دبئی: انسانی ساختہ جمیرابے آئی لینڈ میں ریت کاپلاٹ تین کروڑ40 لاکھ ڈالرمیں فروخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یہ ایک شاندارحویلی نہیں ہے،یہ لگژری پینٹ ہاؤس یا ڈیزائنراپارٹمنٹ نہیں ہے بلکہ یہ دبئی کے ایک انسانی ساختہ جزیرے جُمَيْرَا پر ریت کا ایک ڈھیرہے، اور یہ 19 اپریل کوساڑھے 12 کروڑدرہم(تین کروڑچالیس لاکھ ڈالر) میں فروخت ہوا۔اس نے ایک ایسی مارکیٹ میں ایک ریکارڈ قائم کیا جوغیرملکی دولت کی آمد سے فائدہ اٹھارہی ہے۔

ساڑھے 24ہزارمربع فٹ پر محیط یہ خالی ٹکڑا جُمَيْرَا بے جزیرے پر ہے۔یہ سمندری گھوڑے کی شکل کا زمین کا ایک ٹکڑا ہے اوردبئی سے پل کے ذریعے قابل رسائی ہے۔ یہ 5،000 درہم فی مربع فٹ سے زیادہ کے حساب سے فروخت ہوا ہے۔

بروکریج، نائٹ فرینک کے مطابق اب تک یہ اس مصنوعی جزیرے میں سب سے زیادہ قیمت فروخت ہے۔اس کا خریدارمتحدہ عرب امارات میں نہیں رہتا ہے مگر وہ اس جائیداد پر ایک خاندانی گھر تعمیر کرنے کامنصوبہ بنارہا ہے۔اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

دبئی میں نائٹ فرینک کے پرائم ریزیڈنشل کے سربراہ اینڈریو کمنگز کا کہنا ہے کہ ’’ریت کے لیے یہ رقم ساڑھے 12 کروڑدرہم ہے۔جو کچھ بھی پریس بنا رہا ہے وہ بنیادی طور پر شاندار ولاز ہیں، یہ ناقابل یقین پینٹ ہاؤسز اوریہ سب کچھ ہےلیکن یہ زمین کے پلاٹ کی یہ قیمت فروخت ریکارڈ توڑہے‘‘۔

دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ کےمطابق یہ پراپرٹی دو سال قبل تین کروڑ65 لاکھ درہم میں خریدکی گئی تھی جس سے فروخت کنندہ کوآٹھ کروڑ85لاکھ درہم کا منافع ہوا ہے۔

واضح رہے کہ تیل کی بلند قیمتوں، دنیا کے امیروں کی جانب سے جائیداد میں دولت مرتکز کرنے کی خواہش اور یہ احساس کہ کم ٹیکس، کم جرائم والا دبئی وبائی امراض اور جنگ کے دور میں ایک محفوظ پناہ گاہ ہے،اس کی وجہ سے شہر کے رئیل اسٹیٹ مارکیٹ بننے کی دوڑ میں اضافہ ہوا ہے۔

دبئی میں روسی شہری جائیدادیں خرید کررہے ہیں، جبکہ نئے، طویل مدتی رہائشی’’گولڈن ویزے‘‘دولت مند افراد کو بھی دبئی رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کر رہے ہیں۔کبھی حد سے زیادہ تعمیرکی وجہ سے متاثرہونے والے اس شہر میں اب کچھ دلالوں کا کہنا ہے کہ خاص طور پر اونچی عمارتوں میں جائیدادوں کی فراہمی کم ہے۔

اس معاہدے پرکام کرنے والے بروکرزمیں سے ایک نائٹ فرینک کے لنڈسی ریڈسٹون کا کہنا ہے کہ ’’فروخت کنندگان اس وقت یہ طے کرنے کے لیے کافی مضبوط پوزیشن میں ہیں کہ قیمتیں کہاں ہیں، کیونکہ لوگوں کے لیے انتخاب کرنے کے لیے ایسے محدود اختیارات دستیاب ہیں، خاص طور پر بیچ فرنٹ سے‘‘۔

گذشتہ ہفتے فروخت ہونے والاپارسل ان 128 پارسلوں میں سے ایک ہے جو اصل میں جمیرا بے آئی لینڈ پر حکومت کی حمایت یافتہ ڈویلپر میراس ہولڈنگ کی جانب سے پیش کیا گیا تھا۔مشہور پام جمیرا ڈیولپمنٹ پر ہزاروں گھروں کے مقابلے میں یہ کافی خاص ہے۔ ابتدائی طور پر یہ تمام پارسل برسوں پہلے فروخت کیے گئے تھے، اور اس کے بعد سے کچھ کو اچھے منافع پر فروخت کر دیا گیا ہے۔ کمنگز کا کہنا ہے کہ ترقیاتی قوانین زمین کو ذیلی تقسیم ہونے سے روکتے ہیں، لیکن کچھ خریداروں نے میگا مینشن کے لیے جگہ بنانے کے لیے پلاٹوں کو یک جا کردیا ہے۔

جزیرے پرصرف مٹھی بھرگھروں کی تعمیرمکمل ہوئی ہے۔ان میں سے کچھ زیرتعمیر ہیں، اور بہت سے دیگر پر ابھی زمین نہیں ٹوٹی ہے۔اس جزیرے پر بلغاری ریزارٹ بھی واقع ہے ، جوشہر کے سب سے مہنگے ہوٹلوں میں سے ایک ہے۔

لائٹ ہاؤس ٹاور،جہاں اپارٹمنٹ کی فروخت کی قیمتیں تعمیر ہونے سے پہلے ہی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔اس کے سب سے اوپر پینٹ ہاؤس ہوگا۔ یہ نو بیڈروم کا اپارٹمنٹ ہے۔یہ جگہ فروری میں 41 کروڑدرہم میں فروخت ہوئی ہے۔

رئیل اسٹیٹ بروکرزنے پیشین گوئی کی ہے کہ قیمت فروخت کے ریکارڈ ٹوٹتے رہیں گے۔مثال کے طور پر جمیرا بے آئی لینڈ میں مذکورہ جائیداد بیچنے والا پہلے کے پلاٹ کے ساتھ ایک اورپلاٹ کا مالک ہے۔ وہ اسے ساڑھے 13کروڑدرہم میں فروخت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں