سوڈان سے انخلا کے آپریشن میں شریک اردو بولنے والی سعودی خاتون فوجی کا انٹرویو

انخلا آپریشن میں شرکت ہمارے لیے باعث فخر ، یہ قیمتی مشن ملک کی پکار کے جواب میں انجام دیا جارہا: روان الدحمان کی ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read


سعودی خواتین فوجیوں نے سوڈان سے لوگوں کے انخلا کے سعودی آپریشن کے دوران بزرگ خواتین کا دھیان کرکے، ان کی مدد کرکے یا بچوں کا دیکھ بھال کرکے دنیا بھر کے میڈیا کی توجہ حاصل کرلی ہے۔ فوجی کارروائی کے دوران ان کی انسانی ہمدردی کے کاموں بڑے پیمانے پر سراہا جارہا ہے۔

اس تناظر میں میں سعودی فوجی خاتون ’’راون الدحمان‘‘ نے ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو کی۔ اردو زبان بولنے والی سعودی خاتون فوجی روان الدحمان نے کہا ’’اس میں کوئی شک نہیں کہ وزارت دفاع میں شمولیت کا اعزاز خواتین کو بااختیار بنانے پر مشتمل ہماری دانشمندانہ قیادت کی طرف سے ہمارے لیے تیار کردہ ویژن کا ہی ایک نتیجہ ہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی ہدایات کی روشنی میں وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی کاوشوں کی بدولت ہی آج ہم جیسی خواتین سعودی فوج کا حصہ ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج میں ہمارے کام کی نوعیت کے حوالے سے بات کریں تو یہ کئی طرح کے کام ہیں۔ خواتین کئی شعبوں میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ خواتین فضائی اڈوں میں سیکورٹی اور حفاظت، تربیت، بحالی اور ترقی کے امور میں بھی شریک ہیں۔ ان شعبوں میں سب سے اہم انفارمیشن ٹیکنالوجی کا میدان، فضائی پولیس کا میدان، سلامتی اور تحفظ، قانونی میدان، انتظامی میدان، اور دیگر ہیں۔

سوڈان سے انخلا کے آپریشن کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے روان الدحمان نے کہا یہ ایک شاندار تجربہ تھا، ہم نے اسے وطن کی پکار کے جواب میں اور فیاض قیادت کی ہدایات پر عمل درآمد کرتے ہوئے انجام دیا۔ ہم نے جلد از جلد برادر اور دوست ملکوں کے افراد اور سعودی شہریوں کو سوڈان سے نکال کر سعودی عرب پہنچایا۔ انہیں ضروری دیکھ بھال اور تمام خدمات فراہم کیں۔ یہ وہ مقام ہے جو ہمارے حقیقی مذہب کی تعلیمات سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ سب وہ ہے جو ہم نے اس مہربان ملک میں سیکھا ہے۔ یعنی بھلائی کرنا، دوسروں کی مدد کرنا اور ضرورت مندوں کو ریلیف فراہم کرنا۔

ان عہدوں پر خواتین کی موجودگی کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے روان نے کہا خواتین معاشرے کا نصف ہیں اور خاندان اور قوم کی تعمیر میں کلیدی شراکت دار ہیں۔ سعودی فضائیہ میں بطور افسر اور اہلکار خواتین کا کام کرنا مسلح افواج میں خواتین کی اہمیت اور ان کے کردار کی عکاسی کر رہا ہے۔

نوجوان خاتون نے انکشاف کیا کہ وہ اردو زبان روانی سے بولتی ہیں۔ انہوں نے کہا "زبانیں سیکھنے کے میرے شوق نے، خاص طور پر اردو کے حوالے سے میرے شوق نے مجھے اسے سیکھنے پر آمادہ کیا۔ اس طرح میں نے اردو کو سیکھنے میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھایا۔ سعودی خاتون فوجی روان الدحمان نے کہا میں نے خصوصی کورسز کر کے سرٹیفکیٹ حاصل کیا اور اردو زبان میں مہارت حاصل کی۔ اردو بولنے اور لکھنے میں روانی حاصل کی۔ اس زبان کے فوائد اس وقت ظاہر ہوئے جب ہم اردو بولنے والے ملکوں کے شہریوں کو قبول کرتے ہیں۔ اس زبان پر میری مہارت نے مجھے ان کے ساتھ بات چیت کرنے اور انہیں ضروری دیکھ بھال فراہم کرنے کے قابل بنا دیا۔

جب ان سے ٹیلی ویژن سکرینوں اور بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں پر سعودی خواتین فوجیوں کی تصاویر اور شہریوں کے ساتھ ان کے انسانی سلوک کے بارے میں پوچھا گیا تو روان نے جواب دیا کہ ہماری شرکت ہمارے لیے فخر اور اعزاز کا باعث ہے۔ یہ بنیادی طور پر ایک قیمتی قومی مشن ہے جو وطن کی پکار کے جواب میں انجام دیا جارہا ہے۔ ہماری خواتین کا یہ کردار عورتوں کے مقام اور وقار کی عکاسی کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں