رقص کرنے والے مصری قاری نے واقعہ کی تفصیلات بتا دیں

یہ میرے بھائی کی شادی تھی اور خاندانی ماحول تھا: قاری ممدوح عامر کی ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں مشہور قاری کے ڈانس اور گانا گانے کی ویڈیو نے ہنگامہ برپا کردیا۔ سوشل میڈیا لوگوں نے قاری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر پابندی لگانے کے مطالبات کیے تھے۔ مشہور مصری قاری ممدوح عامر نے واقعہ کی تفصیلات کے متعلق ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ سے خصوصی گفتگو کی۔

قاری ممدوح عامر نے کہا کہ واقعہ سچا ہے اور ویڈیو واقعی درست ہے۔ جو ہوا وہ یہ تھا کہ میں اپنے آبائی شہر بوحیرہ گورنری میں اپنے گاؤں میں اپنے بھائی کی شادی میں موجود تھا۔ یہ شادی پہلی تھی۔ اپنے والد کی موت کے بعد خاندان کے لیے اور ذاتی طور پر بھائی کی خوشی لیے میں نے اس میں شرکت کی۔ بھائی کا اصرار تھا کہ خاندان کے باقی افراد کی خوشی کے ساتھ چلا جائے۔

انہوں نے کہا میں نے اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور مدعو کیے گئے افراد کے ساتھ تقریب میں رقص کیا اور گایا تھا۔ انہوں نے کہا اس میں غلطی نہیں ہے ۔ اس طرح کے مواقع پر سب کے ساتھ مل کر چلا جاتا ہے۔

ممدوح عامر نے کہا کہ یہ تقریب خاندانی تھی اور تمام رشتہ داروں اور متعدد دوستوں کو بلایا گیا تھا۔ اس میں قراء کرام بھی شریک تھے۔

واضح رہے معروف قاری ممدوح عامر کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انہوں ام کلثوم کے ایک گانے پر رقص کرتے اور گنگناتے دیکھا گیا تھا۔ اس ویڈیو نے ملک میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ کی لہر دوڑا دی تھی۔ لوگوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تلاوت سے منسوب شخص نے اپنے وقار کا احترام نہیں کیا۔

مصر میں حفاظ کرام اور قراء کرام کی سنڈیکیٹ نے بھی اس ویڈیو کی شدید مذمت کی اور اپنے بیان میں کہا کہ قرآن کریم جیسی کتاب کی تلاوت سے خود کو جوڑنے والے کے لیے مناسب تھا کہ وہ قرآن مجید کا احترام بھی کرتے۔ سنڈیکیٹ کے ایک عہدیدار نے بتایا تھا کہ اس ویڈیو کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں