سڑک پر سینڈوچ بیچنے والے شخص اور اہلیہ نے پی ایچ ڈی کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

شمال مشرقی مصر کے پورٹ سعید کی گلیوں میں ایک چھوٹی گاڑی پر ڈاکٹر احمد شھدہ کھڑے ہیں اور سینڈویچ فروخت کر رہے ہیں۔ حیران کن طور پر ڈاکٹر احمد شھدہ نے ماحولیاتی سائنس میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری بھی حاصل کرلی ہے۔

گورنریٹ کی الثلاثینی سٹریٹ میں کلیجی، کباب اور گوشت کے سینڈوچ فروخت کرنے کے لیے سجی ایک چھوٹی سی گاڑی پر احمد شھدہ کھڑے ہیں۔ احمد کی عمر 59 سال ہے وہ 1985 سے اسی جگہ پر کھڑے ہیں۔ انہوں نے سوشل ورک میں بیچلر کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد سے سڑک پر سینڈوچ کارٹ پر کام کرنا شروع کردیا تھا۔

شھدہ نے اپنی گاڑی کی پارکنگ کمرشل مارکیٹ، الحمدیہ بازار اور مصری فٹ بال کلب کے ٹکٹوں کی فروخت کے مرکز کے قریب بنانے کا فیصلہ کیا۔ ان مقامات پر ہزاروں افراد کی آمد ہوتی ہے۔ یہیں سے انہوں نے اپنے سینڈوچ کے حوالے سے شہرت حاصل کرلی۔

شھدہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا میں نے 2001 میں اپنی پوسٹ گریجویٹ تعلیم مکمل کی۔ پھر میں نے 2003 میں فیکلٹی آف ایجوکیشن سے ڈپلومہ حاصل کیا اور 2004 میں منصورہ یونیورسٹی میں درخواست دے دی اور ابتدائی ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرلی اور پھر جنرل ایجوکیشن ڈپلومہ حاصل کیا اور پھر ماسٹرز کی ڈگری بھی حاصل کرلی۔ پھر عین شمس یونیورسٹی 2011 میں پی ایچ ڈی مکمل کرلی۔

شھدہ نے بتایا کہ ان سالوں میں میری بیوی نے کام میں میری بھرپور مدد کی اور اس نے بھی اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور وہ صبح سے اپنا کام شروع کرتا اور سہ پہر چار بجے تک اس میں مصروف رہتا۔ باقی دن ہم پڑھائی کرتے اور ایک دن ہم نے ایک ساتھ ہی پی ایچ ڈی کی تکمیل کرلی۔

ڈاکٹر شھدہ نے کہا کہ انہوں نے ماحولیاتی علوم اور فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ہمارے چار بچے ہیں اور ان سب نے بھی اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اعلی ترین تعلیمی ڈگریاں حاصل کی ہیں۔ ایک بچہ محمود ہے وہ جسمانی تعلیم کا استاد ہے اور اب تجارت کر رہے ہیں۔ ایمان نے میڈیسن میں بیچلر کر رکھا ہے۔ ھاجر نے انگلش کامرس کی ڈگری حاصل کی ہے اور سارہ فارمیسی کی فیکلٹی میں تیسری جماعت میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اعلی ڈگری حاصل کرنے اور بچوں کے اعلی عہدوں تک پہنچنے کے باوجود میں میں نے شہریوں کو سینڈوچ فروخت کرنے کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا میں نوجوانوں سے بھی کہتا ہوں کہ ڈگریاں حاصل کرکے کسی نوکری کی تلاش میں مت بیٹھے رہیے اور اپنے خیالات کو تبدیل کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں