کنگ عبد العزیز لائبریری میں فلم ‘‘آخر البدو’’ کی نمائش، بڑی تعداد میں لوگوں کی ستائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں بدھ 17 مئی کو کنگ عبد العزیز پبلک لائبریری کے سینما میں دستاویزی فلم ‘‘ آخر البدو’’ دکھائی گئی۔ اس فلم میں زندگی اور سماجی نمونہ پیش کیا گیا، صحرا میں قیام، اس کے متنوع قدرتی مناظر اور پودوں کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا گیا۔

اس فلم نے بدوؤں کی فطرت اور زندگی گزارنے میں ان کی جبلت کے بارے میں مختلف دلچسپ کہانیاں پیش کیں۔اس میں کئی بدو شخصیات کی تصاویر پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ یہ تصاویر صحرائی طرز زندگی کے آخری افراد کی نمائندگی کر رہی تھیں۔ بدوؤں کے روزمرہ کے تجربات، ان کی ترجیحات اور تفصیلات کو پیش کیا گیا۔ شہروں میں زندگی پر صحرا کے اثرات کو بیان کیا گیا۔

کنگ عبد العزیز لائبریری میں فلم دیکھنے والوں کا حد سے زیادہ رش ہوگیا، اس بنا پر لائبریری نے فلم کو دو مرتبہ نمائش کی ۔ اس دستاویزی فلم میں تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے افراد، فلمی نقاد، مصنفین، میڈیا پروفیشنلز، سکول کے طلبہ ، اور دیگر عام افراد نے دلچسپی کا اظہار کیا اور اس فلم کو بہترین قرار دیا۔ انہوں نے کا کہ فلم فائدہ مند اور معلوماتی ہے۔ اس میں بدوؤں کی تجربہ کردہ سماجی اور ثقافتی معلومات ہیں۔ زبانی ورثے کے اجزا سے بنی تصویر پیش کی گئی ہے۔ یہ فلم سعودی عرب میں اس اہم سماجی طبقے کے بارے میں ہے جو ماضی کی شرافت اور خوشبودار صحرائی ورثے کی نمائندگی کرتا ہے۔ صحرائی بدو سعودی عرب کی ثقافت کا ایک جزو ہے۔

کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے اپنے نئے پروگراموں میں دستاویزی فلمیں دکھانا بھی شامل کیا ہے۔ ان فلموں کا مقصد ثقافتی طور پر سعودی خاندانوں اور ہر عمر کے گروپوں پر اثر انداز ہونا ہے۔ ان فلموں میں زبانی اور سماجی ورثے کو اس کی مختلف ثقافتی، فنکارانہ، مقبول اور ادبی شکلوں میں پیش کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں