امریکی کانگریس میں مشرق وسطی کے بہترین شاورما پر بحث کیوں ہوئی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ہفتے امریکی کانگریس کی ایک نئی سماعت اس وقت لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئی جب اس میں بحث کی گئی کہ 'مشرق وسطی کا بہترین شاورما' کہاں ملتا ہے؟ اس کی ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر خوب گردش کر رہی ہے۔

کانگریس کی سماعت میں ، امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے اردن میں نئے سفیر کے طور پر نامزد ''یائل لیمپرٹ"' سے مشرق وسطیٰ میں بہترین شاورما کے بارے میں پوچھا گیا۔ یہ ایسا سوال تھا جس کی حاضرین کو توقع نہیں تھی۔

"میں آگاہ ہوں کہ آپ شاورما کے ساتھ تصاویر ، شاورما سے محبت کے لیے مشہور ہیں۔ یہ بہت حساس سوال ہے، لیکن میں جاننا چاہتا ہوں کہ مشرق وسطیٰ میں بہترین شاورما کہاں سے ملتا ہے؟" باب مینین ڈیز، امریکا کے سینئر سینیٹر نے سفیر یائل لیمپرٹ سے پوچھا۔

اس سوال پر سیشن میں موجود حاضرین میں قہقہہ گونجا اور سوشل میڈیا صارفین بھی بے حد محظوظ ہوتے رہے۔

"مسٹر سینیٹر، یہ واقعی ایک بہت ہی حساس سوال ہے، اور یہ خطے میں میرے لیے مسائل کا باعث بن سکتا ہے.... لیکن اس میں کوئی شک نہیں، اردنی شاورما مشرق وسطیٰ میں اب تک کا بہترین ہے"، یائل لیمپرٹ نے جواب دیا۔

اردن کی لیے نئی امریکی سفیر دراصل اپنے دورہ اردن کے دوران پرانی ویڈیوز اور تصاویر میں شاورما سے لطف اندوز ہوتے اور تعریف کرتی دیکھی گئی ہیں۔

فیس بک پر اردن میں امریکی سفارت خانے کے آفیشل اکاؤنٹ نے 2021 میں ایک ویڈیو شائع کی تھی جس میں سفیر یائل لیمپرٹ کو بہترین شاورما کی تلاش میں سرگرداں دکھایا گیا تھا۔

لیمپرٹ کو اردن کے دارالحکومت عمان کی گلیوں میں شاورما کھاتے ہوئے دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی لوگ "اردن آنا اور شاورما کھانا پسند کرتے ہیں۔"

شاورما اگرچہ مشرق وسطی کے بہت سے ملکوں میں مشہور ہے لیکن اردن میں یہ بے حد مقبول کھانا ہے۔ خصوصا ملازمت پیشہ ، اور مصروف ماؤں کے لیے اس کی تیاری اور خریداری جیب پر بھاری نہیں ہوتی اور ذائقے پر بھی سمجھوتہ نہیں کرنا پڑتا۔

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شاورما کی ابتدا عثمانی دور حکومت میں ترکی میں ہوئی لیکن یہ 20 ویں صدی کی ساٹھ کی دہائی میں اردن میں داخل ہوا اور یہاں کا مقبول ترین کھانا بن گیا۔

گذشتہ برسوں کے دوران یہ اردن کی ثقافت کے ایک لازمی حصہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں آنے والے سیاحوں میں بھی یہ بے حد مرغوب ہے۔

اگرچہ کورونا کے بعد پابندیوں اور معاشی دھچکے سے اس کی قیمت دوگنی ہوگئی ہے مگر ریستوران مالکان کا کہنا ہے کہ شوارما اب بھی سب سے زیادہ طلب کی جانے والی اشیاء میں سرفہرست ہے۔

اردن میں شاورما پر قدیم ریستورانوں کی اجارہ داری کو چیلنج کرتے جدید ریستوارانوں میں اب شاورما روایتی انداز سے ہٹ کر مختلف اور منفرد طریقوں سے بنایا جاتا ہے۔ شامی پناہ گزینوں کی آمد کے بعد یہاں شامی طرز کے شاورما ریستوران بھی کھل گئے ہیں۔

لیکن اب بھی اردن کے قدیم علاقوں، تنگ گلیوں میں روایتی ریستورانوں کے باہر روایتی شاورما کے چاہنے والے شہری اور سیاح اپنا پسندیدہ کھانا حاصل کرنے کے لیے لمبی قطاروں میں کھڑے نظر آتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں