20 سال گذر گئے، ریاض کے الحمرا دھماکوں میں بھائی کو کھونے والی بہن کا درد کم نہیں ہوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

2003 میں ریاض بم دھماکوں میں جاں بحق ہونے والے "محمد البلیہد" کی موت کی برسی کے موقع پر ، ان کی بہن ''ہدی البلیہد'' اس سانحے کے 20 سال بعد بھی کرب ناک لمحات کی تفصیلات یاد کرنا نہیں بھولیں۔

12 مئی 2003 کی شب ریاض کے مضافات میں واقعے 3 رہائشی کمپاؤنڈز پر دہشت گرد حملے اور دھماکے میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے تھے۔

اس حملے میں دہشت گردوں کا نشانہ بننے والے اپنے بھائی کی فرقت کے لمبے عرصے بعد بھی غمزدہ بہن کا درد پہلے دن کی طرح تازہ ہے۔

ہدی نے مرحوم کے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں بھی بیان کیا کہ ان کی عدم موجودگی نے ایک ناقابل بیان درد چھوڑا ہے، کیونکہ وہ سب سے پیار کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ بہت اچھے بھائی، شوہر، والد اور دوست تھے۔

آخری قیامت خیز شب

ہدی نے العربیہ کو دھماکوں کی شب کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ حملے سے پہلے وہ باقی راتوں کی طرح ایک عام رات تھی۔

محمد اس وقت ریاض کے الحمرا کمپلیکس میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ موجود تھے جب اچانک یہ رہائشی احاطہ دھماکوں کی آواز سے گونج اٹھا۔

دھماکوں کی خبر آنے کے بعد ہر طرف خوف و ہراس پھیل گیا۔

ہدی نے اس دن احاطے کے سامنے کے منظر کو یاد کرتے ہوئے دردناک اور المناک قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہر طرف تباہی کا منظر ، چیخ و پکار ، لاشیں اور بہت سی خواتین، بچے اور مرد شدید زخمی نظر آئے۔

"ہم احاطے کے باہر اس امید پر بیٹھے رہے کہ ہمیں بھائی کے بارے میں کوئی خبر ملے گی ۔۔۔ درد اور خوف کے احساسات کے درمیان ۔۔۔ یہاں تک کہ ہمیں اس کی موت کی خبر مل گئی۔"

جدائی کا دکھ

" میں اپنے دکھ کو کیسے بیان کروں، یہ دکھ ناقابل بیان ہے" ہدی نے کہا۔

محمد البلیہد اس رات دہشت گردی کا شکار ہونے والے بہت سے لوگوں میں سے ایک تھے ۔ اس وقت ان کی عمر 29 سال تھی۔

ہدی نے بتایا کہ وہ ایک پرجوش نوجوان تھا جس نے سیکھا، پڑھا اور سخت محنت کی۔

انہوں نے ریاض کی شاہ سعود یونیورسٹی سے گریجویشن کی اور امریکا سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی تھی۔

وہ دوست احباب میں کام کے لیے اپنے عزم اور لگن کے لیے بھی جانے جاتے تھے۔

ہدی نے کہا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک کرتے تھے۔

وفات کے وقت محمد البلیہد نے اپنے سوگواران میں دو کم سن جڑواں بچوں، لین اور لیان کو بھی چھوڑا تھا۔

35 افراد کی جان گئی

12 مئی 2003 کو ریاض کے مضافات میں 3 رہائشی احاطوں پر کم از کم 15 افراد نے حملہ کیا تھا۔

حملہ آوروں نے کمپاؤنڈ میں کار بم دھماکہ کیا جس میں 9 امریکیوں سمیت 35 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے۔

نشانہ بنائے گئے رہائشی مراکز گنجان آباد تھے اور ان میں کافی تعداد میں مغربی ممالک کے افراد بھی رہائش پذیر تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں