مصر کے ایک گاؤں میں "شنودہ" نام کی مسجد پر تنازعہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مصر میں شمالی گورنری بحیرہ کے ایک گاؤں میں جمعۃ المبارک کو ایک مسجد کا افتتاح کیا گیا۔ تاہم اس مسجد کے نام نے ایک تنازع کھڑا کردیا۔ اس کا ’’شنودہ مسجد‘‘ رکھا گیا تو لوگوں نے اس پر شدید اعتراض کردیا۔ معترضین نے کہا کہ یہ نام مسلمانوں میں سے نہیں بلکہ قبطیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

گورنری بحیرہ میں دمنھور شہر کی مقامی اکائی نے گورنری مراکز کے شہروں اور دیہاتوں میں متعدد مساجد کھولنے کا اعلان کیا ہے تاکہ شہریوں کو عبادات ادا کرنے میں آسانی ہو۔ اسی پروگرام کے تحت ندیبہ گاؤں کے علاقے عزبہ شنودہ میں ’’مسجد شنودہ‘‘ کا افتتاح کیا گیا اور وہاں نماز جمعہ ادا کی گئی ۔

مسجد 150 مربع میٹر کے رقبے پر بنائی گئی ہے۔ اس مسجد کی تعمیر پر اپنی مدد آپ کے تحت کل 10 لاکھ 200 ہزار پاؤنڈ خرچہ کیا گیا ہے۔ مسجد کے نام پر ذرائغ ابلاغ اور سوشل میڈیا پر تنازع کھڑا ہوگیا۔ بہت سے سوشل میڈیا کارکنوں نے مسجد کا نام بدلنے کی مہم چلا دی۔ ٹویٹر پر بھی اس حوالے سے ہیش ٹیگ چلایا گیا اور کہا گیا کہ مذہبی حساسیت کے پیش نظر اس مسجد کا نام تبدیل کردیا جائے۔

اوقاف کی وزارت نے اس معاملے پر وضاحت کی اور کہا مسجد اس نام کی ایک سٹیٹ میں واقع ہے۔ اس ریاست میں قبطی اور مسلمان باشندوں کے درمیان پیار و محبت کا زبردست رشتہ ہے جس کی وجہ سے اسی نام پر اصرار کیا جا رہا ہے۔

مصر میں شنودہ نام کی مسجد
مصر میں شنودہ نام کی مسجد

اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں وزارت اوقاف برائے دعوتی امور کے انڈر سیکرٹری ایمن ابو عمر نے کہا کہ گاؤں کے مکینوں کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں۔ یہ مسجد ان 19 مساجد میں شامل ہے جنہیں وزارت اوقاف اس ہفتے کھول رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کا اصل نام ’’ عباد الرحمن ‘‘ ہے اور گاؤں کے لوگوں کا اصرار تھا کہ اس نام کو ان کی جائیداد اور علاقے کے نام سے جوڑ دیا جائے۔ لوگوں سے مذاکرات کے بعد انہیں راضی کرنے کے بعد مسجد کا نام اب دوبارہ ‘‘ عباد الرحمن‘‘ مسجد کیا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں