مشرقِ اوسط اور شمالی افریقا موسمیاتی تبدیلی سے کس طرح متاثرہورہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مشرق اوسط اور شمالی افریقا(مینا) موسمیاتی تبدیلی کے مکمل اثرات کو محسوس کرنے کے لیے تیار ہے۔غیرسرکاری تنظیم (این جی او) گرین پیس نے گذشتہ سال کے آخرمیں خبردار کیا تھا کہ یہ خطہ عالمی اوسط سے تقریبا دُگنا تیزی سے گرم ہوگا۔

پانی کی قلت سے لے کر گرمی کی شدت اور سمندر کی بڑھتی ہوئی سطح تک، یہ خطہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کی طاقت کو محسوس کرنے کو تیار ہے۔مختلف ممالک اور علاقے پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہوچکے ہیں۔اس کی مختصر تفصیل یہ ہے:

خشک سالی اور پانی کی قلّت

خشک سالی کے اثرات کو محسوس کرنے والے نئے ممالک میں سے ایک تُونس ہے۔شمالی افریقا میں واقع یہ ملک مسلسل پانچویں سال خشک سالی کا شکار ہے اورحکام کی جانب سے پانی کی راشن بندی کردی گئی ہے۔

دارالحکومت تُونس سمیت ملک بھر کے بیشتر علاقوں میں سرکاری حکم پرپانی کی راشن بندی جاری ہے اور رات 9 بجے سے صبح 4 بجے تک پانی کے نل سات گھنٹے کے لیے بند کردیے جاتے ہیں۔ حکام نے کھیتوں میں آبپاشی، شہروں میں سرسبز علاقوں کو پانی دینے اور گلیوں اور کاروں کی صفائی کے لیے پینے کے پانی کے استعمال پر بھی پابندی عاید کردی ہے۔

تُونس کے 30 سے زیادہ ڈیموں میں پانی ذخیرہ کرنے کے احکامات پر عمل نہ کرنے والوں کو جرمانے یا جیل کا خطرہ ہو سکتا ہے کیونکہ تُونس کے قریباً تمام ڈیموں میں پانی کی سطح بہت کم ہو چکی ہے، جو ان کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا 17 فی صد سے بھی کم ہے۔

موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے والے اقوام متحدہ کے ادارے آئی پی سی سی کا اندازہ ہے کہ اکیسویں صدی کے دوران شمالی افریقا اور مشرقی بحیرہ روم کا علاقہ تیزی سے خشک ہو جائے گا کیونکہ اس خطے میں مستقبل میں کم بارشوں کا امکان ہے۔

روم میں قائم میڈیا ایجنسی انٹر پریس سروس کے مطابق مصر کو بھی سالانہ قریباً 7 ارب مکعب میٹر پانی کی کمی کا سامنا ہے اور 2025 تک پانی ختم ہوسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے تحت بین الاقوامی تنظیم برائے مائیگریشن (آئی او ایم) کے مطابق عراق کو بھی پانی کے بحران کا سامنا ہے اور توقع ہے کہ یہ بحران جاری رہے گا۔

آب و ہوا کی تبدیلی، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور دریاؤں کے پانی کے رخ موڑنے کے اثرات سب سے زیادہ عراق کے جنوبی صوبوں میں محسوس کیے جاتے ہیں،جیسے مسان۔ اس ماہ کے اوائل میں آئی او ایم نے کہا تھا کہ مسان کی الحدم کمیونٹی کے مکین اکثر اپنے گھر میں استعمال کے لیے مناسب پانی حاصل کرنے کی غرض سے کوشاں رہتے ہیں۔

زراعت اور کاشت کاری

خطے میں پانی کی قلت اور خشک سالی کا اثر ان ممالک میں فصلوں کی کاشت کی صلاحیت پر پڑ رہا ہے۔

اپریل میں زراعت اور موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں تاریخ جمع کرنے والی گرو انٹیلی جنس نے کہا تھا کہ مراکش میں خشک سالی ملک کی جلد کٹائی ہونے والی گندم کی فصل کو نقصان پہنچا رہی ہے اور زیادہ مقدار میں گندم درآمد کرنے کی ضرورت کے امکانات میں اضافہ کر رہی ہے۔

گرو انٹیلی جنس کے مطابق رواں سال اب تک مراکش میں بارش پر منحصرگندم کی کاشت والے علاقوں میں بارش یں 10 سال کی اوسط سے 44 فی صد کم رہی ہیں۔

2022ء میں مراکش کی گندم کی درآمدات میں اضافہ ہوا کیونکہ خشک سالی کی وجہ سے اس کی گندم کی پیداوار میں سال بہ سال کی بنیاد پر60 فی صد کمی واقع ہوئی۔

یونیسیف کے مطابق اردن دنیا کے سب سے زیادہ پانی کی کمی والے ممالک میں سے ایک ہے، جہاں ہر سال فی کس 100 مکعب فٹ پانی دستیاب ہوتا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، کم بارش اور محدود پودے اس کمی میں کارفرما عناصر ہیں۔تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے دستیاب آبی وسائل کو بھی کم کررہی ہے۔

سطح سمندر میں اضافہ

خطے بھرکے ممالک خشک سالی اور پانی کی قلت، سمندر کی سطح میں اضافے کا شکار ہیں جس کی وجہ قطبی برف پگھلنا اور سمندری پانی کے گرم ہونے کے ساتھ ساتھ اس میں توسیع ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق اس صدی کے آخر تک 41 کروڑافراد سمندر کی سطح میں اضافے کا شکار ہوسکتے ہیں، یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا زراعت اور فصلوں کی پیداوار پر قحط کی طرح ہی اثر پڑ سکتا ہے۔

مصر میں، نیل ڈیلٹا میں پانی کی بڑھتی ہوئی سطح ملک کی غذائی پیداوار پر مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک کے مطابق نیل ڈیلٹا مصر کی 10 کروڑ 40 لاکھ آبادی میں سے 40 فی صد کا مسکن ہے اور ملک کی نصف معیشت کاحصہ ہے۔

نیل کی دو شاخوں ، مغرب میں روسیطہ اور مشرق میں دمیاطہ کے ساتھ کھیت اور ماہی گیری ، ملک کو کھلانے اور برآمد کے لیے مصنوعات مہیا کرنے میں مدد کرتے ہیں۔

قبرص انسٹی ٹیوٹ کے موسمیاتی اورماحولیاتی مرکز تحقیق اور میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ فار کیمسٹری کی نگرانی میں سائنس دانوں کے ایک بین الاقوامی گروپ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ڈیلٹا کا ایک چوتھائی حصہ سطح سمندر سے نیچے ہے اور آدھے میٹر اور میٹر کے درمیان پانی میں اضافہ ساحل کو کئی کلومیٹر تک منتقل کر سکتا ہے۔

ولسن سنٹر کے مطابق مینا کی کل آبادی کا سات فی صد سطح سمندر سے پانچ میٹر سے کم بلندی پر واقع علاقوں میں رہتا ہے جن میں مصر میں اسکندریہ اور عراق میں بصرہ جیسے بڑے شہر شامل ہیں۔

امریکامیں قائم تحقیقی ادارے نے کہا ہے کہ سیاحت، ماہی گیری، زراعت اور تجارت سمیت اہم علاقائی صنعتوں کے سمندر کی سطح میں اضافے سے متاثر ہونے کی پیش گوئی کی گئی ہے اور خشک سالی کی طرح، ممکنہ طور پر بڑے پیمانے پر گھریلو اور بین الاقوامی نقل مکانی میں کردار ادا کرے گی۔

گرمی کی شدت

انتہائی درجہ حرارت مینا خطے میں آب و ہوا کی تبدیلی کا ایک اور اثر ہے۔

لانسیٹ جرنل نے اپریل میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ مینا کے تمام ممالک میں گرمی سے متعلق اموات کی اوسط سالانہ شرح فی 100،000 افراد میں 2.1 ہےلیکن اگر درجہ حرارت میں اضافہ انتہائی بڑھ جاتا ہے تو سنہ2100 تک یہ 123.4 فی 100،000 افراد کی بلند ترین سطح تک پہنچ سکتا ہے۔

گرین پیس کے مطابق اگست 2021 میں الجزائر کے جنگلات میں لگنے والی 100 سے زیادہ آگ سے 90 افراد ہلاک اور 10 ہزار ہیکٹر سے زائد رقبے اور جنگلات تباہ ہو گئے تھے۔

جون 2021 میں آگ لگنے سے تُونس میں پانچ ہزار ہیکٹر سے زیادہ اور لبنان میں کم سے کم ساڑھے سات ہزار ہیکٹر جنگلات تباہ ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں