مے ویدر کی فتوحات کا راز جاننا چاہتی: ابھرتی ہوئی سعودی خاتون باکسر کی باتیں

منی شرف نے ایک سال میں دو طلائی تمغے جیتے اور انہیں ایک زبردست فائٹر قرار دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی خاتون باکسر منی شرف کی کامیابیوں کا سفر جاری ہے اور وہ مے ویدر کی طرح فتوحات حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ ایک نیوز ادارے کو دیئے گئے اپنے انٹرویو میں منی شرف نے بتایا میں ابتداء میں میں فری سٹائل ریسلنگ کی مداح تھی۔ کھلاڑیوں کی مختلف منفرد شخصیتوں کے ساتھ میرا لگاؤ تھا۔ اس کھیل سے میں ناقابل بیان حد تک محبت کرتی تھی۔ اس کھیل کی خصوصیات اس وقت میرے سامنے کھل کر آئیں جب سعودی خواتین کو کھیلوں کی تربیت کے لیے بین الاقوامی فورمز میں ملک کی نمائندگی کی اجازت مل گئی۔

منی شرف نے اپنی کہانی کا آغاز دنیا کے اولمپک کھیلوں میں سب سے سخت جنگی کھیل کو پیشہ ورانہ بنانے کے ساتھ کیا۔ آفیشل گیم میں اپنی پیشہ ورانہ مہارت کے ایک سال کے دوران ہی منی شرف نے نے 10 مقامی فائٹس لڑیں۔ انہوں نے اس ایک سال کے دوران دو گولڈ میڈل اور اعلی درجے کی پوزیشنیں حاصل کرلی ہیں۔

منی شرف نے باکسنگ کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ باکسنگ ایک "نوبل آرٹ" ہے جسے "بادشاہوں کا کھیل" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں ایک سے تین منٹ کے وقفوں کی سیریز میں ایک جیسے وزن کے دو کھلاڑی مکوں سے ایک دوسرے پر حملہ کرتے ہیں۔ ان وقفوں کو راؤنڈز کہا جاتا ہے۔

منی نے بتایا کہ اگلے مئی میں ریاض میں منعقد ہونے والی "اوپن ایریاز چیمپیئن شپ" کے تناظر میں وہ دنیا بھر کی خواتین باکسرز کے خلاف سخت لڑائیوں میں حصہ لینے کے لیے خصوصی تربیتی مشقیں کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں عالمی سطح کے کھیلوں کے انعقاد کے تناظر میں یہ چیمپئن شپ ہمارے لیے ایک بہترین موقع ہے۔

سعودی عرب میں باکسنگ ریفریز کے سربراہ سعید نزلوی نے بتایا کہ منی شرف کو پیشہ ور سعودی خواتین باکسروں کے درمیان تیسرے سے چوتھے نمبر کے درمیان رکھا گیا ۔ یہ مقابلہ چھوڑتی ہیں نہ پیچھے ہٹتی ہیں۔ منی شرف کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ انہیں کتنی ضربیں لگی ہیں۔

منی شرف نے مزید بتایا کہ کھیلوں کے تجربے نے میری مہارت میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا دو بدو لڑنے کے لیے مخالف کی رکاوٹ کو فنی طور پر مکے لگانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھیلوں کے تجربے نے میرے نفسیاتی اخلاق کوبھی بہتر کیا اور مجھے مخالف کا احترام سکھایا ہے۔ مخالف کے گھونسوں سے بچنے کے لیے ایک پرجوش تجربہ کار کی ضرورت ہے جو حادثاتی ناکامی سے ہمت نہ ہارے۔ انہں نے کہا کہ اس کھیل کا راز اور محور مخالف کو چکما دینا ہے۔

منی شرف نے عالمی معیار کے باکسرز کی سوانح عمری میں اپنی دلچسپی کا انکشاف بھی کیا اور بتایا کہ اگر مجھے امریکی کھلاڑی فلائیڈ مے ویدر سے ملنے کا موقع ملا تو میں ان سے ان کی صلاحیتوں اور مسلسل فتوحات کے بارے میں پوچھوں گی۔ انہوں نے مزید کہا میں آنجہانی عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی کلے کے جذبات جاننا چاہتی ہوں۔ اس لمحے جب ان کا ٹائٹل چھین لیا گیا تھا اور جب اسے واپس کیا گیا تھا۔

منی نے کہا اب سے ایک سال بعد میں خود کو بین الاقوامی باکسنگ رنگ اور خواتین کے لیے پیشہ ورانہ چیمپئن شپ کے درمیان دیکھ رہی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں