چنئی سپر کنگز سنسنی خیز مقابلے کے بعد پانچویں مرتبہ آئی پی ایل کی فاتح بن گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بھارت میں کھیلی جانے والی انڈین پریمئر لیگ کا سولہواں ایڈیشن چنئی سپر کنگز کی ریکارڈ پانچویں کامیابی کے ساتھ ختم ہو گیا۔ دو ماہ جاری رہنے والے ایونٹ کا فائنل تین دن پر محیط رہا جس میں ایم ایس دھونی کی ٹیم نے دفاعی چیمپئن گجرات ٹائٹنز کو پانچ وکٹ سے شکست دی۔

اس میچ کی خاص بات یہ تھی کہ یہ احمد آباد کے مودی اسٹیڈیم میں گذشتہ [اتوار] کو کھیلا جانا تھا، بارش کی وجہ سے اس کا آغاز اضافی دن پیر کی شام میں ہوا جب کہ اس کا اختتام پیر اور منگل کی درمیانی شب پاکستانی وقت کے مطابق رات ایک بجے اس وقت ہوا جب چنئی سپر کنگز کے رویندرا جڈیجا نے وننگ شاٹ مارا۔

اس کامیابی کے ساتھ چنئی سپر کنگز نے ممبئی انڈینز کا پانچ مرتبہ انڈین پریمئر لیگ جیتنے کا ریکارڈ برابر کر دیا، یہ ایم ایس دھونی کے کرئیر کا 11واں آئی پی ایل فائنل تھا جس میں کامیابی کے بعد وہ پانچ ٹائٹل جیتنے والے پہلے کپتان بن گئے۔

بھارتی آل راؤنڈر ہاردیک پانڈیا کی قیادت میں گجرات ٹائٹنز اس فائنل میں بطور دفاعی چیمپئن گئی تھی اور ان کی ٹیم نے اسکور بھی بڑا کیا تھا لیکن بارش کی وجہ سے چنئی کو ڈک ورتھ لیوس میتھڈ کے تحت 15 اوورز میں 171 رنز کا ہدف ملا جسے انہوں نے آخری گیند پر حاصل کر لیا۔

31 مارچ کو بھارتی وزیر اعظم کے نام سے منسوب اسٹیڈیم میں چنئی اور گجرات کی ٹیموں کے درمیان میچ سے جو ٹورنامنٹ شروع ہوا تھا اس کا اختتام 30 مئی کو اسی مقام پر ہوا، لیکن پہلا میچ 5 وکٹ سے جیتنے والی گجرات کو اتنے ہی مارجن سے فائنل میں شکست ہوئی۔

سولہویں انڈین پریمئر لیگ کے فائنل میں ایم ایس دھونی نے ٹاس جیت کر جب گجرات ٹائٹنز کو بیٹنگ کی دعوت دی تو سب کی نظریں وکٹ کیپر بلے باز ساہا اور ان فارم شبمن گل پر تھیں، لیکن اننگز کا ہیرو 21 سالہ سائی سدرشن نکلا۔

دو ماہ جاری رہنے والی آئی پی ایل 2023 میں کئی کھلاڑیوں کی کارکردگی نمایاں رہی لیکن کوئی بھی بلے باز رنرز اپ گجرات ٹائٹنز کے شبمن گل سے زیادہ رنز نہ بنا سکا۔

پلیئر آف دی ٹورنامنٹ کا ایوارڈ جیتنے والے بلے باز نے تین سینچریوں اور چار نصف سینچریوں کی مدد سے 17 میچز میں 59 عشاریہ تین تین کی اوسط اور 157 عشاریہ آٹھ کے اسٹرائیک ریٹ سے 890 رنز بنائے۔

رائل چیلنجرز بنگلور کی نمائندگی کرنے والے فاف ڈوپلیسی 730 اور فاتح ٹیم کے ڈیون کونوے 672 رنز کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔

سینچریوں کی فہرست میں بھی شبمن گل سب سے آگے ہیں۔ انہوں نے ایونٹ کے دوران تین بار سو کا ہندسہ عبور کیا جب کہ رائل چیلنجرز بنگلور کے ویراٹ کوہلی دو سینچریوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔

ایونٹ میں سب سے زیادہ چھکے مارنے والے کھلاڑیوں کی ریس میں شبمن گل کا تیسرا نمبر رہا۔ پہلی پوزیشن بنگلور کے فاف ڈو پلیسی کے نام رہی جنہوں نے 14 میچز میں 36 چھکے مارے۔ صرف ایک چھکے کے فرق سے ٹائٹل جیتنے والی ٹیم کے شیوم ڈوبے دوسرے نمبر پر رہے جب کہ گل کے چھکوں کی تعداد 33 رہی۔

بالنگ میں قابلِ ذکر بات پہلی تین پوزیشن پر گجرات ٹائٹنز کے بالرز کی موجودگی ہے جو فائنل میں ویسی کارکردگی نہ دکھا سکے جس کی ان سے توقع تھی۔ محمد شامی 28 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بالر رہے جب کہ موہت شرما اور راشد خان کے حصے میں 27، 27 وکٹیں آئیں۔

فاتح ٹیم کی جانب سے سب سے زیادہ 21 وکٹیں تشار دیش پانڈے نے حاصل کیں جن کا وکٹ ٹیکرز کی فہرست میں چھٹا نمبر ہے۔ٹاپ فائیو میں بالر نہ ہونے کے باوجود چنئی کی کامیابی قابلِ تعریف ہے۔

چنئی سپر کنگز نے اس سے قبل 2010 اور 2011 میں آئی پی ایل کا ٹائٹل اپنے نام کیا تھا جب کہ 2018، اور 2021 کے بعد 2023 میں فتح حاصل کرکے پانچویں مرتبہ چیمپئن بنی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں