حضرت علی رضی اللہ عنہ کو موساد نے قتل کیا: الخزعلی کے بیان سے عراق میں طوفان برپا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عراق میں اس وقت شدید تنازع پیدا ہوگیا جب رہنما قیس الخزعلی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قتل کا الزام اسرائیلی انٹیلی جنس پر عائد کردیا۔
عراقیوں نے بڑے پیمانے پر اس ویڈیو کو شیئر کیا جس میں جماعت ’’ اہل الحق‘‘ کے رہنما قیس الخزعلی ’’مہدوی فکر‘‘ پر لیکچر دے رہے ہیں۔ ’’ امام علی‘‘ کرم اللہ وجھہ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں سرخ جھنڈوں والوں نے شہید کیا اور سرخ جھنڈوں والے یہ افراد موساد کے تھے۔
ان کے اس بیان پر طنز پر مبنی بڑا رد عمل آیا۔ لوگوں کی بڑی تعداد نے قیس الخزعلی کو یاد دلایا کہ اس دور میں موساد اور اسرائیل کا مجموعی طور پر کوئی وجود ہی نہیں تھا۔
دیگر افراد نے کہا کہ الخزعلی کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کیا کہ رہے ہیں۔ ان افراد نے یہ بیانات بھی یاد دلائے جس میں الخزعلی نے کہا تھا کہ سابق عراقی صدر صدام حسین ہندوستانی نژاد تھے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب الخزعلی نے تنازعہ کھڑا کیا ہو۔ گزشتہ ماہ اپریل کے آخر میں عراقیوں نے اس بنا پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ صدام حسین کے جنیاتی تجزیے یعنی ڈی این اے سے ثابت ہوا ہے کہ صدام حسین ہندوستانی تھے۔
2017 میں سرکاری سرکاری میڈیا سے وابستہ میگزین ’’ الشبکہ‘‘ نے صدام کی اصلیت کے بارے میں ایک تحقیقات شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جینیاتی جانچ سے ثابت ہوا کہ وہ جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان، ہندوستان، تاجکستان، ایرانی بلوچستان اور افغانستان اور کچھ حد تک مشرق وسطیٰ میں پھیلے ہوئے "ایل" خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔
اس مطالعہ نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ اس نتیجہ تک کیسے پہنچا گیا ہے۔ اس حوالے سے کسی بھی سائنسی ذریعہ کا حوالہ بھی نہیں دیا گیا تھا۔
واضح رہے صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کو 20 سال گزر چکے ہیں۔ امریکی صدر بش نے 20 مارچ 2003 کو آپریشن کے خلاف جنگ کا اعلان کیا۔ 9 اپریل 2003 کو صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا تھا۔ آٹھ ماہ روپوش رہنے کے بعد صدام حسین کو گرفتار کرلیا گیا اور پھر دسمبر 2006 میں صدام حسین کو پھانسی دیدی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں