"حفاظتی بیلٹ ڈھیلی تھی" جاں بحق سعودی فوٹوگرافر کے بھائی نے تفصیل بتا دی

ہانی الزہرانی 300 فٹ اونچائی سے پہلو کے بل گرا، اس کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی: متعب الزہرانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جمعرات کی صبح پہاڑی چوٹی سے گر کر جاں بحق ہونے والے سعودی فوٹو گرافر ہانی الزہرانی کے بھائی نے حادثہ کی تفصیل بتائی ہے۔

ہانی کے بھائی متعب نے بتایا کہ ہانی الزہرانی 300 فٹ کی بلندی سے گرا، جائے وقوعہ تک پہنچنے میں دشواری کی وجہ سے ریسکیو میں تاخیر ہوئی۔ اس کو بچانے کے لیے صرف ایک دوست موجود تھا۔

ہانی کے بھائی متعب الزہرانی نے بتایا کہ ہانی سودہ کی ترقی کے لیے کام کرنے والی ایک کمپنی میں کام کر رہا تھا اور سودہ پہاڑ سے ہی گر کر جاں بحق ہوگیا۔

متعب نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ہانی کی موت سے 3 گھنٹے قبل میں اس سے رابطہ میں تھا۔ صبح دس بجے ہانی نے سودہ میں 10 میٹر کے فاصلے سے ایک پہاڑ سے ویڈیو کلپ لینا چاہا۔ تاہم اس نے حفاظتی بیلٹ کو غلط طور پر باندھ لیا اور 300 فٹ کی بلندی سے گر گیا۔ ہانی پہلو پر گرا۔ اس کی کمر اور ریڑھ کی ہڈی میں فریکچر ہوگیا۔

اس کے گرنے کے بعد ہلال احمر، سول ڈیفنس اور سکیورٹی ایوی ایشن سے رابطہ کیا گیا لیکن وہ اس علاقے میں نہ پہنچ سکے جس میں ہانی گرا تھا۔ متعب نے بتایا کہ انتقال سے 15 منٹ پہلے تک میں نے ہانی کی آواز سنی تھی۔

متعب نے مزید کہا کہ ریسکیو آپریشن صبح دس بجے سے سہ پہر چار بجے تک جاری رہا۔ اس کے کوہ پیمائی کرنے والے ایک دوست نے فیصلہ کیا کہ وہ علاقے میں کئی لوگوں کی مدد سے "ہانی" کی لاش کو نکالے۔ ریسکیورز اور ہم اسے مکہ منتقل کرنا چاہتے تھے لیکن کچے راستے اور بارش کی وجہ سے اسے الباحہ منتقل کر دیا گیا۔ اس کی تدفین آبائی شہر میں کر دی گئی ہے۔ متعب نے بتایا کہ اس کا بھائی ہانی شادی شدہ تھا اور اس کے تین بچے تھے۔ اس کی سب سے بڑی بیٹی کی عمر گیارہ سال ہے۔

خیال رہے فوٹوگرافر اور مصور ہانی الزہرانی مشرقی صوبے کے مکہ کے ایک الیکٹرونک اخبار میں فوٹوگرافی کے شعبہ کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ سعودی الاتحاد کلب میں فوٹوگرافر کے عہدے پر بھی فائز تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں