سعودی خاتون نے جازان میں 10ہزار نوادرات پر مشتمل ذاتی میوزیم قائم کر لیا

سو سال سے زیادہ قدیم اشیا بھی موجود، کئی اہم افراد میرے میوزیم کا دورہ کر چکے: ملیحہ بابقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قدیم اشیا کو جمع کرنے کی شوقین ایک سعودی خاتون نے نوادرات جمع کرکے اپنے گھر میں ایک عجائب گھر قائم کر لیا۔ سعودی خاتون ملیحہ بابقی نے جازان میں اپنے گھر میں بنائے میوزیم میں 10 ہزار سے زائد فن پارے جمع کیے ہیں۔ یہ فن پارے انہوں نے تیس سال سے زیادہ عرصے میں جمع کیے۔ ان نوادرات کی خاص بات یہ ہے کہ ان میں بہت سی اشیا سو سال سے زیادہ پرانی ہیں۔

ایم بی سی ون کو اپنے انٹرویو میں بابقی نے بتایا میرے والد ایک تاجر تھے جو مختلف قیمتی اشیاء اور اجناس خریدتے اور بیچتے تھے۔ میں بچپن سے ہی ان اشیا سے محبت کرتی تھی۔

بابقی نے کہا اپنی زندگی کے ایک آخری مرحلے میں میں نے یہ ہولڈنگز اپنے پاس رکھ کر محفوظ کرنا شروع کر دیں۔ جازان کے ورثے سے محبت نے مجھے کپڑے، نایاب سکے اور چیزیں لانے پر آمادہ کر لیا۔

مسز بابقی نے بتایا کہ میرے میوزیم میں پتھر کے برتنوں کی بڑی تعداد موجود ہے جن میں سے کچھ 100 سال سے بھی زیادہ قدیم ہیں اور ساتھ ہی کئی قدیم سکے بھی ہیں۔

مسز ملیحہ بابقی نے بتایا کہ میرے پاس ایسے سعودی ریال بھی ہیں جو شاہ عبدالعزیز کے زمانے کے ہیں۔ ساتھ ہی فرانسیسی ریال بھی ہیں جو عثمانیوں کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

سعودی خاتون نے انکشاف کیا کہ میرے اس ذاتی میوزیم کا کئی اہم افراد نے دورہ کیا ہے۔ ان دوروں میں سب سے نمایاں شاہ خالد کی بیٹی شہزادی موضی اور شاہ فیصل کی بیٹی شہزادی سارہ تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں