50 بچوں کی دادی یا نانی: 101 سالہ الجزائری خاتون بیماریوں سے دور، یادداشت بھی برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

سو سال کی عمر تک پہنچنے والے افراد کے متعلق عام تصور یہ ہے کہ ان کی یادداشت کا ذخیرہ بہت زیادہ متاثر ہوچکا ہوتا ہے اور ایسے افراد کو بیماریوں نے بھی لازمی گھیر رکھا ہوگا۔ ایسے افراد اپنی زندگی کی کئی اہم معلومات بھی بھول چکے ہوتے ہیں۔ تاہم الجزائر کی ایک معمر خاتون نے ان تمام اندازوں کو غلط ثابت کردیا ہے۔ یہ خاتون حاجہ بوقاموم تكفہ نث قاسی ہیں۔ یہ الجزائر کے دار الحکومت کے مشرق میں ریاست البویرہ میں رہائش پذیر ہیں۔ بوقاموم تكفہ نث قاسی مضبوط یادداشت رکھتی ہیں اور ان کی متحرک زندگی سے ان کی 101 سال عمر کی عکاسی بھی ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
الجزائر کے اخبار’’الشروق‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ بوقاموم تكفہ نے 25 اکتوبر کو اپنی 101 ویں سالگرہ کی شمع بجھائی تھی۔ وہ ریاست البویرہ کی سب سے سن رسیدہ شخصیت ہیں۔

پچاس بچوں کی دادی یا نانی

بوقاموم تكفہ کے 50 سے زیادہ پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں ہیں جنہیں وہ اچھی طرح یاد رکھتی ہیں۔ معمر خاتوان کے پاس وقت گزرنے کے حوالے سے کئی ایسی کہانیاں موجود ہیں جو خوشیوں اور غموں کے درمیان چلتی رہتی ہیں۔ بوقاموم تكفہ کے مطابق وہ اپنی زندگی میں یکے بعد دیگرے مختلف غمزدہ کرنے والے واقعات سے گزری ہیں۔ انہیں اپنے مرحوم شوہر حموش اوقاسی کے کھو جانے کا دکھ ہے جو آزادی کے انقلاب میں مفلوج ہو گئے تھے۔ بوقاموم تكفہ بڑھاپے کے باوجود وہ اب بھی روانی سے بولتی ہیں۔ چشمہ پہنتی ہیں۔ ان کو زندگی کے اہم واقعات یاؒد ہیں۔ انہیں آزادی کے انقلاب کی شخصیات سے متعلق کئی کہانیاں معلوم ہیں۔ ان شخصیات میں کرنل عمران، شہید عبان رمضان، عمیروش ایت حمودہ اور دیگر شامل ہیں۔

نماز کے اوقات اور رمضان کے روزے

بوقاموم تكفہ کو ان چند خواتین میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کی عمر ایک صدی سے تجاوز کر چکی ہے اور ان کی صحت کی حالت بہت اچھی ہے۔ یہاں تک کہ ان کا ذہنی ادرات محفوظ ہے۔ وہ ایک مضبوط یادداشت والی خاتون ہیں۔ انہیں نماز کے اوقات، ہر نماز کی رکعات کی تعداد، سورہ فاتحہ، سور النصر اور دیگر سورتیں یاد ہیں۔ وہ آج تک پانچوں نمازیں ادا کرتی ہیں۔ وہ روزہ بھی نہیں چھوڑتیں۔ صرف رمضان کے مہینے میں نہیں بلکہ وہ شوال کے دنوں میں بھی روزے رکھتی ہیں۔
معمر بوقاموم تكفہ نے ایک شادی کی تھی۔ وہ دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کی ماں ہیں۔ ان کی یادداشت اب بھی خوشبودار ماضی اور اس کی تفصیلات سے بھری ہوئی ہے۔ انہیں الجزائر کے بہت سے تاریخی مقامات کی تفصیلات تک معلوم ہیں۔ انہیں اپنے بچپن، جوانی اور شادی سے متعلق معمولی سمجھی جانے والی باتیں بھی یاد ہوتی ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ کس طرح سفاک فرانسیسی استعمار نے ان کے گھر اور پڑوسیوں کے گھر جلا دیے تھے اور پھر کس طرح وہ جرجرہ کے بالائی علاقوں میں واقع بدشرہ گاؤں میں رہنے کے لیے منتقل ہوگئی تھیں۔

بیٹے کو تعلیم دلانے کے لیے انڈے اور انگور بیچے

بوقاموم تكفہ کو اپنی زندگی کی چھوٹی چھوٹی تفصیلات بھی ازبر ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے دکھ بھرے واقعات میں سے ایک واقعہ بتاتی ہیں کہ ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں اس کے شوہر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ٹیکجدہ اور عین الحمام کو ملانے والی سڑک پر پتھر توڑنے کا کام کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ مکمل طور پر معذور ہو گئے تھے۔ اس کے باوجود ان کے بیٹے محمد نے اپنی تعلیم مکمل کی اور وہ زراعت کے شبعہ میں سرکاری محکمہ میں انجینئر بن گیا۔ اس نے 1979 میں مستگنیم یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ وہ ملنے والوں کو اپنے بیٹے کے تعلیم حاصل کرنے اور اس کی تعلیم مکمل کرانے میں اپنی مشقتوں کا بتاتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ اپنے بیٹے کو تعلیم دلانے کے لیے میں انڈے اور انگور بیچتی تھی۔


سو سالہ افراد کی تعداد میں اضافہ

واضح رہے اقوام متحدہ کے پاپولیشن ڈویژن کے اعداد و شمار دنیا کے مختلف حصوں میں 100 سال کی عمر سے تجاوز کرنے والے صد سالہ افراد کی تعداد میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ 2021 میں ان کی تعداد 6 لاکھ 21 ہزار سے زائد ہو گئی تھی۔ توقع ہے کہ موجودہ دہائی کے آخر تک یہ تعداد دس لاکھ سے تجاوز کر جائے گی۔ 1990 میں یہ تعداد صرف 92 ہزار تھی۔
’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق فرانسیسی راہبہ جسے سسٹر آندرے کے نام سے جانا جاتا تھا اس وقت دنیا کی معمر ترین خاتون ہیں۔ ان کی عمر 115 سال ہے۔ مردوں میں یہ ریکارڈ وینزویلا کے 113 سالہ جوان ویسینٹ مورا کے پاس ہے۔ جاپان میں اس وقت دنیا میں طویل العمر لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد موجود ہے۔ ان میں بھی زیادہ تر خواتین ہیں۔
فرانس میں بھی صد سالہ افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے اور ایسے افراد کی تعداد 27 ہزار 497 ہوگئی ہے۔ ان میں سے 84 فیصد خواتین ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں