سعودی عملے پر مشتمل ایکسیوم خلائی مشن ملتوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایکسیوم خلائی مشن جس میں دو سعودی خلاباز ، بشمول خلاء میں پہلی عرب خاتون بھی شامل ہیں ملتوی ہوگیا ہے۔

بین الاقوامی خلائی اسٹیشن نے بدھ کو ایک بیان میں کہا کہ ہم مئی کے اوائل میں خلائی مشن بھیجنے کے موقع کو حاصل نہیں کر پائیں گے۔ مشن کو لانچ کرنے کی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ "ناسا ، ایکسیوم سپیس اور اسپیس ایکس مل کر کام کر رہے ہیں تاکہ "ایکسیوم مشن 2" شروع کرنے کے بہترین دستیاب موقع کی نشاندہی کی جا سکے۔"

یہ مشن 8 مئی کی رات ، مرکزی وقت کے مطابق 9:43 پر بھیجا جانا تھا۔ جس میں دو سعودی خلابازوں اور مشن کے ماہرین، علی القرنی اور ریانہ برناوی کے ساتھ دو دیگر افراد بھی شامل تھے۔

چاروں کو فلوریڈا میں ناسا کے کینیڈی اسپیس سینٹر میں لانچ کمپلیکس 39 اے سے اسپیس ایکس فالکن 9 راکٹ کا استعمال کرتے ہوئے اسپیس ایکس ڈریگن خلائی جہاز پر سوار ہونا تھا۔

سعودی خلابازوں پر مشتمل آئندہ خلائی مشن سعودی عرب کی جانب سے 1985 میں پہلے سعودی خلاباز عرب شہزادہ سلطان بن سلمان کو خلا میں بھیجنے کے تقریباً 40 سال بعد آیا ہے۔

اے ایکس-2 مشن کو حقیقت بنانے کے لیے، خلاباز سخت تربیت اور تیاری سے گزر رہے ہیں، جس میں خلاء میں 12 دن رہنے کا تصور، اور ہیومن ایکسپلوریشن ریسرچ اینالاگ (ایچ ای آر اے) میں شرکت، جو کہ ایک انتہائی سخت تربیتی پروگرام ہے۔

ایکسیوم اسپیس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے "اے ایکس-2 کا عملہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر اپنے مشن کے لیے تیار ہے۔"

اس مشن پر جانے والا عملہ ڈی این اے نینو تھراپیٹکس سے لے کر زمین کے قریبی مدار میں کینسر کی تحقیق تک مختلف قسم کے تجربات کریں گے۔

ٹیم مائیکرو گریوٹی میں کلاؤڈ سیڈنگ اور اسٹم سیلز کی پیدائش پر مائیکرو گریوٹی کے اثرات کا بھی جائزہ لے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں