امریکی ریاست میں 400 سال قبل جادو ٹونے کے مجرم قرار 12 افراد بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی ریاست کنیکٹی کٹ نے تقریباً 400 سال قبل نوآبادیاتی امریکہ میں جادو ٹونے کے مجرم 12 افراد کو ان کے ناموں کو صاف کرنے کی مہم کے بعد بری کر دیا ہے۔

1600 کی دہائی کے وسط میں شمال مشرقی ریاست کنیکٹی کٹ میں ٹرائل کے بعد جادو ٹونے کے ملزموں میں سے گیارہ کو پھانسی دے دی گئی تھی ۔ ان میں سے ایک کو رہائی مل گئی تھی۔

نیو انگلینڈ کی ریاست میں قانون سازوں نے جمعرات کو ایک قرارداد منظور کی جس میں ان کی بے گناہی کا اعلان کیا گیا اور 9 خواتین اور 2 مردوں کی موت کو انصاف کی فراہمی کا نقص قرار دیا۔

اس مہم کو گروپ ’’ CT Witch Trial Exoneration Project ‘‘ نے چلایا تھا۔ یہ ایک گروپ ہے جس میں مرنے والے افراد کی اولادیں بھی شامل ہیں۔

گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ یہ ان سینیٹرز کا بڑا پرجوش، خوش کن اور قابل تعریف عمل تھا جنہوں نے اس اقدام کے ووٹ دیا۔ اس قرار داد کے حق میں ایک کے مقابلے میں 33 ووٹ ڈالے گئے تھے۔ یہ فیصلہ نیو انگلینڈ میں پہلی چڑیل پھانسی کی 376 ویں سالگرہ کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ یہ چڑیل ایلس ینگ تھی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم مرنیوالوں کی اولادوں، وکلا، مورخین، دونوں جماعتوں کے قانون سازوں اور بہت سے دوسرے لوگوں کے مشکور ہیں جنہوں نے اس سرکاری قرارداد کو ممکن بنایا۔

17 ویں صدی میں نیو انگلینڈ میں سیکڑوں لوگوں جن میں زیادہ تر خواتین تھی پر جادوگرنی ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ ان میں سب سے زیادہ مشہور سیلم میساچوسٹس کا علاقہ تھا۔ یہ علاقہ خوف، پاگل پن اور توہم پرستی کی لپیٹ میں تھا۔

کنیکٹی کٹ میں چڑیل کے ٹرائلز 1647 سے 1663 کے درمیان ہوئے۔ یہ ٹرائلز سیلم ڈائن ٹرائلز سے تقریباً 30 سال پہلے ختم ہوگئے تھے۔

گروپ کے مطابق کنیکٹی کٹ میں تقریباً 34 افراد پر جادوگرنی ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ گروپ نے کہا تاریخی جادو ٹونے کے الزام میں مارے گئے افراد کی یاد گار بنانے کی مہم جاری رہے گی۔

پچھلے سال میساچوسٹس نے باضابطہ طور پر الزبتھ جانسن کو معاف کر دیا تھا جو سیلم ٹرائلز میں سزا یافتہ واحد شخص تھیں جنہیں ابھی تک بری ہونا باقی تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں