نیتن یاہو اور گیلنٹ کا اختلاف، کیا ایران اس سے ’’ ایٹمی‘‘ فائدہ اٹھا سکے گا؟

تہران نے 20 سے 60 فیصد تک افزودہ مواد جمع کر رکھا جو 5 جوہری بم بنانے کے لیے کافی: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک عبرانی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے جب سے یہ سمجھ لیا ہے کہ شرق اوسط کے خطے میں کھیل کے قوانین سعودی عرب کے ایران کے ساتھ تعلقات کے نتیجے میں تبدیل ہو گئے ہیں، اسرائیل کو خطرہ وزیر دفاع یوو گیلنٹ اور وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی طرف سے بھی بڑھ گیا ہے۔ یہ خطرات نہ صرف ایران کی جوہری طاقت بننے کی کوششوں کی صورت میں ہیں بلکہ اس کی جنگی صلاحیتوں کے بہتر ہونے کی صورت میں بھی ہیں۔ ایران کے شام، لبنان، مغربی کنارے اور غزہ میں تنظیموں کو ہتیھار فراہمی کی صورت میں بھی ہوسکتے ہیں۔ مسلح تنظیموں کی مدد کرکے ایران اسرائیل کا گھیراؤ کرکے جنگی حلقہ بنا سکتا ہے۔

امریکی حکام کے تل ابیب کے مسلسل دوروں اور ان کے اسرائیلی ہم منصبوں سے ملاقاتوں کے دوران اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ اسرائیل ایران کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرے یا ایسے اقدامات نہ اٹھائے جس پر اتفاق نہ ہو، نیتن یاہو اور گیلنٹ کے درمیان ہم آہنگی سے متعلق ہر چیز پر تنازع کھڑا ہو گیا۔ امریکہ نے ایرانی معاملہ میں وزیر اعظم کو واشنگٹن کا سفر کرنے سے روکا کہ وہ خطے میں سلامتی کے مختلف امور پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے امریکی حکام سے ملاقاتیں کریں۔

نیتن یاہو نے اسرائیل میں موجود کانگریس کے ارکان کی ملاقاتوں کو ایرانی معاملہ اور اسی پر گفتگو تک محدود رکھا۔ ایک ایسا رویہ جس نے اسرائیل میں بحث اٹھائی کیونکہ انہوں نے کبھی بھی کسی وزیر اعظم اور اس کے سکیورٹی کے وزیر کو کسی بھی دورے سے نہیں روکا تھا۔

گیلنٹ کو سفر سے روکنے کے بارے میں اسرائیلی موقف منقسم ہے کیونکہ کچھ جماعتوں کا خیال ہے کہ یہ فیصلہ وزیر اعظم کو امریکی صدر جو بائیڈن سے ملاقات کے لیے مدعو نہ کیے جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ نیتن یاہو کے مطابق کوئی بھی سرکاری عہدیدار واشنگٹن میں کسی امریکی عہدیدار سے ملاقات نہیں کرے گا جب تک وہ وہاں نہیں پہنچ جاتے۔ دیگر فریقوں نے دیکھا کہ عدالتی اصلاحات کے منصوبے پر گیلنٹ نے اختلاف کیا تو انہیں برطرف کردیا گیا۔ بعد میں عدالتی اصلاحات کا اقدام واپس لے لیا گیا مگر نیتن یاھو اور گیلنٹ کے درمیان تعلقات میں تناؤ باقی رہا۔

دھمکی اور وعدہ

گیلنٹ کو نیتن یاہو حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے اور اس کی پالیسی سے غیر مطمئن وزیروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وہ سکیورٹی حکام سے ملنے یونان گئے اور وہاں انہوں نے ایران کو دھمکی دی اور اس کی یورینیم کی افزودگی کے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے 20 سے لیکر 60 فیصد تک افزودہ مواد جمع کرلیا ہے جو پانچ ایٹمی بم بنانے کے لیے کافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی جوہری پروگرام اب تک کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ مرحلے میں ہے۔ اس لیے ہمیں کوئی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ایران ایک جوہری بم پر اکتفا نہیں کرے گا۔

گیلنٹ کی ان باتوں سے اسرائیل میں یہ بحث اٹھی کہ ایران کے پاس یورینیم کی افزودگی کی شرح کیا ہے اور کیا ایران واقعی مستقبل میں جوہری ریاست بن جائے گا۔ لیکن اس کے بعد گیلنٹ نے پھر ایران کو اسرائیل اور پورے خطے کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا اور یہ کہا کہ ایران کی جانب سے ایٹمی مواد کی 90 فیصد تک افزودگی ایک بہت بڑی غلطی ہوگی اور اس کی ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

گیلنٹ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جوہری ایران کو روکنے کے لیے اپنی جنگ میں اسرائیل کے شانہ بشانہ متحرک ہو جائے۔ وزارت دفاع نے کہا کہ ایران بیک وقت اپنا جوہری پروگرام مضبوط بنا رہا ہے اور ساتھ ہی خطے میں اپنی پراکسیز تک ہتھیار پھیلا رہا ہے۔

شام ایرانی ہتھیاروں کا ذخیرہ

اپنے انتباہ اور ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں مسٹر گیلنٹ نے دعویٰ کیا کہ شام ایرانی ہتھیاروں کا ذخیرہ بن چکا ہے۔ انہوں نے ایک اسرائیلی رپورٹ کی تفصیلات سے آگاہ کیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایران نے گزشتہ چھ ماہ کے دوران شام کو کافی تعداد طیارے بھیجے ہیں۔ ہتھیاروں کی منتقلی کا یہ عمل تقریبا ہر ہفتے انجام پاتا ہے تاہم شرط یہ ہوتی ہے کہ یہ ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال کیے جائیں۔ گیلنٹ نے دھمکی دی کہ شامی حکومت نے اسرائیل کے خلاف کوئی بھی جارحیت کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ہم ایران کو شام میں ایک فوجی قوت قائم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے ۔

یونان سے گیلنٹ کی ان دھمکیوں کے ساتھ ساتھ نیتن یاہو نے امریکی کانگریس کے ارکان کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ وہ ایران کو 50 شمالی کوریا کے برابر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے دنیا اور امریکہ کے لیے ایرانی خطرے کے بارے میں اپنے دفتر سے انتباہ جاری کیا اور کہا کہ ایران ایک نظریاتی قوت ہے جو اسرائیل کو ایک چھوٹی طاقت اور ایک چھوٹے شیطان کے طور پر دیکھتی ہے۔ ایران امریکہ کو بڑا شیطان شمار کرتا ہے۔ اگر ایران نے جوہری بلیک میلنگ کے ذریعہ امریکہ کے کسی بھی شہر کے حوالے سے دھمکی دی تو تاریخ بدل جائے گی۔

امریکی پالیسی

ایرانی مسئلہ پر گفتگو کے دوران اسرائیلیوں نے شام کی صورت حال پر اپنی تشویش کو کھل کر اظہار کیا اور بتایا کہ شام میں ایرانی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے۔ ہتھیاروں کی بلا روک ٹوک منتقلی ہو رہی۔ ایرانی حکام مسلسل دورے کر رہے ہیں۔ امریکہ نے اپنا موقف اپنایا کہ موجودہ صورت حال پر اپنائی گئی پالیسی برقرار رہے گی ۔ دوسری طرف اسرائیل کا خیال ہے کہ امریکہ کی حالیہ پالیسی ایران کو جوہری طاقت بننے میں مدد فراہم کر رہی ہے۔

ایرانی مسئلے پر اسرائیلی بحث اس وقت بڑھ گئی جب ایران ایرانی صدر رئیسی نے شام کا دورہ کیا۔ اس دورہ کے موقع پر جواب میں اسرائیل نے شام میں اہداف پر بمباری کی۔

نفسیاتی ہتھیار

اسرائیلی سفارت کار اور کنیسٹ کے سابق رکن زلمان شوال نے اسرائیلی رہنماؤں کی جانب سے ایران کو دی جانے والی دھمکیوں سے بھی خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے انتباہات کے جواب میں جوابی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ بڑے پیمانے پر نفسیاتی جنگ کے نتائج ان کے ارادے کے برعکس ہوں گے تاہم شمالی محاذ جنگ پر بھی تیزی آ سکتی ہے۔

شوال نے کہا کہ فوج اور سیکورٹی رہنما جنگ کے امکان کے بارے میں عوام کے خوف کو دور کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔ ایک وسیع پیمانے پر بڑھتا ہوا خوف متاثرین کو عسکریت پسندوں کے جوش و خروش اور دو وزارا بن گویر اور سماٹریچ کے انتہا پسندانہ اقدامات کو روکنے کی کوششوں میں مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا ہمیشہ یاد رکھا جائے کہ بڑے پیمانے پر نفسیاتی جنگ میں ہتھکنڈوں کے نتائج کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ اسرائیلی حزب اختلاف میں موجود انتہا پسند گروپ من گھڑت خبریں پھیلانا چاہتے ہیں۔

شوول نے ایران کے نئے اندازِ فکر کے بارے میں بھی خبردار کیا اور کہا کہ ایرانی جارحانہ بیان بازی کو اسرائیل کے خلاف نفسیاتی جنگ میں ایک ہتھیار کے طور پر سمجھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا اس وقت جب اسرائیل ہی جنگوں کے میں حصہ لینے والا ہے تو ایران ایسا طریقہ اختیار کر رہا ہے جسے اسرائیل نے لبنانی حزب اللہ، اسلامک جہاد گروپ اور بعض اوقات حماس کے حوالے سے اختیار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں