انڈین ساختہ کھانسی کا شربت اور بچوں کی موت کا معما، کیا مڈل مین نیا اشارہ ہو سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

گذشتہ برس گیمبیا میں 70 سے زائد بچوں کی موت کا باعث بننے والے انڈین ساختہ کھانسی کے شربت کے حوالے سے سپلائی چین میں شامل ایک کیمیکل تاجر نے انکشاف کیا ہےکہ ممبئی میں ایک نامعلوم مڈل مین نے اس کھانسی کے شربت میں استعمال ہونے والا ایک اہم خام مال فراہم کیا تھا۔

مرنے والے بچے زیادہ تر 5 سال سے کم عمر کے تھے اور بعض شربت پینے کے چند دنوں کے اندر گردے کے شدید زخم سے انتقال کر گئے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق پچھلے سال ہندوستانی مینوفیکچرر میڈن فارماسیوٹیکلز لمیٹڈ کے تیار کردہ شربت میں مہلک زہریلے کیمیکل ایتھیلین گلائکول (ای جی) اور ڈائیتھیلین گلائکول (ڈی ای جی) شامل تھے، جو کار کے بریک فلوڈ میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان اجزاء کو بدعنوان عناصر پروپیلین گلائکول (پی جی) کے متبادل کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں، جو شربتوں کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ ان غیر معیاری اور زہریلے متبادل کمپنیاں ان کی کم قیمت کے پیش نظر استعمال کرتی ہیں۔

ہندوستان کے ڈرگ ریگولیٹر نے دسمبر میں ڈبلیو ایچ او کو بتایا تھا کہ سیرپ میں استعمال ہونے والا پروپیلین گلائکول دہلی میں واقع فارما سپلائی کرنے والی کمپنی گوئل فارما کیمکل سے آیا ہے، جسے جنوبی کوریا کی صنعت کار ایس کے سی کمپنی لمیٹڈ سے درآمد کیا گیا ہے۔

شرد گوئل، جن کی نام کی کمپنی شمالی دہلی میں واقع ہے، نے کہا کہ اس نے یہ جزو سیل بند بیرل میں خریدا تھا ، لیکن براہ راست ایس کے سی سے نہیں۔

گوئل نے پہلی بار بات کرتے ہوئے فروری میں روئٹرز کو بتایا۔ "ہم نے پروپیلین گلائکول ممبئی کے ایک درآمد کنندہ سے خریدا جس نے اسے ایس کے سی سے خریدا تھا"

اس نے کہا "میں سپلائر کا نام نہیں لے سکتا - کیونکہ ہمارے کاروباری روابط ہیں جو ہمیں قائم رکھنے کی ضرورت ہے،" اور یہ کہ ان کی کمپنی نے "کچھ غلط نہیں کیا۔"

انہوں نے کہا کہ "ہمیں جو مہر بند بیرل ملتے ہیں ہم اسے کمپنیوں کو بھیج دیتے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ کچھ نہیں کر سکتے۔‘‘

گوئل کے دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکی۔

انہوں نے کہا کہ گیمبیا میں زہر یلے شربت کے انکشاف کے بعد، ان کی کمپنی نے پی جی کی فروخت بند کر دی تھی لیکن اس نے دیگر مصنوعات جیسے کہ نشاستہ کی فراہمی جاری رکھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ عام طور پر اپنی زیادہ تر مصنوعات 8-10 درآمد کنندگان سے خریدتے ہیں۔

شرد گوئل نے بعد میں کالوں کا جواب دینا بند کر دیا اور جب اپریل میں ایک رپورٹر نے دو بار کال کی تو اسے بلاک کر دیا گیا۔

گوئل کے قریب واقع ایک فیکٹری کے مزدوروں نے بتایا کہ یہ فیکٹری پچھلے کچھ مہینوں سے بند ہے۔

اس بارے میں کورین کمپنی ایس کے سی نے روئٹرز کو بتایا کہ اس نے کبھی بھی گوئل یا میڈن کو کوئی پی جی فراہم نہیں کیا۔

اگر یہ سچ ہے تو، "گوئل کا دعویٰ" گیمبیا، انڈیا اور ڈبلیو ایچ او کی جانب سے اس بارے میں کی جانے والی تحقیقات کے لیے کسی گمشدہ لنک کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

یہ اشارہ اس وقت کافی اہم ہے جب ڈبلیو ایچ او اور گیمبیا کی حکومت کہہ رہی ہے کہ ہندوستان کی جانب سے معلومات کی کمی کی وجہ کیس کی تحقیقات روک دی گئی ہیں۔

ہندوستان کے ڈرگ ریگولیٹر نے دسمبر میں کہا تھا کہ اس کے اپنے لیبارٹری جائزوں میں شربت میں کوئی زہریلا مواد نہیں پایا گیا تھا ، لیکن اس کے فیکٹری انسپکٹرز نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ دوائیوں کے کچھ بیچز کو غلط لیبل لگایا گیا ہے۔

انسپکٹر نے اس حوالے سے ایک نوٹس بھی شربت ساز کمپنی میڈن کو بھیجا تھا۔

ہندوستان کی وزارت صحت نے مبینہ ثالث یا اس کہانی میں اٹھائے گئے دیگر مسائل میں سے کسی کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا۔

سپلائی چین میں ایک مڈل مین ہونے کے دعوے کی تصدیق کے لیے پوچھے جانے پر، ڈبلیو ایچ او کے سرکردہ تفتیش کار روٹینڈو کوانا، جو غیر معیاری اور جعلی ادویات کے واقعات کے لیے ڈبلیو ایچ او کی ٹیم کی قیادت کرتے ہیں، نے کہا کہ ہندوستانی حکام اور دوا ساز کی جانب سے معلومات کی کمی کی وجہ سے انکوائریاں ختم ہو چکی ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے ایک ترجمان نے اس ہفتے کہا کہ اسے ہندوستانی حکام سے اب تک جو معلومات ملی ہیں وہ صرف یہ ہے کہ گوئل نے ایس کے سی سے پروپیلین گلائکول خریدا تھا، لیکن اس تجارت کے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے گئے۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ وہ کوریائی ریگولیٹر کے ساتھ اس لین دین کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ کوریا کی ریگولیٹری نے تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ہندوستان کے ڈرگ ریگولیٹر نے کہا کہ شربت کے خام مال کے بارے میں اس کی معلومات تجزیہ کے سرٹیفکیٹ سے آئی ہے ، یہ معیاری کاغذی کارروائی ہے جو منشیات کی سپلائی چین میں ہر جزو کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

شربت بنانے والی کمپنی میڈن نے گزشتہ اکتوبر میں کہا تھا کہ اس نے "مصدقہ اور معروف کمپنیوں" سے خام مال حاصل کیا ہے۔

اس بات کی تردید کرنے کے ساتھ ساتھ کہ میڈن کے شربت گیمبیا میں ہونے والی اموات سے جڑے ہوئے ہیں، ہندوستان کی وزارت صحت نے ڈبلیو ایچ او کو بتایا ہے کہ اس کے الزامات نے ملک کی 41 بلین ڈالر کی دوا ساز صنعت کی "تصویر کو بری طرح متاثر کیا"۔

میڈن کے باس، نریش کمار گوئل نے دسمبر میں روئٹرز کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے کچھ غلط نہیں کیا، اور مزید سوالات کا جواب ندینے سےانکار کردیا۔

اس کے نئی دہلی ہیڈکوارٹر میں ایک اولین نمائندے نے بھی بات کرنے سے انکار کردیا۔

گیمبیا کی میڈیسن کنٹرول ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ "زہریلے مصنوعات کے انکشاف کے بعد ہماری جانب سے معلومات کی درخواست کے باوجود میڈن یا ہندوستانی حکام نے کوئی پیش رفت نہیں کی۔"

ڈبلیو ایچ او کے تفتیش کار کوانا نے کہا کہ ان کی ایجنسی اب بھی یہ جاننے کا ارادہ رکھتی ہے کہ میڈن کی مصنوعات کے ساتھ کیا ہوا ہے۔

ایجنسی کے شائع کردہ انتباہات کے مطابق، ڈبلیو ایچ او 2 دیگر ہندوستانی دوا سازوں کی سپلائی چین کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کر رہا ہے جنہوں نے ازبکستان اور مارشل آئی لینڈز اور مائیکرونیشیا میں کھانسی کے زہریلے شربت بیچے تھے۔ یہ دونوں کمپنیاں بھی بدعنوانی کا انکار کرتی ہیں۔ بھارتی پولیس نے مارچ میں ان میں سے ایک کے تین ملازمین کو گرفتار کیا تھا۔

ازبکستان میں حکام نے جنوری میں اس کیس کے سلسلے میں چار افراد کو گرفتار کیا تھا۔ مگر ازبک اور مائیکرونیشیا کے حکام نے بھی اس بارے میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

خلاف ورزیاں

دوا ساز کمپنی میڈن میں پیداواری مسائل کا پچھلا ریکارڈ موجود ہے۔

فروری میں، ایک بھارتی عدالت نے کمپنی کے دو ایگزیکٹوز، منیجنگ ڈائریکٹر گوئل اور ٹیکنیکل ڈائریکٹر ایم کے شرما کو تقریباً ایک دہائی قبل ویتنام کو غیر معیاری ادویات برآمد کرنے کے جرم میں ڈھائی سال قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے انہیں اپیل کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا۔ کیس کی موجودہ حیثیت کے بارے میں گوئل نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ نہ شرما اور نہ ہی ان کے وکیل سے رابطہ ہو سکا۔ میڈن کے نمائندے نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

ایک سرکاری دستاویز سے پتہ چلتا ہے کہ ڈرگ انسپکٹرز نے گزشتہ اکتوبر میں میڈن میں درجن بھر خلاف ورزیاں پائی تھیں، جو گیمبیا کو فروخت کیے گئے کھانسی کے شربت کی تیاری سے متعلق تھیں۔ ان میں پروپیلین گلائکول سمیت شربت بنانے میں استعمال ہونے والے خام اجزاء کے کچھ تجزیاتی سرٹیفیکٹ کے بیچ نمبر غائب تھے۔ جب کہ کچھ پر مینوفیکچرنگ اور میعادی تاریخیں درج نہیں تھیں۔

چار صنعتی اور ریگولیٹری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجزاء کہاں سے آئے اس کا کوئی قابل اعتماد ریکارڈ نہیں ہے۔

سرکاری انسپکٹرز کی تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ "میڈن" شربت میں استعمال ہونے والے پی جی کی جانچ کرنے میں ناکام رہا۔ انہوں نے تیار شدہ مصنوعات کی دستاویزات میں تضادات کا حوالہ دیا۔ شربت کی بوتلوں کے لیبل کے مطابق وہ دسمبر 2021 میں بنی تھیں لیکن بیچ مینوفیکچرنگ ریکارڈز نے فروری اور مارچ 2022 کے درمیان کی تاریخوں کی طرف اشارہ کیا۔

ہندوستانی وزارت صحت کے ایک سابق اہلکار کے مطابق، اس عدم مماثلت سے حکومتی جانچ کرنے والوں کے لیے یہ یقینی بنانا مشکل ہو جائے گا کہ وہ جن دوائیوں کا تجزیہ کر رہے تھے وہی گیمبیا بھیجی گئی تھیں۔

کندن لال شرما، جو 2014 اور 2017 کے درمیان وزارت صحت میں ڈرگ اور فوڈ ریگولیشن کے انچارج تھے، نے کہا، "لیبلز اور بیچ کے ریکارڈ میں موجود ڈیٹا میں مکمل تضاد ہے، جو پروڈکٹ کی اصلیت پر سوال اٹھاتا ہے۔"

"اس کا مطلب ہے کہ کچھ گڑبڑ کی گئی ہے،" انہوں نے کہا۔ "کوئی بھی کسی چیز کی ضمانت نہیں دے سکتا جب تک کہ مناسب دستاویزات موجود نہ ہوں۔"

ہندوستان کی وزارت صحت نے یہ بتانے سے انکار کر دیا ہے کہ اس نے اس بات کی تصدیق کیسے کی کہ اس کی لیبارٹری کے ذریعے ٹیسٹ کیے گئے شربت ایک ہی بیچ سے آئے ہیں ۔ اسی طرح دوا ساز کمپنی میڈن نے لیبلنگ یا دستاویزات کے بارے میں سوالات کا جواب نہیں دیا۔

ڈبلیو ایچ او کے تفتیش کار کوانا نے کہا کہ ڈبلیو ایچ او کو دو الگ الگ آزاد لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کے نتائج پر یقین ہے، ان دونوں میں زہریلا مواد سامنے آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی جانب سے بار بار درخواستوں کے باوجود ہندوستانی حکومت کی تحقیقات کے نتائج یا خام مال یا تیار شدہ مصنوعات کے تجزیے کے معیاری سرٹیفیکیٹ نہیں دیے گئے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ وہ اب اپنے رہنما خطوط پر نظرثانی کر رہی ہے کہ حالیہ واقعات کی بنیاد پر ممالک کو ادویات میں خام مال کی نگرانی کیسے کرنی چاہیے۔

یہ پوچھے جانے پر کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ڈبلیو ایچ او اور انڈیا کے ٹیسٹ کے نتائج مماثل نہ ہوں، تفیتیش کار نے کہا کہ ماضی میں ایک واقعہ میں ایک مینوفیکچرر نے ٹیسٹ کے لیے دیے گئے نمونے تبدیل کیے تھے جو مارکیٹ میں موجود ادویات کی نمائندگی نہیں کرتے تھے۔ تاہم وثوق سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آیا اس معاملے میں ایسا کچھ ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں