خلا میں علی اور ریانہ سعودی قہوہ اور کھجوریں بھی کھا رہے ہیں

میں اور ریانہ سعودی قہوہ ساتھ لائے تھے اور ہم یہ روزانہ پیتے ہیں : علی القرنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے دو خلا باز ان دنوں اپنے تاریخی سفر پر عالمی خلائی سٹیشن پر موجود ہیں ۔ ان کے دس روز کے اس مشن میں ان کا زمین اور سعودی عرب سے ویڈیو رابطہ بھی برقرار ہے۔ خلا میں ان کی مصروفیات کے حوالے سے خبریں سعودی عرب میں توجہ حاصل کر رہی ہیں۔

سعودی خلاباز علی القرنی اور ریانہ برناوی اپنے تحقیقی سفر کے دوران خلا میں سعودی قہوہ اور کھجوریں لے جانا بھی نہیں بھولے ہیں۔ براہ راست رابطے کے ذریعے سعودی خلاباز علی القرنی نے بتایا کہ ریانا اور میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر پانی کے علاوہ سعودی قہوہ لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کھانے کے حوالے سے ہمارے پاس دو قسم کی چیزیں ہیں۔ ایک خشک قسم کا کھانا ہے جس میں صرف پانی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ دوسری قسم نیم تیار کھانا ہے۔ اسے موجودہ ہیٹر کے ذریعے دوبارہ گرم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا ہم روزانہ کی بنیاد پر یہاں قہوہ پی رہے اور کھجور کھا رہے ہیں۔

یاد رہے قہوہ کا تعلق سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کے ساتھ اور اس کے رسم و رواج اور روایات سے بھی ہے۔ کھجور اور قہوہ سعودی عرب کی تاریخ میں سخاوت اور یہاں کی مہمان نوازی کی قدروں سے جڑے ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں