فلسطینی ’’وادی قنا‘‘ کو قدرتی ذخیرہ قرار دینا قبضہ کی اسرائیلی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کی طرف سے شمال مغربی کنارے میں وادی قنا کو فطرت کا ذخیرہ قرار دینا فلسطینیوں کی دکان اور روزی روٹی کے اڈے " پر قبضہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں تھا۔

اسرائیلی انفارمیشن سینٹر فار ہیومن رائٹس (بتسیلم) کے مطابق سلفیت اور طولکرم گورنریوں کے درمیان موجود اس وادی کا رقبہ 10 ہزار دونم یا 10 ملین مربع میٹر سے زیادہ ہے۔ وادی میں دس چشموں کا پانی بہتا ہے۔ اس میں لیموں، بادام اور جنگل کے باغات پھیلے ہوئے ہیں۔

اس وادی کو اسرائیلی حکام نے تقریباً 40 سال قبل قدرتی ریزرو قرار دے دیا تھا۔ وادی کے چاروں اطراف بستیاں بن چکی ان بستیوں کے سیوریج کی وجہ سے وادی کے چشموں کا پانی آلودہ ہو گیا تھا۔ وادی میں رہنے اور کھیتی باڑی کرنے والے لگ بھگ 300 فلسطینیوں کی نقل مکانی کرا دی گئی ہے تاہم اب بھی یہاں چار خاندان آباد ہیں۔

بستیوں کے سیوریج کا پانی وادی تک پہنچنا بند ہو گیا لیکن وادی سے نکالے گئے خاندان اپنی زمینوں پر واپس نہیں آئے کیونکہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو اپنی زمین پر تعمیرات کرنے یا اس پر نئے درخت لگانے سے بھی روک دیا تھا۔

وادی قنا میں تعمیر کیے گئے چند مکانات اردنی حکمرانی کے دوران پچھلی صدی کی پچاس کی دہائی کے ہیں۔ اسرائیل کی جانب سے وادی قنا کو قدرتی ذخائر قرار دینے سے اس میں زمین کو آباد کرنے، سڑکوں کی تعمیر یا پانی کے نیٹ ورک میں کسی قسم کی تبدیلی کرنے کو بھی ممنوع کردیا گیا ہے۔

چھوٹی عمر سے ہی فلسطینی جہاد منصور نے وادی میں اپنی ملکیت کے ایک ٹکڑے پر کاشتکاری جاری رکھی جہاں وہ سنترے، لیموں اور پھلیاں اگاتا تھا لیکن اب وہ یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسلسل ہراساں کیے جانے اور جنگلی جانوروں کی موجودگی کی شکایت کرتا ہے۔ جہاد منصور کا کہنا ہے کہ حفاظت کے لیے اسرائیل ہمیں باڑ لگانے سے بھی روک رہا ہے۔

منصور نے خدشہ ظاہر کیا کہ اسرائیل وادی قنا پر قبضہ کرلے گا اور اس کے اطراف آباد یہودی بستیوں کو وادی تک پھیلاؤ کی اجازت دے دے گا۔ وادی قنا کے اطراف پہلی بستی 1975 میں قائم ہوئی تھی۔

بتسیلم کے مطابق وادی کو قدرتی ذخیرے میں تبدیل کرنے کا مقصد اسے ان یہودی بستیوں کے لیے مختص کرنا اور فلسطینیوں کو ان کی زمینوں سے نکالنا تھا۔ وادی قنا کا زیادہ تر حصہ سلفیت کے شمال میں واقع قصبے دیر استیا کی زمینوں پر واقع ہے اور اس کی زمینیں قصبے کے لوگوں کی ملکیت ہیں۔

دیر استیا کے میئر نظمی سلمان نے کہا کہ 9 یہودی بستیوں اور چوکیوں نے چاروں طرف سے وادی قنا کو گھیر لیا ہے۔ اسرائیلی آباد کار تمام مراعات سے لطف اندوز ہیں اور فلسطینی شہری اپنی زمینوں کے حقوق سے محروم ہو گئے ہیں۔

ہر ہفتے ہزاروں فلسطینی وادی کا دورہ کرتے ہیں خاص طور پر جمعہ اور ہفتہ کو فلسطینیوں کی بڑی تعداد وادی میں آتی ہے۔ اس کا مقصد ہریالی اور پانی سے لطف اندوز ہونا ہے۔ وادی قنا پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے سربراہ نفیز منصور نے کہا کہ یہ وادی تمام شہروں سے آنے والے فلسطینیوں کے لیے سیاحتی مقام ہے اور سلفیت کے لوگوں کے لیے کھانے کی ٹوکری مہیا کرتی ہے۔

کئی سالوں سے وادی کے مضافات میں واقع کارنی شمرون بستی میں رہنے والے اسرائیلی وادی کی طرف سالانہ مارچ کا اہتمام کرتے رہے ہیں۔ اس بستی کی کونسل کا سربراہ ہرزل بن ایری کہ چکا ہے کہ اس مارچ کا مقصد وادی کو کارنی شمرون بستی کے صحن میں تبدیل کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں