اردن کے شاہ عبداللہ نے شادی کے موقع پر بیٹے حسین کو کیا تحفہ دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اردن کے سربراہ شاہ عبداللہ دوم نے اپنے بیٹے ولی عہد شہزادہ حسین کی شادی کے موقع پر ان کو "ہاشمی تلوار" کو تحفہ میں دیا ہے تاکہ وہ جہاں بھی جائیں انصاف کی علامت بن جائیں۔

شاہ عبداللہ دوم نے شاہی ہاشمی کورٹ میں تقریر کی۔ وہ شہزادہ حسین کی شادی کے موقع پر عشائیہ کا اہتمام کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا آج ہم حسین، اپنے بیٹے اور آپ کے بیٹے کی خوشی منا رہے ہیں۔ آپ کی موجودگی سے ہمارے خوشی پوری ہو رہی ہے۔ ہمیں حسین پر فخر ہے۔ ہمیں اس کی آرزوؤں اور لگن پر فخر پر بھی فخر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 28 سال قبل اللہ رب العزت نے مجھے حسین سے نوازا تھا۔ آج مجھے اس پر فخر ہے۔ مجھے حسین پر فخر ہے کہ اپنے ملک اور اپنے خاندان کے لیے اس کے عظیم عزائم ہیں۔ یہ اپنے ملک سے محبت اور عقیدت رکھتا ہے۔

بادشاہ نے ولی عہد شہزادہ حسین کو جو تلوار تحفے میں دی وہ شاہ عبداللہ اول کی اس تلوار کی نقل ہے جو 1916 میں بنائی گئی تھی۔ یہ تلوار اردن میں خاص طور پر ولی عہد کی شادی کے موقع پر بنائی گئی تھی۔ یہ عجلون قلعہ کے آس پاس کے پتھروں سے نکالے گئے لوہے سے بنائی گئی ہے۔ تلوار پر قرآنی آیت کندہ ہے۔ "إِن يَنصُرْكُمُ اللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ" ۔ یہ سورہ آل عمران کی 160 ویں آیت ہے۔

اس موقع پر خاص عشائیہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس رات کے کھانے کو ’’ القرا‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عشائیہ میں مشہور روایتی ڈش ’’ منسف‘‘ پیش کی جاتی ہے۔ ’’ القرا‘‘ کے نام سے شاہی دعوت اردن کی شاہی روایات کا ایک حصہ ہے۔ یہ دعوت اردن کی کسی شخصیت کی سخاوت اور مہمان نوازی کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔

62
62

عشائیہ ’’القرا‘‘ میں تقریبا 4 ہزار افراد نے شرکت کی۔ ان شرکا میں سرکاری، مقبول، ٹریڈ یونین اور پارٹی رہنما، مسلح افواج اور سیکورٹی سروسز کے متعدد عہدیدار شامل تھے۔

تقریب میں اردنی ورثے سے متاثر ثقافتی اور میوزیکل پرفارمنس بھی پیش کی گئی۔ اردنی فنکاروں کی طرف سے مشترکہ آرٹ ورک پیش کیا گیا۔ شاعری اور دیگر مختلف شوز پیش کیے گئے ۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں