80 سال کی عمر میں پہاڑوں پر چڑھنے والا سعودی عبداللہ جو اب بھی خود کو جواں سمجھتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

سعودی عرب کے ایک 80 سالہ بزرگ اپنے عزم وہمت کی وجہ سے آج بھی خود کو جوانوں سے زیادہ مضبوط اور توانا ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ مہم جوئی کے شوقین ڈاکٹر عبداللہ القویز جو ایک سابق سفارت کار بھی ہیں کو اس پیرانہ سالی میں بھی ہائیکنگ کا جنون ہے اور وہ اب بھی پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کی مہم میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی یہ بات مشہور چکی ہے کہ ‘عمر کے بیتے برس تو فقط عدد ہے۔ میں تو اب اس عمر میں بھی جوانوں کے ساتھ پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرتا ہوں‘۔

سعودی ایڈونچرر ڈاکٹر عبداللہ القویز جنہوں نے دنیا کو اپنا پیغام دکھانے کے لیے چیلنج کی نوٹ بک میں اپنا نام درج کرایا کہ کہا کہ عمر کسی شخص کے لیے اس کی منزل مقصود کوحاصل کرنے میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ انہوں نے زندگی دنیا کے ممالک کے درمیان سفر کرنے، پہاڑی چوٹیوں کو سر کرنے اور قدرت کی تخلیق سے لطف اندوز ہونے میں گذاری۔

ہائیکنگ سے محبت کا آغاز کب ہوا؟

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو دیے گئے اپنے خصوصی انٹرویو میں ڈاکٹر عبداللہ القویز نے کہا کہ "آئیے پیچھے کی طرف لوٹتے ہیں۔ اپنی ابتدائی تعلیم کے دوران میں نے فٹ بال کھیلنے کی کوشش کی لیکن میں وہ کردار ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا جو مجھے تفویض کیے گئے تھے۔ آخر کار تمام ٹیموں نے مجھے ان میں شامل کرنے سے انکار کر دیا، لہٰذا میں نے بعد کے مراحل میں دریافت کیا کہ کھیل میری فطرت میں شامل ہی نہیں‘‘۔

مائونٹ ایوریسٹ کے بیس کیمپ پر۔
مائونٹ ایوریسٹ کے بیس کیمپ پر۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں پچھلی صدی کے ساٹھ کی دہائی کے اواخر میں امریکا گیا تو میں اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ بڑی شاپنگ کی جگہوں پر جاتا۔ اس طرح مجھے تھکاوٹ محسوس ہوتی اور میرے پاؤں اور کمر میں درد ہوجاتا جس کی وجہ سے مجھے وہاں پر کرسیوں پر بیٹھنا پڑتا۔ میں دوسرے لوگوں کی شاپنگ مکمل ہونے کا انتظار کرتا۔ اتفاق سے میں ایک پیشہ ور جوتا فروش کے پاس گیا، جب اس نے میرے پاؤں دیکھے تو اس نے کہا کہ "تمہارا (فلیٹ فٹ) ایک چپٹا پاؤں ہے۔ اس نے مجھے چمڑے کا ایک ٹکڑا دیا۔ میں اس چمڑے کے ٹکڑے کو جوتوں کےاندر پاؤں کے نیچے رکھتا۔ آج میں میں پوری دنیا کے پوڈیاٹرسٹس کا مستقل گاہک بن گیا ہوں۔"

انہوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ "1990ء کے موسم گرما میں اور ریاست کویت کے بحران سے پہلے کویت کے ایک عزیز دوست اور ہم جماعت محمد یوسف العیسی نے میرے خاندان کے ساتھ مجھے سوئٹزرلینڈ کے ایک ریزورٹ میں مدعو کیا۔ اگلی صبح وہ ہوٹل آیا اور مجھے بتایا اس گاؤں میں شاپنگ کی جگہیں ہیں اور نہ ہی کوئی تاریخی مقامات ہیں، نہ میوزیم ہیں۔ یہاں تک کہ سینما گھر بھی محدود ہیں۔ یہاں تفریح کے مواقع کم ہیں۔ گرمیوں میں لوگ اس کی خوبصورت فطرت اور پیدل سفر سے لطف اٹھاتے ہیں۔ اس نے مجھے پیدل سفر پر اپنے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ کیا۔ اس نے مجھے اپنے کچھ کپڑے اور پیدل سفر کا سامان دیا اور میں نے جوتے کرایہ پر لے لیے۔ پہلی بارمیں تھکا۔ ایک ہفتے تک اپنے جسم کے تمام حصوں، جوڑوں اور پٹھوں میں درد محسوس کیا۔ پھر میں نے دریافت کیا کہ مجھے ایک مسئلہ ہے جس کا ازالہ کرنا ضروری ہے۔ اس تاریخ کے بعد سے جب بھی مجھے موقع ملا میں نے پیدل سفر کی مشق کی ہے۔ ایسا بھی ہوا کہ میں کئی بار گرمیاں کی پوری چھٹیاں پیدل سفر میں گذار دیتا۔

پیدل سفر کے شوق کی وجوہات

پیدل سفر کے اپنے شوق کی وجوہات کے بارے میں عبداللہ القویز نے کہا کہ "میں نے اس کھیل میں مہارت پیدا کی۔ میں نے اپنی جسمانی اور نفسیاتی صحت کو بہتر بنانے کے لیے اس کی مشق کرنا شروع کر دی، یہاں تک کہ اگر میں اس پر عمل نہ کرتا تو پچھتاتا۔ یہ میرے لیے ایک آسان کھیل بن گیا جس کی آپ کہیں بھی اور کسی بھی وقت مشق کر سکتے ہیں۔ یہ ایک کم لاگت والا کھیل ہے، کیونکہ آپ کو سالانہ فیس کے ساتھ کلب میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی مہنگے اوزار خریدنے کی ضرورت ہے۔ نہ ہی کسی مخصوص ٹائم ٹیبل پر عمل کرنا ہوتا ہے اور پیدل سفر کی عادت ڈالنا آپ کو تاریخی یادگاروں تک رسائی فراہم کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے پیدل سفر کے راستے خود عام طور پر تاریخی علاقوں اور قدرتی نشانات سے گذرتے ہیں۔

ہائکنگ کے دوران۔
ہائکنگ کے دوران۔

’درب‘ ایسوسی ایشن

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ان سے ہائیکنگ کے میدان میں کام کرنے والی ایسوسی ایشن کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انجمن جس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی وہ صدارت کرچکے ہیں ’درب‘ کہلاتی ہے۔ یہ تنظیم واکنگ پاتھز اینڈ ٹرپس ایسوسی ایشن (درب ) کہلاتی ہے۔ اس کا مقصد بنیادی طور پر مملکت کی تمام سرزمین میں پیدل سفر کے راستوں کے نقشے کھینچنا، تیار کرنا، برقرار رکھنا اور ریکارڈ کرنا، ان راستوں کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ اس انجمن نے اپنی ابتدائی کامیابیوں کا آغاز ریاض، قصیم، داودمی، القویعیہ، الافلاج، الغاط اور جلاجل میں واضح طور پر نمایاں ہونا شروع کیا۔ مدینہ منورہ ، حائل، طائف، شقرہ اور الشعراء میں پیدل چلنے کے ٹریکس زیرغور ہیں۔ ان علاقوں میں دو قسم کے پروگرام ہیں، پہلا چیلنج کے راستے جیسے المنجور، الحضر، خشم الحصان اور اس جبلہ کے لیے ہے جبکہ دوسرا بنیادی طور پر چھوٹے اور درمیانے شہروں میں آثار قدیمہ کے مقامات کو دیکھنا اور انہیں سیاحوں کے لیے موزوں پیدل سفر کے راستوں سے جوڑنا۔ اس حوالے سے ’درب‘ کا یہ تجربہ اب تک کامیاب ہوا ہے۔

سفارتی سرگرمی اور بزرگوں کے معیار زندگی میں مدد

ایک سوال کے جواب میں سابق سفارت کار عبداللہ القویزنے کہا کہ میں نے سفارتی کام کو الوداع نہیں کیا۔ اپنے معاشی مفادات کو نہیں چھوڑا، اور بینکنگ کے کام کو اپنی پیٹھ کے پیچھے نہیں رکھا۔ میں اب بھی ایک سرمایہ کاری کمپنی کے بورڈ کا چیئرمین اور بورڈ آف گورنرز کا وائس چیئرمین ہوں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں تک اس وقت میری توجہ کا مسئلہ ہے یہ ایک مثال قائم کرتے ہوئے بزرگوں کے معیار زندگی کی حمایت کرنے پر مرکوز ہے، متعدد عناصر پر توجہ دینا ہے، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ اپنے وقت کو مفید طریقے سے کیسے گزاریں۔آپ خاندان کے زیادہ قریب ہوتے ہیں۔ ایسے میں آپ منظم جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرتے ہیں۔ آپ منفی سوچ اور حوصلہ شکنی سے دور ہوتے ہیں۔ ماضی میں آپ کا نقطہ نظر ہمیشہ مستقبل کی طرف جاتا ہے اور آپ سیکھتے ہیں ہر روز نئی چیزیں دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں