پاکستانی سائیکلسٹ سعودی عرب کی قدرتی خوبصورتی، مہمان نوازی کے دلدادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستانی سائیکلسٹ کامران علی ان دنوں سعودی عرب میں موجود ہیں۔ زیادہ تر پاکستانیوں کی طرح جنہوں نے سعودی عرب کا سفر نہیں کیا کامران علی بھی صرف مشرق وسطیٰ کے ملک کو مکہ اور مدینہ میں اسلام کے مقدس ترین مقامات کے حوالے سے ہی جانتے تھے۔

لیکن جب اس سال فروری میں وہ میں سعودی عرب پہنچے تو سعودی عرب کی قدرتی خوبصورتی اور ثقافتی تنوع دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

45 سالہ علی نے پچھلے آٹھ سالوں میں چار براعظموں کے 46 ممالک میں سائیکل چلا کر 56,000 کلومیٹر کا شاندار فاصلہ طے کیا ہے۔

اپنے سعودی عرب کے تجربے کے بارے میں عرب نیوز سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "یہاں آنے سے پہلے میں نے جن کتابوں کا مطالعہ کیا وہ صرف مذہبی مقامات کے بارے میں معلومات فراہم کرتی تھیں۔"تاہم، جب میں نے صحراؤں میں چٹانوں کی تشکیل، پیچیدہ نوشتہ جات، اور اسلامی راک آرٹ اور تاریخی قلعے اور آتش فشاں دیکھے، تو یہ ایک چونکا دینے والا اور ناقابل فراموش تجربہ تھا۔"

کامران علی مسجد نبوی کے سامنے۔ [تصویر @kamranonbike]
کامران علی مسجد نبوی کے سامنے۔ [تصویر @kamranonbike]

سعودی عرب تیل کے بعد اب اپنی سیاحت کی معیشت پر انحصار بڑھا رہا ہے۔ 2019 میں، سعودی عرب نے غیر ملکی سیاحوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے اور ایک نیا ویزا نظام شروع کیا۔ غیر ملکی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس سے متوقع طور پر 2030 تک مجموعی گھریلو پیداوار میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔

غیر ملکی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ، سعودی عرب میں حالیہ برسوں میں قدیم مقامات کے بحالی کے بڑے منصوبوں میں سے "درعیہ" قابل ذکر ہے۔ یہ آل سعود خاندان کا آبائی گھر اور پہلی سعودی ریاست کا دارالحکومت ہے۔
دیگر منصوبوں میں قریہ فاو ، الحجر یا مدین صالح، تیما، دوما، اور درب زبیدہ کے قدیم مقامات شامل ہیں، جو مکہ مکرمہ جانے والے حاجیوں کا قدیم راستہ تھا۔

ملک کے شمال مغربی کونے میں قدیم تہذیب کے مرکز العلا کا 20 بلین ڈالر کا سیاحتی منصوبہ بھی اس پروگرام میں شامل ہے۔

علی ان سب کے جگہوں پر سائیکل پر جانا چاہتے ہیں۔

پاکستان کے مشرقی پنجاب صوبے کے ایک چھوٹے سے شہر لیہ میں پیدا ہونے والے علی نے کمپیوٹر سائنس میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور 2015 میں سائیکل چلانے کے شوق کی پیروی کی خاطر، جرمنی میں اپنی ملازمت چھوڑنے کا زندگی بدل دینے والا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد سے انہوں نے یورپ، ایشیا، جنوبی امریکہ، وسطی امریکہ اور شمالی امریکہ کے متعدد شہروں میں سائیکل پر سفر کیا ہے۔

ایرانی حکام کی جانب سے ویزے کے مسائل کی وجہ سے، علی کو مشرق وسطیٰ کا اپنا دورہ مسقط، عمان سے شروع کرنا پڑا اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات جانا پڑا، جہاں سے وہ البطحاء کی زمینی سرحد کے ذریعے 9 فروری کو سعودی عرب میں داخل ہوے۔

پچھلے تین مہینوں میں وہ مسقط سے نکلنے کے بعد تقریباً 3500 کلومیٹر سائیکل چلا چکے ہیں۔

پاکستانی مہم جو نے مدینہ کی تعریف کرتے ہوئے تمام صوبے اور اس کے علاقائی دارالحکومت کو تاریخی نوشتہ جات، اسلامی راک آرٹ، قلعے اور آتش فشانوں کے لیے "قابل ذکر" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ "صوبہ (مدینہ) اسلامی اور قبل از اسلام تاریخ کا ایک خزانہ ہے"

انہوں نے مزید کہا کہ حائل کا خطہ بھی اپنے مناظر اور تاریخ دونوں کے لیے دلکش ہے۔

سعودی عرب کے العلا شہر میں اقامہ پہاڑ، جس میں دادان اور لحیان کی تہذیبوں کے 500 سے زائد نقوش ہیں، نے بھی انہیں مبہوت کیا۔

علی نے کہا، "قابل ذکر لحیانی نوشتہ جات، جو کہ 4,000 سے 5,000 سال پرانے ہیں، قدیم عرب کی تاریخ بیان کرتے ہیں۔"

انہوں نے سعودی عرب کے شہر خیبر میں میلوں تک پھیلے ہوئے ہیں پتھر کے وسیع ڈھانچوں کا بھی ذکر کیا جو مدینہ کے شمال میں تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں۔ 1,300 سال پرانے یہ آثار اسلامی راک آرٹ اور خطاطی کے نوشتہ جات کا اعلی نمونہ ہیں۔

ملک کے راک آرٹ سے متاثر ہو کر علی نے ان کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کا عزم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی "ناقابل یقین" مہمان نوازی، سخاوت اور مہربانی وہ چیز تھی جو ان کے لیے یادگار رہے گی۔

اس بارے میں انہوں نے ایک واقعہ یاد کیا جب وہ صحرائے ربع الخالی میں سخت دھوپ میں سفر کر رہے تھے اور وہ زیادہ خوراک یا پانی لے جانے کے قابل نہیں تھے۔ یہاں آبادی نہ ہونے کی وجہ سے کئی کلومیٹر تک نظر میں نہ کوئی سہولت اور نہ سایہ نظر آتا تھا۔

"تاہم، جہاں کہیں آبادی ہوتی مقامی لوگ مجھے کھانا اور پانی فراہم کرتے، اور یہاں تک کہ مجھے اپنے گھروں میں مدعو کیا جاتا۔"

انہوں نے وسطی سعودی شہر الخرج میں سعودی سخاوت کی ایک اور مثال بیان کی کہ جب ایک سڑک کنارے ایک ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے انہوں نے ایک معذور لڑکے کی مدد کرنے کی کوشش کی تو ایک مقامی شہری نے مداخلت کی اور نہ صرف لڑکے کے کھانے بلکہ علی کے کھانے کے لیے بھی ادائیگی کی۔

46 ممالک کا سفر کرنے کے باوجود، علی نے کہا کہ میں نے دنیا میں کہیں بھی "سخاوت کی ایسی مثالیں" نہیں دیکھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ "میں حیران رہ گیا کیونکہ اس قسم کے حسن سلوک کے بارے میں اکثر صرف کتابوں میں ہی پڑھا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ سعودی عرب میں ہوتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں