80 سال روٹیاں بنانے والے والد کے کام کو آگے بڑھانے والی سعودی خاتون کی کہانی

بیکری کو چیلنجز کا سامنا، روٹی کی کم قیمت کے مقابلے میں اخراجات زیادہ ہوتے جارہے: خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

بخور کی خوشبو حجازی راوشین سے پھیلتی ہے، اس جگہ قرآنی آیات کی گونج ہے اور راہگیر ان آیات پر غور کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔ سڑک پر گزرنے والے سقہ ان بچوں سے تصادم سے گریز کرتاہے جو "الکبوش" کا کھیل کھیل کر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ یہ 1926 میں مکہ مکرمہ میں اس گلی میں ایک ہجوم ہے۔ دس سالہ ’’ سیف‘‘ اس جگہ سے کھسک گیا۔ اس کا چہرہ اس کی عمر سے بڑا دکھائی دے رہا ہے۔ سیف کا ذہن بیکری میں اپنے کام اور اپنے ہوم ورک کے درمیان گھومتا رہتا تھا۔

اس وقت سے تین سال قبل سعودی ریاست سے الحاق کے بعد شاہ عبد العزیز کی جانب سے مکہ مکرمہ کو حفاظت کے سائے میں پناہ دی گئی تھی۔ سیف نے اپنا بیگ پکڑا اور اس جگہ سے نکل کرجدہ چلا گیا۔ اس نے معروف الفلاح سکول سے مڈل کا سرٹیفکیٹ حاصل کر رکھا تھا۔ اس نے "بیکر" کے ہنر میں مہارت حاصل کی۔ اس کے بعد وہ ’’ المظلوم‘‘ محلے میں بیکری ’’ الصعیدی‘‘ میں کام کرنے کا اہل ہوگیا۔

200 سال قدیم اس بیکری کی ملکیت جدہ البلاد میں رہنے والے "انکل السیف" کو اس وقت منتقل کر دی گئی جب دکان کے مالکان نے سیف کی بیکری میں دلچسپی، عزم اور اس کی روٹی سے وفاداری کو دیکھا۔ السیف نے 80 سال اس بیکری کو چلانے میں لگا دیے۔ انکل سیف 2014 میں انتقال کر گئے تو انہوں نے اپنے پیچھے تین لڑکیاں چھوڑیں۔ ان کی یہی خواہش تھی کہ اس تندور کی آگ نہ بجھے اور یہاں بننے والی روٹیوں سے بدبو نہ آئے۔

مرحوم عبیر سیف کی بیٹی نے بیکری کی اس کہانی کو ختم کرنے سے انکار کردیا اور اپنے والد کا کام جاری رکھا۔ اس نے المظلوم محلے میں اپنی پرورش کے بارے میں ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح اس زمانے میں گھر اور دل ایک دوسرے کے قریب ہوتے تھے۔

اپنے والد سے محبت کے اظہار کا تقاضہ یہ بھی تھا کہ بیکری سے محبت کی جائے اور اسے بند ہونے سے بچایا جائے۔ سیف کی بیٹی نے اپنے والد کا بیکری سے لگاؤ دیکھا تھا اور دیکھاتھا کہ وہ کس طرح بیکری کے لیے آنسو بھی بہاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ سیف کی بیٹی نے اپنے والد کے آخری آرام گاہ پہنچنے سے قبل ہی ان کے کان میں سرگوشی کردی تھی کہ اس بیکری کی کی چنگاریاں بجھے کی نہیں اور اس کی روٹی کا ذائقہ بھی برقرار رہے گا۔

سیف کی بیٹی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بیکری کی روٹی کے خفیہ ذائقوں کی ترکیب میری یادداشت میں موجود تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ دوپہر کے وقت مزیدار اور مستند ذائقے کے لیے "الشریک" کی روٹی اور رسک خریدتے ہیں۔ کچھ سعودی خاندان سکالر شپ پر تعلیم حاصل کرنے والے اپنے بچوں کو بیکری "الشریک" بھیجتے ہیں۔ صبح کے وقت یہاں شامی روٹی بنائی جاتی ہے۔

ام سیف نے اپنے والد سے 10 قسم کی مزیدار روٹیوں کی ترکیب حاصل کی ہے۔ یہ روٹیاں وہ گاہکوں کے لیے نہیں بلکہ اپنے لیے بناتی ہیں کیونکہ یہ مہنگی روٹیاں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بیکری کو اب چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ اس کی مصنوعات کی قیمت اخراجات کے مقابلے میں کم ہے۔ ان کے والد کے دور میں بیکری کے مزدوروں کی تعداد 17 تھی اور اب یہ تعداد کم ہوکر چھ رہ گئی ہے۔ انہوں نے بتایا میں اس پیشے سے منسلک اچھے نانبائی کی تلاش میں ہوں۔ میں کسی بھی سعودی کو پڑھانے اور سکھانے کے لیے تیار ہوں۔ پچھلے 8 سالوں سے میں دکان کی نگرانی کر رہی ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں