سعودی فلموں کا مستقبل، کانز فلم فیسٹیول میں سمپوزیم کا انعقاد

اگست 2023 کے اوائل تک "اثراء فلم مقابلے" کے لیے رجسٹریشن میں توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کنگ عبدالعزیز سنٹر فار ورلڈ کلچر ‘‘اثراء’’ کی جانب سے 76 ویں کینز فلم فیسٹول میں سعودی پویلین میں فلم کمیشن کی نگرانی میں ایک ڈائیلاگ سیشن رکھا گیا۔ اس ڈائیلاگ میں سعودی فلموں کے مستقبل کے عنوان کے تحت بحث کی گئی۔ سعودی فلم انڈسٹری کے مستقبل پر ہنرمندوں کو بااختیار بنانے اور سپورٹ کرنے کی روشنی میں گفتگو کی گئی۔ فلم انڈسٹری کو آگے بڑھانے کے لیے سعودی عرب میں سرکردہ حکام کے درمیان تعاون سے سیشن کا انعقاد کیا گیا تھا۔ اس سیشن کا عنوان “سعودی عرب، فلم سازی کی مستقبل کی منزل” تھا۔ اس سیشن میں ماجد زہیر سمان، ڈائریکٹر آف پرفارمنگ آرٹس، زینب ابو السمح، ڈائریکٹر ایم بی سی اکیڈمی و ایم بی سی اسٹوڈیو، شارلین جونز (العلام فلم)، اور فاطمہ البایطین (کلچرل فنڈ میں بزنس ڈویلپمنٹ کی ڈائریکٹر شریک تھے۔

سیشن کے دوران سمان نے اثراء فلم سپورٹ پروگرام کا انکشاف کیا اور بتایا کہ فلم سازوں کو فلم انڈسٹری کو ترقی دینے کے وژن کے مطابق عالمی سطح پر اپنے آؤٹ پٹس کو اجاگر کرنا ہوگا۔ سمان نے "اثراء فلم مقابلے" کے لیے رجسٹریشن کی مدت اگست 2023 کے اوائل تک بڑھانے کا بھی اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ مخصوص معیار پر پورا اترنے والی فلموں کو ایک کمیٹی کی نگرانی میں مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔ اس کیمٹی میں مقامی اور بین الاقوامی ماہرین موجود ہوں گے۔

بصری مواد کا معیار

سیشن میں میکرز کو بااختیار بنانے اور بصری مواد کے معیار کو بڑھانے کے حوالے سے فلم کے شعبے میں ہونے والی تبدیلیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ماہرین نے سعودی مصنوعات کو بیرون ملک برآمد کرنے کے لیے کام کرنے پر زور دیا انہوں نے کہا سنیما وراثت کے طور پر ایک تاریخی یادداشت کو تشکیل دیتا اور مستقبل میں بصری شراکت کو بڑھانے میں معاون ہے ۔ سنیما ایک تحریک کا باعث بنتا ہے ۔ ویژول مواد پیش کرنے میں فنانسنگ، پروڈکشن اور پوسٹ پروڈکشن کے مراحل بھی ہو تے ہیں۔ ۔ سمان نے وضاحت کی کہ ‘‘ اثراء ’’ اپنے کردار کو معاونت فراہم کرنے کی بنیاد پر مدد فراہم کرتا ہے۔

فلم سازی کا مستقبل

سیشن کے شرکاء نے بتایا کہ سعودی فلم انڈسٹری کا مستقبل مالیاتی منافع سے جڑا ہوا ہے۔ سعودی فلم انڈسٹری پائیدار ترقی کی طرف گامزن ہے ۔ زینب کے مطابق فلم انڈسٹری کو صحیح راستے تک پہنچنے کے لیے معاون کمیونٹی اور مسلسل تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی طریقے سے ہمارا سینما دنیا کے سنیما کے نقشے پر ایک ممتاز مقام حاصل کر سکے گا۔

فاطمہ نے وضاحت کی کہ تعاون اور شراکتیں سنیما کے مقصد کو حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ شارلین جونز نے کہا کہ یہ سیشن تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے شراکتی کوششوں کے اصول کی توثیق کردتا ہے۔

واضح رہے کہ فلموں کو سپورٹ کرنے کے لیے اثراء پروگرام سعودی عرب کے ‘‘ ویژن 2030’’ کے مطابق ہے۔ یہ پروگرام معیشت میں تنوع لانے کا کام کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے تحت اب تک 20 سے زیادہ فلمیں تیار کی جا چکی ہیں۔ ان میں سے 15 فلموں نے مقامی، علاقائی اور بین الاقوامی ایوارڈز جیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں