خلاباز خلا میں چہل قدمی کیسے کرتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

زمین سے ہزاروں کلومیٹر کی بلندی پر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود سلطان النیادی آج خلا میں تاریخی چہل قدمی کر کے پہلے ایسے مسلمان اور عرب خلاباز بن گئے ہیں جو خلائی سیر پر نکلے۔ ان کا تعلق متحدہ عرب امارات سے ہے۔

ناسا کے مطابق انہوں نے آج سات گھنٹے اور ایک منٹ پر محیط اسپیس واک کی جو عالمی وقت کے مطابق 20:12 پر مکمل ہوئی۔ مسلم دنیا ، خصوصا عرب ممالک اور متحدہ عرب امارات میں اس حوالے سے کافی جوش و ولولہ دیکھا گیا ہے۔

اماراتی خلانورد سلطان النیادی
اماراتی خلانورد سلطان النیادی

اس سفر پر ناسا کے سٹیفن بوون بھی ان کے ہمراہ تھے جن کی یہ آٹھویں اسپیس واک تھی۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر 1998 سے اب تک 260 بار خلا میں چہل قدمی کی گئی ہے۔

یہاں بہت سے ذہنوں میں یہ سوال ہوگا ہے کہ خلاباز خلا میں چہل قدمی کیسے کرتے ہیں جبکہ وہاں کشش ثقل تو ہے نہیں؟ اسی طرح ، یہ کہ خلاباز چہل قدمی کرتے کیوں ہیں؟ اور وہ کیا حفاظتی اقدامات ہیں جو خلاباز اس مشن پر جانے سے پہلے لازمی کرتے ہیں؟

خلا میں رہتے ہوئے جب بھی کوئی خلاباز گاڑی سے باہر کھلے خلا میں نکلتا ہے تو اسے اسپیس واک یا خلائی چہل قدمی کہا جاتا ہے۔ یعنی خلانور خلا میں رہتے ہوئے اسپیس کرافٹ سے باہر نکل کر مختلف اہم کام سرانجام دیتے ہیں۔

اسپیس واک پر جانے والا پہلا شخص روسی خلاباز الیکسی لیونوف تھے۔ پہلی سپیس واک 18 مارچ 1965 کو کی گئی تھی اور یہ 10 منٹ طویل تھی۔

نیل آرمسٹرانگ پہلے خلاباز تھے جنہوں نے چاند پر چہل قدمی کی ، وہ 20 جولائی 1969 کو 2 گھنٹے 31 منٹ تک چاند کی سطح پر اپنی چاند گاڑی اپالو 11 سے باہر رہے۔

خلاباز آج بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے باہر خلائی چہل قدمی پر جاتے ہیں جو عام طور پر کام کی نوعیت کے لحاظ سے پانچ سے آٹھ گھنٹے تک جاری رہتی ہے۔

سب سے زیادہ خلائی چہل قدمی کا عالمی ریکارڈ روسی خلاباز اناتولی سولوویف کے پاس ہے جو 16 مرتبہ اسپیس واک پر گئے۔ انہوں نے خلائی گاڑی سے باہر کل 82 گھنٹے سے زیادہ خلا میں گزارے جو تقریباً ساڑھے 3 دن بنتے ہیں!

خلاباز اسپیس واک پر کیوں جاتے ہیں؟

خلائی چہل قدمی متعدد مقاصد کے لیے کی جاتی ہے۔

خلاباز بعض سائنسی تجربات کے لیے خلائی جہاز سے باہر جا سکتے ہیں ، جن سے سائنس دانوں کو یہ جاننے میں مدد ملتی ہے کہ خلا میں رہنا مختلف چیزوں کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ جیسے اس وقت خلا میں موجود عملہ مائیکرو گریویٹی میں انسانی خلیوں کی نشوونما اور آتش گیر مادوں کے جلنے کی صلاحیت پر تجربات کر رہا ہے۔

خلائی چہل قدمی، خلابازوں کو نئے آلات کی جانچ میں بھی مدد دیتی ہے۔ وہ خلا میں موجود سیٹلائٹ یا خلائی جہاز کی مرمت کے لیے بھی باہر جاتے ہیں۔

خلاباز بعض خراب آلات کو زمین پر واپس لانے کے بجائے اسپیس واک پر جا کر ٹھیک بھی کر سکتے ہیں۔

سلطان النیادی اور سٹیفن بوون کی آج کی اسپیس واک ریڈیو فریکوئنسی گروپ یونٹ کو تبدیل کرنے اور سولر پینلز کی تنصیب کی تیاری کے لیے کی گئی تھی۔

خلانورد اسپیس واک پر کیسے جاتے ہیں؟

خلاباز اسپیس اسٹیشن سے باہر نکلنے سے کئی گھنٹے پہلے خود کو تیار کرنا شروع کرتے ہیں۔

جب خلاباز خلائی چہل قدمی پر جاتے ہیں تو وہ خود کو محفوظ رکھنے کے لیے اسپیس سوٹ پہنتے ہیں۔ باہر کے ماحول سے مطابقت کے لیے خلاباز کا مکمل انحصار اس سوٹ پر ہوتا ہے۔ اس میں ماحول اور درجہ حرارت کو کنٹرول کرنے کے لیے ضروری آلات ہوتے ہیں۔

اسپیس سوٹ کے اندر خلاباز کے سانس لینے کے لیے مناسب مقدار میں آکسیجن ہوتی ہے۔ اسی طرح پینے کے لیے ضروری پانی بھی موجود ہوتا ہے۔

خلانورد اسپیس واک سے کئی گھنٹے پہلے اپنے اسپیس سوٹ پہنتے ہیں۔

خلائی سوٹ میں، خلاباز چند گھنٹوں کے لیے خالص آکسیجن میں سانس لیتے ہیں۔ صرف آکسیجن میں سانس لینے سے خلاباز کے جسم میں موجود تمام نائٹروجن ختم ہو جاتی ہے۔ اگر اسپیس واک سے پہلے نائٹروجن سے چھٹکارا حاصل نہ کیا جائے تو خلا میں چلتے وقت جسم میں گیس کے بلبلے بن سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے خلابازوں کو کندھوں، کہنیوں، کلائیوں اور گھٹنوں میں درد محسوس ہو سکتا ہے۔

خلاباز خلائی جہاز سے باہر کیسے نکلتے ہیں؟

خلاباز اب اپنے خلائی جہاز سے باہر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔ خلائی جہاز سے نکلتے ہوئے یہ خیال رکھا جاتا ہے کا ہوا باہر نہ نکلے، اس کے لیے وہ ایک خاص دروازے کا استعمال کرتے ہیں جسے ایئر لاک کہتے ہیں۔

ایئر لاک دراصل دو دروازے ہیں۔ خلائی چہل قدمی پر جانے کے لیے تیار خلاباز پہلے ایک دروازے سے گزرتے ہیں اور اسے اپنے پیچھے مضبوطی سے بند کر دیتے ہیں۔ اس کے بعد وہ خلائی جہاز سے ہوا باہر نکلے بغیر دوسرا یعنی اگلا دروازہ کھول سکتے ہیں۔

خلائی چہل قدمی کے بعد، خلاباز ایئر لاک کے ذریعے واپس اندر جاسکتے ہیں۔

خلاباز اسپیس واک کے دوران کیسے محفوظ رہتے ہیں؟

خلا میں موجود خلاباز اپنے خلائی جہاز کے قریب رہنے کے لیے حفاظتی ٹیتھرز کا استعمال کرتے ہیں۔ ٹیتھرز رسیوں کی طرح ہیں۔ اس کا ایک سرا اسپیس واکر سے اور دوسرا سرا گاڑی سے جڑا ہوا ہے۔ حفاظتی ٹیتھرز خلابازوں کو خلا میں اڑنے سے روکتے ہیں۔ خلانورد آلات کو تیرنے یا اڑنے سے بچانے کے لیے بھی ٹیتھرز کا استعمال کرتے ہیں ۔

خلانوردوں کے لیے خلائی چہل قدمی کے دوران محفوظ رہنے کا ایک اور طریقہ "سیفر" پہننا ہے۔ سیفر ایک بیگ کی طرح پہنا جاتا ہے۔ اگر کوئی خلا نورد بے لگام ہو کر اڑتے ہوئے دور پہنچ جاتا ہے، تو سیفر خلائی جہاز پر واپس جانے میں اس کی مدد کرتا ہے۔ خلاباز ویڈیو گیم کی طرح سیفر کو ایک چھوٹی جوائس اسٹک سے کنٹرول کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں