رجوہ آل سیف کے خاندان کی تاریخ اور مقام سکونت کے بارے جانیے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اردن کے ولی عہد شہزادے الحسین بن عبداللہ ثانی سعودی عرب کی ایک آرکیٹیکٹ، رجوہ آل سيف سے آج بروز جمعرات رشتہ ازدواج میں بندھ رہے ہیں۔

اردن کے شاہی محل میں انجام پا نے والی شادی کی اس تقریب کے خاص مہمانوں میں علاقائی شاہی حکمران، امریکی خاتون اول جل بائیڈن اور نیدرلینڈز کے بادشاہ شامل ہیں۔

رجوہ السیف نے نیویارک کی سرا کیوز یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی ہے۔ لیکن اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسین اور رجوہ آل سيف کی ملاقات کہاں ہوئی اور ان کی شادی کی مزید تفصیلات کیا ہیں اس بارے میں دونوں کے خاندانوں نے کوئی معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ جب کہ ان کی منگنی کے حوالے سے یہ خبر موجو د ہے کہ سعودی دار الحکومت ریاض میں اگست 2022 میں ایک روائتی مسلم تقریب میں ان کی باقاعدہ منگنی کی رسم انجام پائی تھی جس میں اردن کے شاہی خاندان کے سینئر افراد نے شرکت کی تھی۔

ایسو سی ایٹڈ پریس کے مطابق مشرق وسطیٰ کی اس قدیم ترین بادشاہت کے وارث شہزادہ الحسین بن عبداللہ ثانی کا تعلق ایک سادات گھرانے سے ہے اور ان کی عمر 28 سال ہے۔

قبائلی عرب نسل سے تعلق رکھنے والی رجوہ آل سيف ایک امریکی تعلیم یافتہ آرکیٹیکٹ ہیں جو اپریل 1994 کو ریاض میں پیدا ہوئیں تھیں اور چار بچوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔

ان کی والدہ عزہ بنت نائف عبدالعزیز احمد السدیری کا تعلق حصة بنت احمد السديري سے ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز ال سعود کی پسندیدہ اہلیہ تھیں، جنہوں نے شاہ کے سات بیٹوں کو جنم دیا، جن میں ملک کے موجودہ حکمران شاہ سلمان بھی شامل ہیں۔

کئی دہائیوں سے، سدیری سیون، کہلائے جانےوالے سات بیٹوں کو ،جن میں سے زیادہ تر اب وفات پا چکے ہیں، سعودی شاہی خاندان میں طاقت کا ایک بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا۔

رجوہ کے والد، خالد کا تعلق، جزیرہ نما عرب کے ایک ممتاز اور قدیم قبیلے، سبیع سے ہے۔ وہ السیف انجینئرنگ کنٹریکٹنگ کمپنی کے بانی بھی ہیں، جس نے ریاض کا مشہور کنگڈم ٹاور جسے اب برج جدہ کہا جاتا ہے اور مشرق وسطیٰ بھر میں دوسری بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں۔

رجوہ نے نیویارک کی سرا کیوز یونیورسٹی میں فن تعمیر کی تعلیم حاصل کی، جہاں سے انہوں نے 2017 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی گریجویشن کی ایک ویڈیو میں انہیں چمکتے ہوئے سلور سنیکرز میں ڈگری حاصل کرتے ہوئےدکھایا گیا ہے۔

ایک سال پہلے، انہوں نے دبئی میں، موسم بہار کی تعطیلات کے دوران فن تعمیر کے بارے میں ایک سمپوزیم کی قیادت کی تھی، جس کے لئے فنڈز ان کے والد کی کمپنی نے فراہم کیے تھے۔

یونیورسٹی کے ایک اخبار نے ان سے یہ بیان منسوب کیا تھا کہ "جس چیز نے اس سفر کو میرے لیے اتنا یادگار بنا دیا ... وہ اسٹوڈیو میں طالب علموں کو پہلی بار عربی ثقافت اور فن تعمیر کا تجربہ کرتے ہوئے دیکھنا تھا۔

رجوہ السیف نے لاس اینجلس کے فیشن انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن اینڈ مرچنڈائزنگ سے وژوئل کمیونیکیشن میں ڈگری حاصل کی۔

اردن کے شاہی محل کی جانب سے شیئر کی گئی ایک با ضابطہ سوانح عمری میں کہا گیا ہے کہ ان کے مشاغل میں گھڑ سواری اور ہاتھ سے تیار کردہ فنون شامل ہیں اور وہ انگریزی، فرانسیسی اور اپنی مقامی عربی زبان میں روانی رکھتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں