امریکی صدارتی الیکشن: کون حصہ لے گا، کون نہیں؟ کون اب تک سوچ و بچار میں ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

وائٹ ہاؤس کے لیے 2024 کی دوڑ میں ابھی تک صرف چند سرکاری امیدوار سامنے آئے ہیں۔ ڈیموکریٹک صدر جو بائیڈن نے ابھی تک اپنے منصوبوں کا اعلان نہیں کیا ۔ زیادہ تر ریپبلکن امیدوار اب بھی یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو چیلنج کرنا ہے یا نہیں۔

دونوں پارٹیوں کے جن رہنماؤں نے صدارتی امیدوار بننے کا واضح اعلان کردیا ہے اور کون ممکنہ امیدوار بن سکتے ہیں؟ ان سب رہنماؤں پر ایک نظر دوڑاتے ہیں۔

جو بائیڈن

80 سالہ بائیڈن مہینوں سے دوسری مدت کے حصول کے اپنے منصوبوں کو چھیڑ رہے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا ہے۔ انہوں نے 14 اپریل کو کہا کہ وہ "نسبتاً جلد" کا اعلان کر دیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان کے بہت جلد دوڑ میں کودنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ انتخابات میں ابھی 19 ماہ باقی ہیں۔ اس دوران خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔ رائے عامہ کے سروے میں ان کی درجہ بندی اب تک کم آرہی ہے لیکن انہیں کسی ڈیموکریٹک چیلنجر کی طرف سے شدید خطرے کا سامنا بھی نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ کی عمر 76 سال ہے۔ گزشتہ نومبر میں انہوں نے اپنی انتخابی مہم کا اعلان کردیا تھا۔ انہیں اپنی ریپبلکن پارٹی کے اندر سے اب تک انتہائی دائیں بازو کے ان امیدواروں کی حمایت پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہیں وسط مدتی انتخابات میں شکست ہوئی تھی۔ بائیڈن کی طرح وہ اپنے ووٹرز کی بڑی تعداد کے سامنے غیر مقبول ہیں تاہم انہوں نے اپنے مرکز میں گرفت رکھی ہے۔ ایک فحش اداکارہ کو خاموش رہنے کے لیے رقم دینے کے کیس میں ان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جس کے بعد بھی انہوں نے الیکشن کے حوالے سے اپنا موقف بھرپور بیان کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹرمپ ریپبلکن دوڑ میں سب سے آگے ہیں۔

رون ڈیسنٹس

فلوریڈا کے گورنر 44 سالہ رون ڈیسنٹس نے خود کو ٹرمپ کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے ابھی تک باضابطہ طور پر اپنے صدارتی امیدوار بننے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم انہوں نے صدارتی امیدوار ہونے کے تمام روایتی اقدامات کر ڈالے ہیں۔ رون ڈی سینٹیس انتخابات میں ٹرمپ کے بعد دوسرے نمبر پر ریپبلکن امیدوار نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے اسقاط حمل پر نئی پابندیاں عائد کرنے اور بندوق کے قوانین کو مزید ڈھیل دینے والے بلوں پر دستخط کیے ہیں۔ یہ چیز ریپبلکن پرائمری میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔ لیکن عام طور پر آزاد اور زیادہ اعتدال پسند رائے دہندگان کے درمیان انہیں اس سے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔

نکی ہیلی

جنوبی کیرولائنا کی سابق گورنر اور اقوام متحدہ میں ٹرمپ کی سفیر 51 سالہ نکی ہیلی نے بائیڈن اور ٹرمپ کے مقابلے میں نسبتا نوجوانوں کو قائل کیا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے دو ہندوستانی تارکین وطن کی بیٹی کے طور پر بھی اپنا پس منظر پیش کیا ہے۔ ہیلی نے ریپبلکن پارٹی میں ایک ٹھوس قدامت پسند کے طور پر شہرت حاصل کی ہے جو اپنے بہت سے ساتھیوں کے مقابلے میں جنس اور نسل کے مسائل کو زیادہ معتبر انداز میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس نے خود کو بیرون ملک امریکی مفادات کی ایک مضبوط محافظ کے طور پر بھی پیش کیا ہے۔ انہیں ریپبلکن ووٹروں میں تقریباً 3 فیصد کی حمایت حاصل ہے۔

ٹِم سکاٹ

واحد سیاہ فام ریپبلکن امریکی سینیٹر 57 سالہ ٹِم سکاٹ کی اپنی آبائی ریاست جنوبی کیرولائنا سے باہر نام کی پہچان کم ہے لیکن ان کی رجائیت پسندی اور منقسم پارٹی کو متحد کرنے پر توجہ نے انہیں ٹرمپ اور ڈی سینٹیس کے زیادہ جارحانہ انداز کے ساتھ تضاد پیدا کرنے میں مدد کی ہے۔ ٹِم سکاٹ کے حامی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کا یہ رویہ اور برتاؤ سامنے آنے والوں کو شکست دینے کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ خاص طور پر ڈی سینٹیس جو قدامت پسند قانون سازی کے کارناموں کی فہرست کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں۔ ٹم سکاٹ نے اب تک صدارتی امیدوار بننے کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

آسا ہچِن سن

آرکنساس کے سابق گورنر نے اپریل میں وائٹ ہاؤس کے لیے اپنی بولی کا آغاز ٹرمپ سے اپنے فرد جرم سے نمٹنے کے لیے ایک طرف ہونے کے مطالبے کے ساتھ کیا۔ 72 سالہ آسا ہچِن سن نے انتہائی قدامت پسند ریاست کی قیادت کرنے کے اپنے تجربے کو اس ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے کہ وہ ریپبلکن ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے والی پالیسیوں کو پیش کر سکتے ہیں۔ وہ ٹیکسوں میں کٹوتیوں اور ملازمتوں کی تخلیق کے اقدامات کو فخر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ تاہم ان کی پہچان آرکنساس سے باہر محدود ہے۔

مائیک پینس

ٹرمپ کے نائب صدر نے یو ایس کیپیٹل پر ٹرمپ کے حامیوں کے 2021 کے حملے پر اپنے سابق باس کے ساتھ توڑ دیا ہے۔ 63 سالہ پینس کا کہنا ہے کہ حملے میں ان کے کردار کے لیے "تاریخ ٹرمپ کو جوابدہ ٹھہرائے گی"۔ پینس نے کہا ہے کہ وہ ابھی بھی فیصلہ کر رہے ہیں کہ آیا ریپبلکن نامزدگی حاصل کرنا ہے یا نہیں۔

کرس کرسٹی

اطلاعات کے مطابق نیو جرسی کے سابق گورنر ایک ممکنہ مہم پر غور کر رہے ہیں۔ 60 سالہ کرسٹی نے 2016 میں صدر کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ وہ ٹرمپ کے حامی رہے تاہم 2021 میں امریکی کیپیٹل پر حملے کے بعد ان کے خلاف ہو گئے تھے۔ انہوں نے بھی ابھی تک اپنی امیدواری کا اعلان نہیں کیا ہے۔

کرس سنونو

نیو ہیمپشائر کے گورنر 48 سالہ کرس سنونو بھی صدارتی الیکشن کے پانی میں کودنے پر غور کر رہے ہیں۔ وہ 2017 سے نیو انگلینڈ کی چھوٹی ریاست کے گورنر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کو نئی قیادت کی ضرورت ہے۔

وویک رامس وامی

ایک سابق بائیو ٹیکنالوجی سرمایہ کار اور ایگزیکٹو 37 سالہ وویک رامس وامی نے 2022 میں کمپنیوں پر ماحولیاتی، سماجی اور کارپوریٹ گورننس کے اقدامات کو ترک کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے ایک فرم کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے فروری میں اعلان کیا تھا کہ وہ ریپبلکن نامزدگی کے لیے انتخاب لڑ رہے ہیں۔

رابرٹ کینیڈی جونیئر

ایک اینٹی ویکسین کارکن 69 سالہ کینیڈی ڈیموکریٹک نامزدگی کے لیے بائیڈن کو چیلنج کرنے کے لیے ایک لمبی چوڑی بولی لگا رہے ہیں۔ وہ امریکی سینیٹر رابرٹ ایف کینیڈی کے بیٹے ہیں۔ ان کے والد 1968 میں اپنی ہی صدارتی انتخاب کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ کینیڈی جونئیر کے لیے ویکسینز اور کرونا وبا کے متعلق میں غلط معلومات پھیلانے پر یوٹیوب اور انسٹاگرام پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

مائیک پومپیو

ٹرمپ کے سابق سیکرٹری آف سٹیٹ اور سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی کے ڈائریکٹر کو ممکنہ صدارتی امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا تھا لیکن انہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر انتخاب میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

گلین ینگ کِن

ہیج فنڈ مینیجر سے ورجینیا کے گورنر بننے والے گلین ینگ کِن کو بھی ریپبلکن نامزدگی کے ممکنہ دعویدار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی گورنری مہم میں سکولوں میں والدین کے حقوق پر توجہ دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں