے تھے۔ اموی خلیفہ الولید بن عبد الملک نے اپنے دور میں مدینہ منورہ کے حکمران عمر بن عبد العزیز کو جن کا دور سن 88 تا 91 ہجری ہے کو حکم دیا کہ مسجد نبوی میں بڑی توسیع کی جائے۔ اس توسیع کے دوران عمر بن عبد العزیز نے مسجد میں چار مینار تعمیر کرائے۔ مسجد کے ہر کونے پر ایک مینار تعمیر کیا گیا۔ یہ مینار مسجد نبوی کے پہلے مینار شمار ہوتے ہیں۔

مسجد نبوی  کے دس مینار ہیں

تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مسجد نبوی میں کئی مرتبہ بہتری لائی گئی ہے تاہم سعودی ریاست کے دور میں مسجد نبوی کی طرف لوگوں کی بڑی تعداد کو متوجہ کرنے کے لیے کئی مرتبہ توسیع کی گئی۔ سال بہ سال مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اضافہ کیا جاتا رہا۔ سب سے پہلی بہتری سعودی مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود نے 1370 سے لیکر 1375 ہجری کے دوران کی۔ اس دوران مسجد نبوی کے جنوب کی جانب کے دو مینار محفوظ رکھے گئے اور باقی تین کو ہٹا دیا گیا اور یہاں شاہ عبدالعزیز نے شمالی سمت کے دو کونوں میں دو نئے مینار بنوائے جن میں سے ہر ایک کی اونچائی ستر میٹر ہے اور ہر مینار چار منزلوں پر مشتمل ہے۔

مسجد نبوی کی ایک توسیع 1406 ہجری سے 1414 ہجری تک جاری رہی۔اس دوران 104 میٹر کی اونچائی پر مزید چھ مینار تعمیر کرائے گئے اور مسجد نبوی کے میناروں کی تعداد 10 ہوگئی۔ ان چھ میناروں کو بھی پہلی سعودی توسیع کے میناروں کے مطابق ڈیزائن کیا گیا۔ ان میں سے چار شمالی جانب، پانچواں توسیعی عمارت کے جنوب مشرقی کونے میں اور چھٹا اس کے جنوب مغربی کونے میں تعمیر کیا گیا۔

ہر مینار پانچ منزلوں پر مشتمل ہے۔ پہلی شکل میں مربع ہےاور دوسری شکل میں آکٹونل ہے۔ اس کا قطر 5.50 میٹر ہے ۔ یہ رنگین مصنوعی پتھر سے ڈھکا ہوا ہےاور ہر طرف سفید الابسٹر کے تین کالم ہیں۔ جن کے اوپر محرابیں ہیں جو تکون کی شکل میں ختم ہوتی ہیں۔ ستونوں کے درمیان لکڑی کی کھڑکیاں ہیں جن کا اختتام مقرنوں پر ایک آکٹونل بالکونی ہے۔ تیسری شکل گول ہے۔ اس میں مینار 5 میٹر قطر اور 18 میٹر اونچی گہرے سرمئی رنگ میں رنگے ہوا ہے۔ نمایاں لہراتی انگوٹھیوں سے آراستہ ہے جن کے اختتام پر بارہ بیلٹ بنتے ہیں۔ چوتھی شکل میں پھر ایک گول بالکونی ہے ۔ یہ بالکونی ایک پتوں والے تاج کے ساتھ ہے۔ اس کے بعد پانچویں شکل میں پیاز کا گنبد ہے جس میں کانسی کا ہلال ہے۔ یہ 6.70 میٹر اونچا، اور 4.5 ٹن وزنی ہے، جس پر 14 قیراط سونے سے چڑھایا گیا ہے۔

اس کے بعد بھی سعودی توسیع جاری رہی۔ 1434 ہجری کے آخر میں مدینہ منورہ نے مسجد نبوی کی تاریخ کی سب سے بڑی توسیع دیکھی گئی۔ اس منصوبے کے کام کے اختتام کے ساتھ ہی مسجد کی گنجائش 20 لاکھ نمازیوں تک پہنچ گئی۔ یہ منصوبہ مسجد نبوی کی تاریخ کا سب سے بڑا منصوبہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں