متحدہ عرب امارات کا راشد روور 1 کے بعد چاند پر دوسرا مشن بھیجنے کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات چاند پر روور اتارنے کی دوسری کوشش شروع کرے گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی وام نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ محمد بن راشد خلائی مرکز (ایم بی آر ایس سی) کے دورے کے دوران، حاکم دبئی شیخ محمد نے اعلان کیا ہے کہ راشد 1 حادثے کے بعد راشد 2 کو تیار کر کے خلا میں بھیجا جائے گا۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کا راشد روور ممکنہ طور پر منگل کو چاند پر اترنے کی کوشش کے دوران گر کر تباہ ہو گیا ہے۔

بدھ کو شیخ محمد نے یو اے ای کے پہلے قمری مشن کی ٹیم سے ملاقات کی اور کہا کہ اگرچہ راشد روور کو چاند پر اتارنے کی کوشش ناکام رہی لیکن ہم نے اپنی خواہشات کو بلند رکھا۔

انہوں نے خلائی صنعت میں کامیابی کے حصول کے لیے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات خلائی تحقیق کے نئے مشنوں کا آغاز کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اماراتیوں نے اعلیٰ درجے کے خلائی منصوبوں پر کام کر کے اور تیزی سے متحرک قومی خلائی سیکٹر بنانے کی صلاحیت کو ثابت کرتے ہوئے صرف 10 سالوں میں ایک کامیاب خلائی شعبہ قائم کردکھایا ہے۔

واضح رہے کہ راشد روور1 نامی اس چاند گاڑی کو متحدہ امارات کے اپنے انجنئیروں نے تیار کیا تھا۔ یہ متحدہ عرب امارات سمیت پوری عرب دنیا کا پہلا چاند مشن تھا۔

'راشد روور' چاند کے اس حصے میں اترنے کے لیے بھیجا گیا جو اس سے پہلے جہاں انسانوں کی رسائی میں نہیں آیا تھا۔

راشد روور1، 11 دسمبر کو یو اے ای کے وقت کے مطابق 11:38 پر کیپ کینیورل لانچنگ پیڈ فلوریڈا اسپیس ایکس فیلکن 9 راکٹ پر کامیابی کے ساتھ روانہ ہوا تھا تاہم لینڈنگ سے پہلے اس سے رابطہ منقع ہوگیا۔

چاند گاڑی کی لینڈنگ کے لیے ٹچ ڈاؤن سے چند لمحے پہلے جاپان کے آئی اسپیس سینٹر نے کہا تھا کہ اس کا اپنے ہاکوتو - آر مشن 1 خلائی جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے جو متحدہ عرب امارات کے راشد روور کو لے کر جا رہا تھا۔

دنیا کا سب سے کمپیکٹ روور، راشد روور ایک منفرد ترتیب کے ساتھ چاند کی سطح کو عبور کرنے اور اسے دریافت کرنے کے لیے بنایا گیا تھا۔ یہ تقریباً 10 کلو گرام وزنی، روور تقریباً 80 سینٹی میٹر اونچا، تقریباً 53.5 سینٹی میٹر لمبا اور 53.85 سینٹی میٹر چوڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں